Khatm e Nubuwat

Total Pages: 115

Page 47 of 115

قادیانی کہتے ہیں کہ اس دوسری آیت کا مطلب یہ ہے کہ’’ اور نبی بھی آئیں گے جو ابھی ان سے نہیں ملے‘‘۔

یہ بھی بدترین تحریف ہے۔ جواباً تین باتیں عرض ہیں۔

اول: {مِنْھُمْ} کی ضمیر{الْاُمِّیّٖنَ} کی طرف لوٹتی ہے۔ اگر قادیانیوں کے بقول {اٰخِرِیْنَ} سے مراد نبی ہیں تو پھر ان نبیوں کو اہلِ عرب سے ہونا چاہیے۔ اس طرح مرزا کذاب کا مسئلہ تو پھر بھی حل نہیں ہوگاکیونکہ وہ {مِنْھُمْ}نہیں ہے۔

دوم:{اٰخِرِیْنَ} تو جمع ہے۔ اگر تمہارے نزدیک {اٰخِرِیْنَ} سے مراد نبی ہیں تو پھر چودہ سو سال میں صرف ایک مرزا قادیانی ہی کیوں؟

سوم:یہ آیت مرزا قادیانی کے دعویٔ نبوت کا جھوٹ اور باطل ہونا ثابت کر رہی ہے۔ وہ اس طرح کہ اس میں ذکر ہے کہ رسول کریم اپنے زمانے کے لوگوں کے بھی رسول ہیں اور اُن لوگوں کے بھی جو اُن کے بعد میں آئیں گے۔اب اگر کوئی یہ کہے کہ آپ کے بعد بھی کسی رسول کا آنا ممکن ہے تو پھر اس نئے رسول پر ایمان لانے والوں کے لئے آپ رسول نہیں ہونگے جو کہ اس آیت کے خلاف ہے۔ پس ثابت ہوا کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ، کوئی رسول نہیں۔

{اَللّٰہُ یَصْطَفِیْ مِنَ الْمَلٰٓئِکَۃِ رُسُلًا وَّمِنَ النَّاسِ}

’’اللہ چُن لیتا ہے فرشتوں میں سے رسول اور آدمیوں میں سے‘‘۔

قادیانی کہتے ہیں کہ اس آیت میں {یَصْطَفِیْ} فعل مضارع ہے۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اللّٰہ آئندہ بھی رسول چنتا رہے گا۔ اس کاتحقیقی جواب تو یہ ہے کہ یہ آیت اُن کفار کے رد میں نازل ہوئی جنہوں نے کسی بشر کے رسول ہونے کا انکار کیا تھا۔ مستقبل کے معنی یہاں اس لئے نہیں لئے جاتے کہ ختمِ نبوت والی آیات ایسا کرنے سے مانع ہیں۔

الزامی جواب یہ ہے کہ تم یہ مانتے ہو کہ تشریعی نبوت حضور پر ختم ہوچکی اور آپ کے بعد تشریعی نبی آناممکن نہیں۔اسی لئے تم مرزا کو غیر تشریعی نبی کہتے ہو۔ تم یہ بتاؤ کہ اگر تمہاری بات مان لی جائے تو پھر ہر قسم کی نبوت کا جاری رہنا ثابت ہوجائے گاجو تمہارے مذہب کے بھی خلاف ہے۔ اب تمہارا کیا جواب ہے؟

اب تم یہی کہو گے کہ حضور خاتم النبیین ہیں، اس بناء پر

{ یَصْطَفِیْ} میں مستقبل کے معنی تشریعی نبوت کے متعلق نہیں لئے جائیں گے۔ہم کہتے ہیں کہ اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے جو نبوت عطا ہوتی تھی وہ تشریعی ہی تھی۔ تم جو ظلی اوربروزی کی تقسیم کرتے ہو، قرآن وحدیث میں ان کا کہیں ذکر نہیں۔

{وَّاَنَّھُمْ ظَنُّوْا کَمَا ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ یَّبْعَثَ اللّٰہُ اَحَدًا} ’’

اور یہ کہ انہوں نے گمان کیا جیسا تمہیں گمان ہے کہ اللّٰہ ہرگز کوئی رسول نہ بھیجے گا‘‘۔ قادیانی کہتے ہیں کہ اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ ختمِ نبوت کا عقید ہ ٹھیک نہیں ہے۔ تمہاری طرح پہلے لوگوں کا بھی گمان تھا کہ اللّٰہ کوئی رسول نہیں بھیجے گا مگر اس نے رسول بھیجے۔

جواباً عرض ہے کہ اس آیت کا سیاق وسباق ہی دیکھ لیا ہوتا تو شاید اس قدر تحریف کی جرأت نہ ہوتی۔یہ سورۃ الجن کی ساتویں آیت ہے۔اس سورت کا شانِ نزول یہ ہے کہ جنوں کے ایک گروہ نے نبی کریم کا قرآن کریم تلاوت کرنا سنا اور ایمان لائے۔

ان جنوں نے اپنی قوم سے جو گفتگو کی، یہ آیت اس کا حصہ ہے۔ وہ مومن جن اپنی قوم سے کہہ رہے ہیں: انہوں نے یعنی کفارِ قریش نے گمان کیا کہ اللّٰہ ہرگز کوئی رسول نہ بھیجے گا جیسا کہ اے جنات! تمہیں بھی گمان ہے۔تمہارا گمان غلط ہے۔حضرت محمد مصطفی کی نبوت حق ہے۔ پھر ان جنوں نے نبی کریم کی نبوت کے دلائل وشواہد بیان کئے جن کا اگلی آیات میں ذکر ہے۔

Share:
keyboard_arrow_up