192: آقا و مولیٰ ﷺ کے اہل بیت عظام اور صحابہ کرام علیہم الرضوان کی محبت اُمت پر واجب ہے۔
(خصائص کبری،ج 2،ص394)
193: مالکِ کل، ختم الرسل ﷺ کی امت کے اولیاء کرام اعلیٰ کمالات اور کرامات والے ہیں۔
(بخاری، ج20،ص158،حدیث نمبر:6021)
194: آقا ﷺ کے صحابہ نے گھوڑوں پر سوار ہو کر دریائے دجلہ کو عبور کیا۔
(دلائل النبوۃ،ج 2،ص136،حدیث نمبر:506)
195: آپ کی امت سابقہ امتوں سے عمل میں کم اور اجر میں زیادہ ہے۔
(بخاری،ج 9،ص379،حدیث نمبر:2597)
196: آپ کی امت کے اعضاءِ وضو قیامت میں چمکتے ہوں گے۔
(مشکوٰۃ،ج 1،ص62،حدیث نمبر:290)
197: آپ ﷺ کی امت تمام انبیاء کرام کی امتوں سے زیادہ ہے۔
(مشکوٰۃ،ج 3،ص252،حدیث نمبر:5732)
198: آپ ﷺ کے ستر ہزار امتی بلا حساب جنت میں جائیں گے۔
(بخاری، ج17،ص473،حدیث نمبر:5270)
199: آپ ﷺ کے تمام غلام جنت میں داخل کیے جائیں گے۔
(بخاری، ج22،ص448،حدیث نمبر:6886)
200: آپ ﷺ کی امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر رہے گا۔
(بخاری، ج22،ص286،حدیث نمبر: 6767، صحیح مسلم، ج1،ص137،حدیث نمبر:156)
باب ہفتم
محسنِ اعظم ﷺ
احساناتِ مصطفی ﷺ :
جیسا کہ ابتداء میں بیان کیا گیا کہ انسان کا کسی سے محبت کرنا تین وجوہات کی بنا پر ہوتا ہے۔
اول: اُس کے حسن و جمال کی وجہ سے
دوم : اُس کے حسنِ اخلاق کی وجہ سے
سوم: اُس کے انعام واحسان کی وجہ سے۔ ؎
محبوبِ حقیقی آقائے دو جہاں ﷺ کے حسن و جمال اور حسنِ اخلاق و سیرت کے بارے میں تفصیل سے گفتگو کی جا چکی، نیز نبی کریم ﷺ کے خصائص و کمالات بھی قرآن و حدیث کی روشنی میں بیان کیے گئے۔
اب ہم آقا و مولیٰ ﷺ کے انعام و احسان کے متعلق گفتگو کرتے ہیں جسے عشق و محبت کا تیسرا اہم سبب قرار دیا گیا ہے۔
قرآن حکیم نے حضور ﷺ کی دنیا میں تشریف آوری کو اللّٰہ تعالیٰ کا احسان عظیم قرار دیا ہے۔
ارشادِ باری تعا لیٰ ہے،
’’بے شک اللّٰہ کا بڑا احسان ہوا مسلمانوں پر کہ اُن میں اُنہیں میں سے ایک رسول بھیجا ‘‘۔
(پارہ نمبر: 3، سورۃ آل عمران، آیت نمبر:164)
پھر حضور ﷺ کے احسانات بیان فرمائے،
”جو اُن پر اس کی آیتیں پڑھتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور اُنہیں کتاب و حکمت سکھاتا ہے‘‘۔
(پارہ نمبر: 3، سورۃ آل عمران، آیت نمبر:164)
صرف یہی نہیں بلکہ رب تعالیٰ کی تمام نعمتیںرحمت عالم ﷺ ہی کے وسیلے سے تقسیم ہوتی ہیں۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے،
’’اور اُنہیں کیا برا لگا، یہی نہ کہ اللّٰہ اور رسول نے انہیں اپنے فضل سے غنی کر دیا ہے‘‘۔
(پارہ نمبر: 10، سورۃ التوبۃ، آیت نمبر: 74)
ایک اور جگہ اللّٰہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا،
’’اللّٰہ نے اسے نعمت دی اور (اے محبوب!) تم نے اسے نعمت دی‘‘۔
(پارہ نمبر: 22، سورۃ الاحزاب ، آیت نمبر:37)
آقا و مولیٰ ﷺ کے قاسم نعمت ہو نے کا واضح ثبوت صحیح بخاری کی یہ حدیث پاک بھی ہے جس میں ارشادِ نبوی ہے،
’’بے شک میں تقسیم کرنے والا ہوں اور اللّٰہ تعالیٰ دینے والا ہے‘‘۔
شیخ الاسلام مجددِ دین و ملت اعلیٰ حضرت امام شاہ احمد رضا خاں قادری بریلو ی قدس سرہٗ سرکارِ دو عالم ﷺ کے بے شمار احسانات میں سے چند کو یوں بیان فرماتے ہیں،
سچی بات سکھاتے یہ ہیں
سیدھی راہ چلاتے یہ ہیں
ٹوٹی آسیں بندھاتے یہ ہیں
چھوٹی نبضیں چلاتے یہ ہیں
جلتی جانیں بجھاتے یہ ہیں
روتی آنکھیں ہنساتے یہ ہیں
اپنی بنی ہم آپ بگاڑیں
کون بنائے بناتے یہ ہیں
لاکھ بلائیں کروڑوں دشمن
کون بچائے بچاتے یہ ہیں
رنگِ بے رنگوں کا پردہ
دامن ڈھک کر چھپاتے یہ ہیں
نزعِ روح میں آسانی دیں
کلمہ یاد دلاتے یہ ہیں
مرقد میں بندوں کو تھپک کر
میٹھی نیند سلاتے یہ ہیں
سَلِّمْ سَلِّمْ کی ڈھارس سے
پل سے پار چلاتے یہ ہیں

