Jamal e Mustafa

Total Pages: 118

Page 100 of 118

101: آقائے دو جہاں رحمتِ عالم رات کے اندھیرے اور دن کی روشنی میں یکساں دیکھتے تھے۔
(
خصائص کبری للسیوطی، ج1،ص104 ، شرح زرقانی، ج5،ص263، 264)

102: حضور کی آنکھیں سوتی تھیں لیکن قلب اقدس بیدار رہتا تھا۔
(بخاری، ج4، ص319، حدیث نمبر:1079)

103: آقا و مولیٰ کائنات کو اپنی ہتھیلی کی طرح ملاحظہ فرما رہے ہیں۔
(کتاب الفتن، ج1، ص27، حدیث نمبر:2)

104: نماز میں آقا و مولیٰ کو مخاطب کر کے سلام بھیجنا واجب ہے۔
(بخاری، ج3، ص330، حدیث نمبر:788)

105: حضور اکرم  کو تمام خزانوں کی کنجیاں عطا فرمادی گئیں۔
(بخاری ، ج1، ص451، حدیث نمبر:1279)

106: اللّٰہ تعالیٰ کی تمام نعمتیں آپ ہی تقسیم فرماتے ہیں۔
(بخاری، ج1، ص39، حدیث نمبر: 71، ومسلم، ج6، ص2667، حدیث نمبر:6882 )

107: آقا و مولیٰ جسے چاہیں جنت عطا فرمائیں۔
(بخاری ، ج6، ص453،حدیث نمبر:1758، مسلم ،ج1، ص40، حدیث نمبر:11)

108: صحابہ کرام حضور کے تبرکات کے حصول کے لیے کوشاں رہتے۔
(بخاری ، ج1، ص80،حدیث نمبر:185)

109: رحمت عالم اپنے تبرکات خود بھی صحابہ کو عطا فرمایا کرتے۔
(مسلم، ج1، ص55، حدیث نمبر:27)

110: صحابہ مشکل وقت میں اپنے آقا کا وسیلہ اختیار کرتے تھے۔
(مشکوۃ، ج3، ص294، حدیث نمبر:5950)

111: آقا و مولیٰ  کے تبرکات سے صحابہ کرام علیہم الرضوان شفا اور برکت حاصل کرتے تھے۔
(مسلم،ج3، ص1641، حدیث نمبر: 2069)

112: صحابہ کرام آقا و مولیٰ کی بارگاہ میں حاجتیں پیش کیا کرتے اور آپ ان کی حاجت روائی فرماتے۔
(ترمذی، ج11، ص497، حدیث نمبر:3502، مستدرک، ج1، ص458، حدیث نمبر:1180)

113: صحابہ کرام آپ کے موئے مبارک زمین پر نہ گرنے دیتے بلکہ حصول برکت کے لیے محفوظ کرتے۔
(مسلم ،ج2، ص947، حدیث نمبر:1305 )

114: صحابہ کرام آقا کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کا لعاب دہن اور وضو کا مستعمل پانی اپنے چہرے اور بدن پر مل لیتے۔
(بخاری ، ج1، ص80،حدیث نمبر:185)

115: بارگاہ رسالت میں فریاد کرنے سے اور آقا کریم کا وسیلہ اختیار کرنے سے مشکل آسان ہوتی۔
(مشکوۃ، ج3، ص294، حدیث نمبر:5950) ، (بخاری، ج4، ص1505، حدیث نمبر:3876)

116: آقا کریم کے وسیلے سے دعا کرنے اور ’’یا رسول اللّٰہ‘‘ پکارنے پر اللّٰہ تعالیٰ نے ایک نابینا صحابی کو آنکھیں عطا فرما دیں۔
(ترمذی، ج11، ص497، حدیث نمبر:3502، مستدرک، ج1، ص458، حدیث نمبر:1180)

117: حضور رحمتِ عالم نے ایک گونگے کو قوت گویائی اور ایک نابینا کو آنکھیں عطا فرما دیں۔
(کتاب الشفاء،ج1،ص322)

118: حضورِ اکرم کی عطا کردہ لکڑی تلوار بن گئی۔
(کتاب الشفاء، ج1،ص333)

119: آپ نے حضرت جریر رضی اللّٰہ عنہ کو قوت قلب عطا فرمائی۔
(بخاری،ج 2،ص 316، حدیث نمبر: 3020، دار الکتب العلمیہ)

120: آپ ﷺ  نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ کو حافظہ عطا فرمایا۔
(ترمذی،ج 12، ص323،حدیث نمبر:3770)

121: آقا ومولیٰ  نے سلمہ بن اکوع رضی اللّٰہ عنہ کی ٹوٹی ہوئی پنڈلی جوڑ دی۔
(بخاری ، ج4، ص1541، حدیث نمبر:3969)

122: حضور    نے عبد اللّٰہ بن عتیک رضی اللّٰہ عنہ کی ٹوٹی ہوئی پنڈلی بھی جوڑ دی۔
(بخاری، ج12، ص433، حدیث نمبر:3734)

123: رحمت عالم  نے اپنے صحابی کا کٹا ہوا بازو بھی جوڑ دیا۔
(کتاب الشفاء،ج1،ص322)

124: حضور    نے قتادہ رضی اللّٰہ عنہ کی نکلی ہوئی آنکھ دوبارہ روشن فرما دی۔
(کتاب الشفاء،ج1،ص322)

125: رحمت عالم نے لا علاج مریضوں کو شفا عطا فرمائی۔
(اصابہ،ج1، ص23)

126: آپ نے ایک صحابی کے سر پر ہاتھ پھیر دیا، جب بھی وہ اپنے سر پر ہاتھ پھیر کر کسی کے ورم زدہ حصے پر ملتے تو ورم اتر جاتا۔
(بخاری،ج 13، ص106، حدیث نمبر:3884)

127: آپ کے موئے مبارک کی وجہ سے خالدبن ولید رضی اللّٰہ عنہ فتح پاتے تھے۔
(مستدرک، ج3، ص338، حدیث نمبر:5299)

128: حضور نبی کریم کی خدمت اقدس میں بارہا جانوروں نے سجدہ کیا۔
(مسند احمد،ج 35،ص446، حدیث نمبر:16909)

129: رحمت عالم کے دستِ اقدس کی برکت سے دودھ نہ دینے والی بکریاں بھی دودھ دینے لگیں۔
(دلائل النبوۃ،ج 1، ص58، حدیث نمبر:46)

Share:
keyboard_arrow_up