Khatm e Nubuwat

Total Pages: 115

Page 49 of 115

’’میں نے آقا و مولیٰ کو یہ فرماتے سنا کہ تمہارے پاس یمن سے ایک شخص آئے گا جس کانام اویس بن عامر ہوگا۔ اس کو برص کی بیماری تھی جو ایک درہم کی مقدار کے سوا باقی سب ٹھیک ہو چکی ہوگی۔قرن میں اس کی والدہ کے سوا کوئی نہیں جس کے ساتھ وہ بہت بھلائی کرتے ہیں۔اگر وہ کسی بات پر اللّٰہ کی قسم کھا لیں تو اللّٰہ تعالیٰ اس کو ضرور پورا کرتا ہے۔ اگر تم سے ہو سکے تو ان سے مغفرت کی دعا کرانا‘‘۔

جب حضور نے ایک امتی اویس قرنی کی اتنی نشانیاں بیان فرمادیں تو اگر بعد میں کسی نئے نبی کو آنا ہوتا تو آپ اس کی بھی خبر ضروردیتے۔ اس کے برخلاف نبی کریم  نے عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی خبر دی اور باربار اپنے آخری نبی ہونے کا اعلان فرما کر کسی بھی قسم کے نئے نبی کی آمد کا راستہ ہمیشہ کے لئے بند فرما دیا۔

باب پنجم قادیانی فتنہ کا پس منظر:

انگریزوں نے مسلمانوں سے ہندوستان کی حکومت چھینی تھی اس لئے انہوں نے اقتدار سنبھالتے ہی مسلمانوں کو قتل کرنا شروع کیا۔ چونکہ مجاہدِ اہلسنت حضرت علامہ فضل حق خیرآبادی رحمہ اللہ نے انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ دیا تھا جس کے نتیجے میں مسلمانوں نے ۱۸۵۷ ء میں جنگِ آزادی لڑی تھی۔اس لئے انگریز حکومت نے علامہ فضل حق خیرآبادی رحمہ اللہ کو سزا میں کالا پانی بھیج دیا۔مولانا کفایت اللّٰہ کافی، مولانا احمداللّٰہ شاہ مدراسی اور دیگر کئی سُنّی علماء کو پھانسی دے دی گئی۔ ہندوستان پر مکمل طور پر قبضہ کرنے کے بعد انگریزوں نے دو وفد بنائے، ایک صحافیوں کا اور دوسرا پادریوں کا۔

اور ان سے کہا کہ پورے ہندوستان کا دورہ کرو اور مسلمانوں کے عقائد ونظریات کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کروکہ انہیں کیونکر قابو کیا جاسکتا ہے۔ہندوستان کا دورہ کرنے کے بعدوائٹ ہال لندن میں انہوں نے اپنی رپورٹ پیش کی جس میں کہا گیا کہ مسلمانوں کی دو باتیں بڑی اہم ہیں۔ ایک یہ کہ مسلمان کسی غیر مسلم حکومت کے زیرِ تسلط نہیں رہ سکتے اور اس کے خلاف جہاد کا نظریہ رکھتے ہیں۔

نیز جب ان کے علماء جہاد کا اعلان کریں تو یہ اپنے مال وعیال کی پرواہ کئے بغیر اپنی جان تک قربان کرنے کے لئے تیار ہوجاتے ہیں۔

دوسری بات یہ کہ مسلمان پیروں ،ولیوں کے ماننے والے ہیں۔ انہیں قابو کرنے کی ایک ہی صورت ہے ، وہ یہ کہ ایک ایسا شخص تیار کیا جائے جو ہمارا وفادار ہواور وہ ظلی نبوت کا دعویٰ کرے۔ کسی مسلمان کو اس قسم کے دعوے کے لئے تیار کرنا ہی بنیادی کام ہے۔ جب ایسا غدار مل جائے تو ہم اس کی نبوت کو پروان چڑھائیں۔ پھر اس جھوٹے نبی کے ذریعے مسلمانوں کے دلوں سے جذبۂ جہاد ختم کروایا جائے ۔

1799ء میں ٹیپو سلطان کی شہادت کے بعد سے ہی انگریز اس منصوبے پر عمل پیرا ہوچکے تھے کہ مسلمانوں میں انتشار پیدا کرنے کے لئے علماءِ سوء کو خریدا جائے اور پھر اُن مفاد پرست علماء سے ایسی کتابیں لکھوائیں جائیں جن کے ذریعے مسلمانوں کے نبی کی عظمت کو متنازعہ بنا کر ان کے دلوں سے نبی کی محبت نکالی جاسکے ، تاکہ مسلمان امت کئی حصوں میں تقسیم ہو جائے۔

چنانچہ انگریز نے بعض علماءِ سُوء کو رسولِ معظم سید عالم کی عظمت اورخصائص و کمالات کے انکارکی تحریک پیدا کرنے کے لئے استعمال کیاجس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان علماءِ سوء کی ساری علمی کاوشیں آقا ومولیٰ کے علمِ غیب اور قدرت واختیار کے انکار اور اُنہیں محض اپنے جیسا بشر ثابت کرنے پر صَرف ہونے لگیں۔

جبکہ دوسری طرف مرزا قادیانی نے پہلے مجدد پھر مہدی، پھر مسیح موعود اور آخر میں نبی ہونے کا دعویٰ کر کے انگریز کے ایجنڈے کی تکمیل کی۔

Share:
keyboard_arrow_up