162: آقا و مولیٰ ﷺ کو دنیا ہی میں مغفرت کی خوشخبری دی گئی۔
(بخاری، ج1، ص33، حدیث نمبر:19، مسلم، ج1، ص186، حدیث نمبر:194)
163: ملک الموت صرف آپ ﷺ کے پاس آپ کی اجازت سے حاضر ہوا۔
(خصائص کبری،ج 2، ص284)
164: آقا و مولیٰ ﷺ کو دیگر انبیاء کرام علیہم السلام کی طرح زندگی اور وفات کا اختیار دیا گیا۔
(خصائص کبری،ج 2، ص285)
165: نبی کریم ﷺ کے وصال کے وقت خیبر والے زہر کا اثر بھی لوٹا یا گیا تاکہ آپ کو شہادت کا مرتبہ بھی حاصل ہو۔
(بخاری، ج3،ص152، حدیث نمبر: 4428)
166: حضور اکرم ﷺ کی نمازِ جنازہ بغیر امامت کے ادا کی گئی۔
(مدارج النبوۃ،ج 1، ص511)
167: آقا ومولیٰ ﷺ کو وصالِ ظاہری کے تین دن بعد دفن کیا گیا۔
(مدارج النبوۃ،ج 1، ص510)
168: سرکارِ دو عالم ﷺ کی لحد شریف میں مخملی چادر بچھائی گی۔
(مدارج النبوۃ،ج 1، ص512)
169: حضور ﷺ نے بعد وصال اجازت دی تو سیدنا صدیق اکبر رضی اللّٰہ عنہ کو آپ کے پہلو میں دفن کیا گیا۔
(خصائص کبری،ج 2، ص419)
170: صحابہ کرام نے اپنی حاجت روائی کے لیے آقا و مولیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے روضۂ اقدس کو وسیلہ بنایا۔
(تفسیر ابن کثیر، ج3،ص142)
171: جنگ یمامہ کے موقع پر صحابۂ کرام رضی اللّٰہ عنہم کا نعرہ یا محمداہ (یا رسول اللّٰہ مدد کیجیے) تھا۔
(فتوح الشام ،ج1، ص20)
172: سیدنا آدم علیہ السلام نے قبولِ توبہ کے لیے سید عالم ﷺکا وسیلہ پیش کیا تو ان کی توبہ قبول ہوئی۔
(مستدرک، ج2، ص671،حدیث نمبر:4227)
173: رحمت عالم ﷺ وجہِ تخلیق آدم و کائنات ہیں۔
(مستدرک، ج2، ص671،حدیث نمبر:4228، خصائص کبری،ج 1، ص10، دلائل النبوۃ ، ج 6، ص116، حدیث نمبر:2243)
174: حضور ﷺ ہر مرنے والے کی قبر میں جلوہ گر ہو تے ہیں پھر آپ کے بارے میں سوال ہوتا ہے۔
(بخاری، ج5، ص113، حدیث نمبر:1252، مسلم،ج 4، ص2200، حدیث نمبر:2870)
175: نبی کریم ﷺ نے اپنی مقبول دعا کو شفاعت کی صورت میں محفوظ کر لیا ہے۔
(بخاری، ج19، ص360، حدیث نمبر:5829)
176: آقا و مولیٰ ﷺ قیامت کے دن بھی تمام اولاد آدم کے سردار ہونگے۔
(مسلم، ج4،ص1782، حدیث نمبر:2278، ترمذی،ج 10، ص422، حدیث نمبر:3073)
177: آپ ﷺ سب سے پہلے قبر سے باہر تشریف لائیں گے۔
(ترمذی،ج 10، ص422، حدیث نمبر:3073)
178: قیامت کے دن آپ ﷺ کا منبر حوض کوثر پر ہوگا۔
(بخاری، ج4، ص386، حدیث نمبر:1121، مسلم، ج2، ص1011، حدیث نمبر:1391)
179: آقا و مولیٰ ﷺ سے سچی محبت کرنے والا قیامت میں آپ ہی کے ساتھ ہوگا۔
(بخاری،ج5،ص2282،حدیث نمبر:5816، ومسلم، ج4، ص2034، حدیث نمبر:2640)
180: قیامت کے دن سب سے پہلے شافع محشر ﷺ شفاعت فرمائیں گے۔
(بخاری،ج4، ص1624، حدیث نمبر:4206، و مسلم، ج1، ص445، حدیث نمبر:284)
181: سب سے پہلے آپ ﷺ کی شفاعت قبول کی جائے گی۔
(بہار شریعت، حصہ اول، ص140)
182: سرکارِ دو عالم ﷺ سب سے پہلے پل صراط کو عبور کریں گے۔
(مسلم ،ج1،ص186،حدیث نمبر:195، ترمذی،ج 1، ص186،حدیث نمبر:195)
183: آپﷺ سب سے پہلے جنت کا دروازہ کھلوائیں گے۔
(مسلم ،1، ص188، حدیث نمبر:196)
184: جنت میں سب سے پہلے آقا و مولیٰ ﷺ ہی داخل ہونگے۔
(ترمذی،ج 12،ص57،حدیث نمبر:3544)
185: قیامت کے دن حضور ﷺ کو لواء الحمد(حمد کا جھنڈا)عطا ہوگا۔
(ترمذی،ج 12،ص56،حدیث نمبر:3543)
186: قیامت میں سوائے آقا علیہ السلام کے نسب کے ہر نسب ختم ہو جائے گا۔
(مواہب اللدنیہ،ج 4،ص341)
187: سرکارِ دو عالم نورِ مجسم ﷺ کی بیٹی سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللّٰہ عنہا جنتی عورتوں کی سردار ہیں۔
(ترمذی،ج 12،ص251،حدیث نمبر:3714)
188: حضور نبی کریم ﷺ کے بعد سیدتنا فاطمۃ الزہرا رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا جنت میں داخل ہوں گی۔
(خصائص کبری،ج 2،ص339)
189: آپ کے پیارے نواسے سیدنا حسن و سیدنا حسین رضی اللّٰہ عنہما انبیاء کرام کے سوا جنتی جوانوں کے سردار ہیں۔
(ترمذی،ج 12، ص238،حدیث نمبر:3701)
190: آپ کی بیٹی فاطمہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا کے ہوتے ہوئے سیدنا علی کرم اللّٰہ وجہہ کو دوسرا نکاح جائز نہ تھا۔
(بخاری،ج 12،ص69،حدیث نمبر:3450)
191: حضورِ اکرم ﷺ کے تمام صحابہ کرام عادل اور متقی ہیں۔ ان کو برا کہنے والا لعنت کا مستحق ہے۔
(ترمذی،ج 12،ص361،حدیث نمبر:3796)

