130: بدر کے دن جبرائیل علیہ السلام اور فرشتوں نے مسلمانوں کی مددکی۔
(بخاری،ج 3،ص 17، حدیث نمبر: 3995 ، دار الکتب العلمیہ)
131: نبی کریم ﷺ نے جنگ سے پہلے ہی کافروں کے قتل ہونے کی جگہوں کی نشاندہی فرما دی۔
(مسلم ،ج3، ص1403،حدیث نمبر:1779)
132: نبی کریم ﷺ کی بارگاہ کے گستاخ و مرتد کو بارہا دفن کیا گیا مگر زمین نے اسے قبول نہ کیا۔
(مشکوٰۃ، ج3، ص391، حدیث نمبر:5940)
133: رسولِ معظم سیدِ عالم ﷺ کی دعا پر درود یوارنے آمین کہا۔
(خصائص کبری،ج 1، ص152)
134: آقا و مولیٰ رحمتِ عالم ﷺ کی ہر بات پوری ہوتی ہے۔
(شمائل ترمذی، ص183، حدیث نمبر:223)
135: حضورِ اکرم نورِ مجسم ﷺ جنتی اور جہنمی کو پہچانتے ہیں۔
(بہار شریعت، حصہ اول، ص172،170موخوذا)
136: حضورِ اکرم ﷺ کے اسم مبارک پر اپنا نام رکھنا دنیا اور آخرت میں رحمت و حفاظت ہے۔
(مدارج النبوۃ،ج1، ص324)
137: حضور آقا کریم ﷺ کی کنیت رکھنا ٹھیک نہیں۔
(خصائص کبری،ج 2، ص298)
138: صحابہ کرام کے ایک وفد نے حضور ﷺ کے ہاتھوں اور پاؤں کو بوسہ دیا۔
(سنن ابی داؤد،ج 13، ص455، حدیث نمبر:4547)
139: آپ ﷺ کی زبانِ اقدس سے ہر حالت میں ہمیشہ حق ہی نکلتا ہے۔
(شمائل ترمذی، ص183، حدیث نمبر:223)
140:مختارِ کل حبیب کبریا ﷺ شریعت کے مالک و مختار ہیں۔
(بخاری، ج5، ص124، حدیث نمبر:1258، مسلم ، ج1، ص371، حدیث نمبر:523)
141: آپ جسے چاہیں، شریعت کے کسی قانون سے مستثنیٰ فر ما دیں۔
(شفا، ج1، ص124)
142: رسولِ معظم ﷺ کا حرام فرمایا ہوا اللّٰہ تعالیٰ ہی کے حرام فرمائے ہو ئے کی مثل ہے۔
(بخاری، ج1، ص39، حدیث نمبر: 71، ومسلم، ج6، ص2667، حدیث نمبر:6882)
143: آقا کریم علیہ السلام جو امع الکلم کے ساتھ مبعوث ہوئے۔
(بخاری،ج 21، ص379، حدیث نمبر:379، حدیث نمبر:6496، مسلم،ج 1،ص371، حدیث نمبر:523)
144: رعب کے ذریعے حضور نبی کریم ﷺ کی مدد کی گئی۔
(خصائص الکبری،ج 1، ص397)
145: سید الانبیاء حضور اکرم ﷺ کے لیے اموالِ غنیمت حلال کیے گئے۔
(بخاری، ج14، ص94 ، حدیث نمبر:4225)
146: حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وسیلے سے آپ ﷺ کی امت پر پچاس کی بجائے پانچ نمازیں فرض ہوئیں۔
(بخاری،ج 2، ص80، حدیث نمبر:336، مسلم ، ج1، ص149، حدیث نمبر:164)
147: معراج کی رات آقا و مولیٰ ﷺ کا سینہ مبارک چاک کرکے اسے ایمان سے بھر دیا گیا۔
(بخاری،ج 2، ص80، حدیث نمبر:336، مسلم ،ج 1، ص148، حدیث نمبر:163)
148: سید عالم ﷺ نے آسمانوں میں سابقہ انبیاء کرام سے ملاقاتیں کیں۔
(بخاری،ج 2، ص80، حدیث نمبر:336، مسلم ، ج1، ص149، حدیث نمبر:164)
149: شب معراج آقا و مولیٰ ﷺ جنت میں بھی تشریف لے گئے۔
(بخاری،ج 2، ص80، حدیث نمبر:336، مسلم ، ج1، ص149، حدیث نمبر:164)
150: کفار کے اعتراض کر نے پر حضور ﷺ پر بیت المقدس ظاہر فرما دیا گیا اور آپ نے دیکھ کر وہاں کی خبریں دیں۔
(بخاری، ج14، ص317، حدیث نمبر:4341)
151: رسولِ معظم نورِ مجسم ﷺ کے لیے دو قبلوں، دو ہجرتوں اور شریعت و طریقت کو جمع فرما دیا گیا۔
(خصائص کبری،ج 2، ص285)
152: آقا و مولیٰ ﷺ کو پا نچ نمازوں، اذان ، اقامت، جماعت اور جمعہ سے سر فراز کیا گیا۔
(مواہب اللدنیہ،ج 10، ص481)
153: ما ہ رمضان ، سحری، تعجیل افطار، ساعتِ قبو لیت، شبِ قدر، عید الاضحی اور عرفہ کا روزہ آپ ﷺ کے خصائص ہیں۔
(خصائص کبری،ج 2، ص308)
154: آقا ﷺ پر اور آپ کے اہل بیت پر صدقہ اور زکوٰۃ حرام ہے۔
(خصائص کبری،ج 2، ص350)
155: رسولِ معظم نورِ مجسم ﷺ پر زکوٰۃ فرض نہ تھی۔
(خصائص کبری،ج 2، ص350،351)
156: آپ ﷺ کے لیے حالتِ احرام میں خوشبو جائز تھی۔
(خصائص کبری،ج 2، ص344)
157: حضورِ اکرم ﷺ کو حالتِ احرام میں نکاح جائز تھا۔
(خصائص کبری،ج 2، ص349)
158: مکہ میں بغیر احرام کے داخل ہونا صرف آپ ﷺ کو جائز تھا۔
(خصائص کبری،ج 2، ص349)
159: مکہ میں جنگ و قتال کرنا بھی صرف آپ ﷺکو جائز تھا۔
(خصائص کبری،ج 1، ص360)
160: آپ ﷺ کا نکاح ولی اور گواہ کے بغیر بھی جائز ہے۔
(خصائص کبری،ج 2، ص344)
161: حضورﷺ کے لیے زرہ پہن کر بغیر جنگ کیے اسے اُتارنا جائز نہیں تھا۔
(خصائص الکبری، ج1، ص360)

