192: آقاومولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے اہل بیت عظام اور صحابہ کرام علیہم الرضوان کی محبت اُمت پر واجب ہے۔()
193: مالکِ کل، ختم الرسل صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی امت کے اولیاء کرام اعلیٰ کمالات اور کرامات والے ہیں۔()
194: آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے صحابہ نے گھوڑوں پر سوارہو کر در یائے د جلہ کو عبور کیا۔()
195: آپ کی امت سابقہ امتوں سے عمل میں کم اور اجر میں زیادہ ہے۔()
196: آپ کی امت کے اعضا ء ِوضو قیامت میں چمکتے ہوں گے۔()
197: آپ اکی امت تمام انبیا ء کرام کی امتو ں سے زیا دہ ہے۔ ()
198: آپ اکے ستر ہزار امتی بلا حساب جنت میں جائیں گے۔()
199: آپ اکے تمام غلام جنت میں داخل کیے جائیں گے۔()
200: آپ اکی امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر رہے گا۔()
٭٭٭٭
باب ہفتم
محسنِ اعظم
صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم
احساناتِ مصطفیصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم:
جیسا کہ ابتداء میں بیان کیا گیا کہ انسا ن کا کسی سے محبت کرنا تین وجوہات کی بنا پر ہو تا ہے۔
اول: اُس کے حسن و جمال کی وجہ سے
دوم :اُس کے حسنِ اخلاق کی وجہ سے
سوم: اُس کے انعام واحسا ن کی وجہ سے۔
محبوبِ حقیقی آقا ئے دو جہا ں صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے حسن و جمال اورحسنِ اخلاق و سیرت کے بارے میں تفصیل سے گفتگو کی جا چکی،نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے خصائص و کمالات بھی قرآن و حدیث کی روشنی میں بیان کیے گئے۔ اب ہم آقاومولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے انعام و احسان کے متعلق گفتگو کرتے ہیں جسے عشق و محبت کا تیسرا اہم سبب قرار دیا گیاہے۔
قرآن حکیم نے حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی دنیا میں تشریف آوری کو اللہ تعا لیٰ کا احسان عظیم قرار دیا ہے۔ ارشادِ باری تعا لیٰ ہے،’’بے شک اللہ کا بڑا احسان ہوا مسلمانوں پر کہ اُن میں اُنہیں میں سے ایک رسول بھیجا ‘‘۔()
پھر حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے احسا نات بیان فرما ئے ، ”جو اُن پر اس کی آیتیں پڑھتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور اُنہیں کتاب و حکمت سکھا تا ہے‘‘۔()
صرف یہی نہیں بلکہ رب تعا لیٰ کی تمام نعمتیں رحمت عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ہی کے وسیلے سے تقسیم ہوتی ہیں۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے، ’’اور اُنہیں کیا برا لگا،یہی نہ کہ اللہ اور رسول نے انہیں اپنے فضل سے غنی کر دیا ہے‘‘۔()
ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا، ’’اللہ نے اسے نعمت دی اور (اے محبوب!) تم نے اسے نعمت دی‘‘۔()
آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے قاسم نعمت ہو نے کا واضح ثبوت صحیح بخاری کی یہ حدیث پا ک بھی ہے جس میں ارشادِ نبوی ہے،
’’بے شک میں تقسیم کرنے والا ہوں اور اللہ تعا لیٰ دینے والا ہے‘‘۔
شیخ الاسلام مجد دِدین و ملت اعلیٰ حضرت امام شاہ احمد رضاخاں قادری بریلو ی قدس سرہٗ سرکارِدو عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے بے شمار احسانات میں سے چند کو یوں بیان فرما تے ہیں،
سچی بات سکھاتے یہ ہیں
سیدھی راہ چلاتے یہ ہیں
ٹوٹی آسیں بندھاتے یہ ہیں
چھوٹی نبضیں چلاتے یہ ہیں
جلتی جانیں بجھاتے یہ ہیں
روتی آنکھیں ہنساتے یہ ہیں
اپنی بنی ہم آپ بگاڑیں
کون بنائے بناتے یہ ہیں
لاکھ بلائیں کروڑوں دشمن
کون بچائے بچاتے یہ ہیں
رنگِ بے رنگوں کا پردہ
دامن ڈھک کر چھپاتے یہ ہیں
نزعِ روح میں آسانی دیں
کلمہ یاد دلاتے یہ ہیں
مرقد میں بندوں کو تھپک کر
میٹھی نیند سلاتے یہ ہیں
سَلِّمْ سَلِّمْ کی ڈھارس سے
پل سے پار چلاتے یہ ہیں
Page 103 of 120

