Khatm e Nubuwat

Total Pages: 115

Page 48 of 115

خلاصہ یہ ہے کہ یہ آیت ان لوگوں کے رد میں نازل ہوئی جوامامُ الانبیاء سے پہلے نبیوں کو آخری نبی سمجھتے تھے۔جب قرآن مجید نے حضور کو خاتم النبیین فرما دیا تو اب آپ آخری نبی ہیں ، آپ کے بعد کوئی نبی نہیں، نہ ظلی نہ بروزی۔

{وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِیْلِ لَاَخْذَنَا مِنْہُ بِالْیَمِیْنِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْہُ الْوَتِیْنَ  فَمَا مِنْکُمْ مِّنْ اَحَدٍ عَنْہُ حٰجِزِیْنَo}

’’اور اگر وہ ہم پر ایک بات بھی بنا کر کہتے، تو ہم ان سے قوت کے ساتھ بدلہ لیتے، پھر ان کی رگِ دل کاٹ دیتے، پھر تم میں کوئی ان کا بچانے والا نہ ہوتا‘‘۔

(الحاقۃ:۴۴-۴۷) قادیانی ان آیات کی آڑ لیکر مسلمانوں کو دھوکہ دیتے ہیں کہ اگر مرزا قادیانی سچا نبی نہ ہوتا اور اللّٰہ تعالیٰ کی طرف غلط وحی منسوب کرتا تو ان آیات کے مطابق اس کی شہ رگ کاٹ دی جاتی اور اللّٰہ تعالیٰ اسے اُسی وقت ہلاک کردیتا۔ چونکہ ایسا نہیں ہوا لہٰذا ثابت ہوا کہ مرزا سچا نبی تھا(معاذ اللہ)۔

پہلے ان آیات کا سیاق وسباق دیکھ لیجیے۔خاتم الانبیاءکی وحی سن کر کفار کبھی یہ کہتے کہ یہ شاعر یا کاہن ہیں اور کبھی کہتے کہ اپنی طرف سے باتیں گھڑ کر انہیں اللّٰہ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ ان آیات سے پچھلی آیات میں حضور کے شاعر اور کاہن ہونے کی نفی فرمائی گئی اور ان آیات میں فرمایا گیا کہ ہمارا نبی ہمارے کلام میں کسی قسم کی ملاوٹ نہیں کرتا۔

اگر بالفرضِ محال وہ کوئی بات اپنی طرف سے ہماری طرف منسوب کر دے تو ہم اسی وقت اس کی شہ رگ کاٹ دیں۔ اب حقیقت واضح ہوگئی کہ یہ آیات سچے نبی کے لئے ہیں، جھوٹا تو ہوتا ہی جھوٹا ہے۔ وہ نبوت کا دعویٰ کرے یا خدائی کا، اللّٰہ تعالیٰ بے نیاز ہے۔ کیا فرعون اور نمرود نے خدائی کا دعویٰ نہیں کیا؟ کیا مسیلمہ کذاب ، اسود عنسی وغیرہ نے نبوت کے جھوٹے دعوے نہیں کئے؟ان میں سے کس کی شہ رگ کاٹی گئی۔

اسی طرح مرزا کذاب کو بھی ڈھیل دی گئی۔ یہ الگ بات ہے کہ مذکورہ جھوٹوں کی طرح مرزا کذاب کی موت بھی عبرت ناک ہوئی۔ بیشک رب کی پکڑ بہت سخت ہے۔

قادیانی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے اس ارشاد کوبھی پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا، ’’حضور کو خاتم الانبیاء کہو، مگر یہ نہ کہو کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں‘‘۔

اول تو یہ قول بلا سند ہے اس لئے اسے صحیح احادیث کے مقابل قبول نہیں کیا جا سکتا۔ علامہ سیوطی رحمہ اللہ نے تفسیر دُرِّ منثور میں اس روایت کو مصنف ابن ابی شیبہ کے حوالے سے نقل کیا ہے حالانکہ مصنف ابن ابی شیبہ میں مذکورہ روایت کہیں موجود نہیں ہے لہٰذایہ روایت قابلِ اعتبار نہیں۔ اس کے برخلاف مصنف ابن ابی شیبہ میں کئی جگہ {لاَ نَبِیَّ بَعْدِیْ}والی حدیث موجود ہے۔

دوم یہ کہ اگر اس کو صحیح مانا جائے تو مفہوم یہ ہوگا کہ حضور خاتم الانبیاء ہیں کیونکہ آپ کے بعد کوئی شخص نبوت کے منصب پر فائز نہیں ہوگا، مگر یہ نہ کہو کہ آپ کے بعد کوئی نبی بھی نہیں آئے گا کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائیں گے۔ الحمدللّٰہ! اس روایت سے ہمارے مذہب ہی کی تائیدہوتی ہے اور کسی صورت بھی قادیانی ا س سے اپنا باطل مذہب ثابت نہیں کرسکتے۔غیب بتانے والے آقا ومولیٰ نے مستقبل کے حوالے سے بھی ضروریاتِ دین سے متعلق کوئی چیز مبہم نہیں چھوڑی۔ آپ نے ہر صدی کے آخر میں ایک مجددکی خبر دی، امام مہدی اور دجال وغیرہ کی خبر دی۔اہلِ عقل ودانش کے لئے ایک حدیث پیشِ خدمت ہے۔ حضرت عمر کی حضرت اویس قرنیص سے ملاقات ہوئی تو ان سے فرمایا،

Share:
keyboard_arrow_up