Khatm e Nubuwat

Total Pages: 115

Page 50 of 115

عظمتِ انبیاء واولیاء کے انکار کی تحریک: صدرُ الافاضل مفتی سید محمد نعیم الدین مرادآبادی رحمہ اللہ فرماتے ہیں،

’’ہر فرقہ اسی بات کا مدعی ہے کہ قرآن وحدیث کے مطابق خاص اسی کا مذہب ہے۔ رافضی، خارجی، وہابی، مرزائی وغیرہ کون اس کا دعویٰ نہیں کرتا۔

ہر ایک اپنے مدعائے باطل کی تائید میں آیات واحادیث پیش کرنے میں جَری ہے۔ مگر علمائے اسلام اُن کا فریب کھول دیتے ہیں۔ گمراہ لوگ جو دھوکا دیتے ہیں، علماء اس کو ظاہر کردیتے ہیں اس لئے ہر گمراہ یہ کوشش کرتا ہے کہ مسلمان اپنے علماء سے تعلق چھوڑیں تاکہ وہ انہیں بہکا سکے ‘‘۔

قرآن وحدیث گواہ ہیں کہ جسے علم نہ ہو، وہ علماءِ حق سے پوچھے {فَسْئَلُوْا اَھْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ}، جو مسلمانوں کا راستہ چھوڑ کر نیا راستہ چلے، وہ جہنمی ہے،{وَیَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ نُوَلِّہٖ مَا تَوَلّٰی وَنُصْلِہٖ جَھَنَّمَ}ہم ہر نماز میں جس صراطِ مستقیم پر چلنے کی دعا مانگتے ہیں وہ انبیاء، صدیقین، شہداء اور اولیاء و صالحین ہی کا راستہ ہے۔{صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ} پس جب تک مسلمان اپنی اصل یعنی علماءِ حق سے وابستہ رہیں گے وہ صراطِ مستقیم پر گامزن رہیں گے اسی لئے یہود ونصاریٰ اور ان کے ایجنٹوں نے یہ سازش کی کہ مسلمان ائمہ ٔدین کی تقلید چھوڑ دیں اور صحیح العقیدہ علماء سے تعلق توڑلیں تاکہ انہیں صراطِ مستقیم سے ہٹانا آسان ہوجائے۔

گویا انبیاء واولیاء کی عظمت کے انکار کی تحریک دراصل یہود ونصاریٰ کی سازش ہے۔ڈاکٹر اقبال نے اس سازش کا ذکر یوں کیا ہے،

وہ فاقہ کش جو موت سے ڈرتا نہیں ذرا

روحِ محمد اُس کے بدن سے نکال دو

روحِ محمد یعنی محبتِ مصطفی دلوں سے نکالنے کے لئے علماءِ سُوء نے کیا کیا جتن کئے؟

پہلے تو شاہ اسماعیل دہلوی نے رُسوائے زمانہ کتاب ’’تقویۃ الایمان‘‘ لکھی جو کہ برصغیر میں مسلمانوں کے درمیان فتنہ وفساد کا سبب بننے والی پہلی کتاب ہے۔ آپ پوری کتاب پڑھ لیجیے ،ہر مومن کا دل گواہی دے گا کہ یہ کتاب دلوں سے رسولِ معظم اور انبیاء وصالحین کی عظمت ومحبت نکالنے کے لئے ہی لکھی گئی ہے۔

اسی کتاب میں صفحہ ۱۶ پرلکھا ہے،

’’جس نے اللّٰہ کا حق اس کی مخلوق کو دیا تو بڑے سے بڑے کا حق لیکر ذلیل سے ذلیل کو دے دیا، جیسے بادشاہ کا تاج ایک چمار کے سر پر رکھ دیجیے، اس سے بڑی بے انصافی اور کیا ہوگی؟ اور یقین جان لینا چاہیے کہ ہر مخلوق بڑا ہو یا چھوٹا (یعنی نبی ہو یا غیر نبی)، وہ اللّٰہ کی شان کے آگے چمار سے بھی ذلیل ہے‘‘۔ (معاذ اللہ)

اللّٰہ تعالیٰ کے حق سے مراد اُس کا حاجات پوری کرنا،فریاد سننا، مشکلات آسان کرنا اور مدد کرنا وغیرہ ہے اور یہاں مخلوق سے مراد انبیاء اور اولیاء ہیں۔

مفہوم یہ ہے کہ جو مسلمان بڑے سے بڑے (یعنی اللّٰہ تعالیٰ) کا حق لیکر ذلیل سے ذلیل (یعنی انبیاء اور اولیاء، العیاذ باللہ)کو دیتے ہیں وہ ناانصافی کرتے ہیں۔

حالانکہ مسلمان اللّٰہ تعالیٰ کا بندہ اوراس کی دی ہوئی طاقت کا مظہر جان کر ہی انبیاء کو وسیلہ بناتے ہیں۔

آخری جملہ تو مزید لرزہ خیز ہے۔

مفہوم یہ ہے کہ ہر مخلوق بڑا ہو( یعنی انبیاء)یاچھوٹا (یعنی اولیاء) وہ اللّٰہ کی شان کے آگے چمار سے بھی ذلیل ہے۔ یعنی چمار کی پھر کوئی نہ کوئی حیثیت ہے مگر انبیاء واولیاء کی حیثیت چمار سے بھی کمتر ہے(معاذ اللہ)۔

اس کے صفحہ ۳۵پر شانِ اُلوہیت کی آڑ میں ختم نبوت کے عقیدے پر یوں ضرب لگائی گئی، ’’اس شہنشاہ کی تویہ شان ہے کہ ایک آن میں ایک حکم کُنْ سے چاہے تو کروڑوں نبی اور ولی، جن اور فرشتے، جبرائیل اور محمد کے برابر پیدا کر ڈالے‘‘۔

Share:
keyboard_arrow_up