مولوی قاسم نانوتوی نے اس کتاب کے صفحہ ۳ پر لکھا،
’’اول معنی خاتم النبیین معلوم کرنے چاہئیں تاکہ فہم جواب میں کچھ دقت نہ ہو۔ سو عوام کے خیال میں تو رسول اللّٰہ صلعم کا خاتم ہونا بایں معنی ہے کہ آپ کا زمانہ انبیائے سابق کے بعد اور آپ سب میں آخر نبی ہیں،
مگر اہلِ فہم پر روشن ہوگا کہ تقدم یا تاخر میں بالذات کچھ فضیلت نہیں، پھر مقامِ مدح میں {وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ}فرمانا اس صورت میں کیونکر صحیح ہو سکتا ہے؟ہاں! اگر اس وصف کو اوصافِ مدح میں سے نہ کہیے اور اس مقام کو مقامِ مدح نہ قرار دیجیے تو البتہ خاتمیت باعتبارِ تاخر زمانی صحیح ہو سکتی ہے۔“
اس قول کے متعلق صدرُ الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں،’’پہلے تو اس قائل نے خاتم النبیین کے معنی تمام انبیاء سے زماناً متاخر ہونے کو خیالِ عوام کہا اور یہ کہا کہ اہلِ فہم پر روشن ہے کہ اس میں بالذات کچھ فضیلت نہیں۔ حالانکہ حضورِ اقدس نے خاتم النبیین کے یہی معنیٰ بکثرت احادیث میں ارشاد فرمائے۔ تو معاذ اللّٰہ! اس قائل نے حضور کو عوام میں داخل کیا اور اہلِ فہم سے خارج کیا، پھر اس نے ختمِ زمانی کو مطلقاً فضیلت سے خارج کیا حالانکہ اسی تاخر زمانی کو حضور نے مقامِ مدح میں ذکر فرمایا‘‘۔
متعدد احادیث میں آقا ومولیٰ نے اپنے فضائل میں اپنا آخری نبی ہونا ارشاد فرمایاہے۔باب دوم میں مذکور تقریباً تمام احادیث اس کی واضح دلیل ہیں۔
خصوصاً حدیث9 اور 10میں حضور کا اپنے اسماءِ مقدسہ ذکر فرمانا جن میں عاقب، حاشر اور مقفیٰ آخری نبی ہونے پر دلیل ہیں۔
حدیث 14 میں قیامت میں مومنوں کا ’’خاتم الانبیاء‘‘ بطور وصف ذکر کرنا،
حدیث15میں آپ کا ارشاد،’’ میں آخری نبی ہوں اور اس پر فخر نہیں کرتا‘‘،
حدیث 16میں فرمانِ عالیشان، ’’مجھے چھ چیزوں سے فضیلت دی گئی‘‘ ان میں آخری نبی ہونا ذکر فرمانا۔
کیا یہ سب مدح وفضیلت نہیں؟ نانوتوی صاحب نے لکھا،’’اگر بالفرض آپ کے زمانے میں بھی کہیں اور کوئی نبی ہوجب بھی آپ کا خاتم ہونا بدستور باقی رہتا ہے‘‘۔
پھر مزید لکھا،’’ اگربالفرض بعد زمانہ ٔنبوی ﷺ بھی کوئی نبی پیدا ہو توبھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا‘‘۔
مولوی قاسم نانوتوی کے مذکورہ کفریہ اقوال لکھ کر مجددِ دین وملت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں محدث قادری بریلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں،
’’مسلمانو! دیکھا اس ملعون ناپاک شیطانی قول نے ختمِ نبوت کی کیسی جڑ کاٹ دی، خاتمیت محمدیہ کی وہ تاویل گھڑی کہ خاتمیت خود ہی ختم کردی۔ صاف لکھ دیا کہ اگر حضور خاتم الانبیاء علیہ وعلیہم افضل الصلوٰۃ والثناء کے زمانے میں بلکہ حضور کے بعد بھی کوئی نبی پیدا ہو تو ختمِ نبوت کے کچھ منافی نہیں۔
اللّٰہ اللّٰہ! جس کفرِ ملعون کے موجد کو خود قرآنِ عظیم کا {خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ} فرمانا نافع نہ ہوا جیسا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا
،{وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا ھُوَ شِفَآءٌ وَّرَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ وَلَا یَزِیْدُ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّاخَسَارًا}
’’اور ہم قرآن میں اُتارتے ہیں وہ چیز جو ایمان والوں کے لئے شِفا اور رحمت ہے، اور اس سے ظالموں کو نقصان ہی بڑھتا ہے‘‘۔
اُسے احادیث میں {خَاتَمُ النَّبِیّٖنَ} فرمانا کیا کام دے سکتا ہے؟
{فَبِاَیِّ حَدِیْثٍ بَعْدَہٗ یُؤْمِنُوْنَ}
پھر اِس قرآن کے بعد اور کون سی حدیث پر ایمان لائیں گے‘‘۔

