67: آقا کریم ﷺ کے دست اقدس میں سنگریزے بھی تسبیح کہتے تھے۔
(خصائص الکبری، ج2، ص116، دلائل النبوۃ، ج1، ص218، حدیث نمبر:185)
68: رحمت عالم ﷺ کی برکت سے سست جانور تیز رفتار ہوجاتے تھے۔
(مدارج النبوۃ،ج 1، ص36)
69: احد پہاڑ نے حرکت کی پھر آقا و مولیٰ ﷺ کے حکم سے ساکن ہوگیا۔
(بخاری، ج12، ص19، حدیث نمبر:3410)
70: آپ کی پھینکی ہوئی مشت بھر خاک سب کافروں کی آنکھوں میں پہنچ گئی۔
(مسلم، ص758، حدیث نمبر: 4619)
71: آقا و مولیٰ ﷺ کے حکم سے درخت زمین پر چلتے تھے۔
(سنن ترمذی،ج 8، ص382، حدیث نمبر:2299)
72: آپ ﷺ کی مبارک انگلیوں سے پانی کے چشمے جاری ہوئے۔
(بخاری، ج3، ص1310، حدیث نمبر:3383، ومسلم،ج3، ص1483، حدیث نمبر:1856)
73: آپ ﷺ کی دعا سے ڈوبا ہوا سورج پلٹ آیا۔
(کتاب الشفاء،ج 1،ص284)
74: آپ ﷺ کی دعا سے سورج ایک پہر اپنی جگہ ٹھہرا رہا۔
(کتاب الشفاء،ج 1،ص285 )
75: آپ ﷺ نے انگلی کے اشارے سے چاند کے دو ٹکڑے کر دئیے۔
(بخاری،ج 11، ص467،حدیث نمبر:3364)
76: آپ ﷺ کی ایک ضرب سے مضبوط چٹان ریزہ ریزہ ہوگئی۔
(بخاری،ج 13،ص5، حدیث نمبر:3792)
77: آپ ﷺ کی دعا سے حضرت جابر رضی اللّٰہ عنہ کے مردہ بچے زندہ ہوگئے۔
(مواہب اللدنیہ،ج 1، ص321)
78: آقا کریم ﷺ نے ایک مردہ لڑکی کو زندہ فرما دیا۔
(خصائص کبری،ج2، ص103)
79: آقا و مولیٰ ﷺ نے ذبح شدہ بکری کو زندہ فرما دیا۔
(خصائص کبری،ج2، ص104)
80: حضور ﷺ کے وسیلے سے مردہ شخص زندہ ہو گیا۔
(شرح زرقانی، ج7، ص63)
81: خیبر میں زہر آلود گو شت نے خود آپ ﷺکو زہر کے بارے میں بتا دیا۔
(سنن ابی داؤد،ج 12، ص100، حدیث نمبر:3913)
82: ایک نوزائیدہ بچے نے آقا ﷺ کی رسالت کی شہادت دی۔
(شرح زرقانی، ج7، ص66)
83: صحابہ کرام حضورِ اکرم ﷺ کے کھانے کی تسبیح سنتے تھے۔
(خصائص الکبری، ج2، ص116، دلائل النبوۃ، ج1، ص218، حدیث نمبر:185)
84: آقا ومولیٰ ﷺ نے غزوہ موتہ میں شہید ہونے و الے صحابہ کرام کی مدینہ طیبہ میں ہی خبر دے دی۔
(بخاری، ج5،ص61،حدیث نمبر:1222)
85: آقا و مولیٰ ﷺ نے نجدی فتنہ کے ظہور کی خبر دی۔
(بخاری، ج2، ص261،حدیث نمبر:442، مسلم ،ج 3، ص1368، حدیث نمبر:1749)
86: حضور اکرم ﷺ زمین اور آسمانوں کی سب باتیں جانتے ہیں۔
(کتاب الشفاء، ج1، ص80)
87: سرکارِ دو عالم نورِ مجسم ﷺ نے صحابہ کرام کو ماکان ما یکون یعنی جو کچھ ہو چکا اور جو ہوگا، سب کی خبر دے دی۔
(مسلم ، ج4، ص2049،حدیث نمبر:2660)
88: غیب بتا نے والے آقا ﷺ کی فرمائی ہوئی تمام پیشن گوئیاں پوری ہوئیں۔
(بخاری ، ج1، ص313،حدیث نمبر:178)
89: آپ نے ابتدائے تخلیق سے لے کر جنتیوں کے جنت اور دوزخیوں کے دوزخ میں داخل ہونے تک کے سارے حالات بیان فرما دئیے۔
(بخاری،ج 1، ص37،حدیث نمبر:21)
90: تمام انبیاء کرام کی طرح حضور ﷺ بھی اپنے روضۂ انور میں زندہ ہیں۔
(ابن ماجہ، ج3، ص386، حدیث نمبر:1075- التذکرۃ فی احوال الموتی، ج1، ص 211)
91: حضور نبی کریم ﷺ اپنے روضۂ مطہرہ میں اذان و اقامت کے ساتھ نماز ادا فرماتے ہیں۔
(سنن الدارمی، ج1، ص56، حدیث نمبر:93)
92: حضور ﷺ کی بارگاہ میں امت کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں۔
(زرقانی علی الموا ھب،ج7،ص373،انموذج اللبیب ،ص230)
93: حضور ﷺ اپنے امتیوں کے دلوں کے احوال بھی جانتے ہیں۔
(بخاری، ج1،ص162، حدیث نمبر:409)
94: شاہد و شہید آقا کریم ﷺ مدینہ طیبہ سے حوض کوثر ملاحظہ فرماتے ہیں۔
(بخاری ، ج1، ص451، حدیث نمبر:1279)
95: حضور ﷺ وہ کچھ سن لیتے ہیں جو دوسرے لوگ نہیں سن سکتے۔
(ترمذی ، ج8، ص288، حدیث نمبر:2234)
96: آپ تمام درود پڑھنے والوں کے درود کی آواز سنتے ہیں۔
(جلاء الافہام، ص127)
97: نبی کریم ﷺ اہل محبت کا درود خصوصی توجہ سے سنتے ہیں۔
(مطالع المسرات شرح دلائل الخیرات ، ص9)
98: حضور اکرم ﷺ سب کے سلام کا جواب دیتے ہیں۔
(مسنداحمد،ج21، ص439، حدیث نمبر:10395)
99: آپ ﷺ وہ کچھ دیکھتے ہیں جو دوسرے لوگ نہیں دیکھ سکتے۔
(ترمذی ، ج8، ص288، حدیث نمبر:2234)
100: آقا ﷺ پشت اطہر کی جانب سے سامنے کی طرح دیکھتے تھے۔
(بخاری، ج1،ص162، حدیث نمبر:409)

