Khatm e Nubuwat

Total Pages: 115

Page 51 of 115

اس قسم کی تحریروں نے شکوک پیدا کئے کہ کیا حضور کی مثل اور نبی بھی پیدا ہو سکتے ہیں؟اس کے جواب میں شہید تحریکِ آزادی، امام فضل حق خیرآبادی رحمہ اللہ نے ’’تحقیق الفتویٰ فی ابطال الطغویٰ‘‘ لکھ کر امت کو بتایا کہ رب تعالیٰ نے اپنے حبیب اکو وہ عظمتیں عطا کی ہیں کہ اُن کی مثل اب کوئی ایک بھی نہیں ہوسکتا۔

مولوی اسماعیل دہلوی نے یہ عقیدہ بھی مسلمانوں میں پھیلانے کی کوشش کی کہ اللّٰہ تعالیٰ جھوٹ بول سکتا ہے۔

بعد ازاں دیوبند کے مفتی ٔ اعظم رشید گنگوہی نے بھی اس عقیدہ کی تائید میں فتویٰ دیا اور لکھا،’’کذب داخل تحتِ قدرتِ باری تعالیٰ ہے‘‘۔

جبکہ اہلسنت کا عقیدہ یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کے لئے جھوٹ بولنا محال وناممکن ہے۔ واضح رہے کہ مذکورہ شاہ اسماعیل دہلوی وہی ہیں جنہوں نے بارہا اپنے جلسوں میں انگریزوں کے خلاف جہاد کو ناجائز قرار دیا تھا۔

علامہ شاہ ابولحسن زید فاروقی رحمہ اللہ کی تحقیق ہے کہ یہ کتاب انگریز نے مسلمانوں کو باہم لڑانے کے لئے پورے ہندوستان میں مفت تقسیم کرائی۔ وہ لکھتے ہیں، ’’پروفیسر محمد شجاع الدین صدر شعبہ تاریخ،دیال سنگھ کالج لاہور نے جن کی وفات ۱۹۶۵ء میں ہوئی ہے، اپنے ایک خط میں پروفیسر خالد بزمی لاہور کو لکھا ہے اور اس کا اعتراف کیا ہے کہ انگریز وں نے کتاب تقویۃ الایمان بغیر قیمت کے تقسیم کی ہے‘‘۔

علماءِ سوء کی بعض نا پاک اور کفریہ عبارات اُس وقت کے علماء حرمین شریفین کی خدمت میں پیش کی گئیں جس پر اُن علماءِ حق نے مذکورہ عبارات کے قائلین پر کفر کے فتوے صادر کئے۔

تفصیل کے لئے ملاحظہ کیجیے، حُسام الحرمین اور الصوارم الہندیہ۔ ختم نبوت اور تحذیر الناس: انگریز کی سازش سے برصغیر کے مسلمانوں میں فتنہ و فساد کا سبب بننے والی پہلی کتاب تقویۃ الایمان تھی جس کے متعلق خود اس کے مصنف نے اقرار کیا : ’’اس میں بعض جگہ ذرا تیز الفاظ بھی آگئے ہیں اور بعض جگہ تشدد بھی ہوگیا ہے

مثلاً اُن امور کو جو شرکِ خفی تھے، شرکِ جلی لکھ دیا گیا ہے۔ گویا اس سے شورش ہو گی مگر توقع ہے کہ لڑ بھڑ کر خود ٹھیک ہوجائیں گے‘‘۔

تقویۃ الایمان 1826ء میں لکھی گئی، اس کے بعد عظمتِ مصطفیٰ اور ناموسِ رسالت کو مجروح کرنے والی کئی کتابیں لکھی گئیں، جن میں ایک کتاب ’’تحذیر الناس‘‘ ہے جس نے قادیانی نبوت کا راستہ بنایا۔

ڈاکٹر خالد محمود دیوبندی نے لکھا، ’’انگریز مفکرین پادریوں کی ایک جماعت ایک خاص مقصد کے لئے ہندوستان آئی۔ ۱۸۷۰ ء میں اس وفد کے ارکان کا واپس لندن پہنچ کر اجلاس ہوا۔ ایک رپورٹ تیار ہوئی جس میں ایک ایسا آدمی تلاش کرنے پر زور دیا گیا جو اپنے ظلی نبی ہونے کا اعلان کرے ‘‘۔

انگریز کی پلاننگ کے مطابق مذکورہ اجلاس کے دو سال بعد تحذیر الناس لکھ دی گئی اور اس میں نئے نبی کا راستہ ہموار کرنے کے لئے لفظ’’ ظلی‘‘یوں استعمال کیا گیا، ’’غرض اور انبیاء میں جو کچھ ہے وہ ظل اور عکسِ محمدی ہے، کوئی کمال ذاتی نہیں‘‘۔

کتاب کی وجہ تالیف یہ ہے کہ ایک ضعیف اور شاذ روایت کی بنیاد پر بعض لوگوں نے کہا کہ زمینیں سات ہیں اور اس زمین کے علاوہ دیگر چھ زمینوں پر بھی دیگر انبیاء کرام کی طرح نبی کریم کی ایک ایک مثال موجود ہے۔ دارالعلوم دیوبند کے بانی مولوی قاسم نانوتوی نے ’’تحذیر الناس‘‘ لکھ کر قرآن و حدیث کے برخلاف اس ضعیف روایت کی تصدیق کر دی۔

گویا تقویۃ الایمان میں امام الانبیاء کی مثالوں کو ممکن کہا گیا تھا، انہوں نے بالفعل چھ مثالیں مان لیں۔ مزید ستم یہ کیا کہ خاتم النبیین کے معنی ’’آخری نبی‘‘ سمجھنا عوام کا خیال قرار دیا۔

Share:
keyboard_arrow_up