Jamal e Mustafa

Total Pages: 118

Page 104 of 118

اپنے بھرم سے ہم ہلکوں کا
پلہ   بھاری   بناتے   یہ  ہیں

 

ماں جب اکلوتے کو چھوڑے
آ  آ  کہہ  کے  بلاتے  یہ   ہیں

 

باپ جہاں بیٹے سے بھاگے
لطف وہاں فرماتے یہ ہیں

 

ٹھنڈا ٹھنڈا میٹھا میٹھا
پیتے ہم ہیں پلاتے یہ ہیں

 

اِنَّا                    اَعْطَیْنٰکَ               الْکَوْثَر
ساری کثرت پاتے یہ ہیں

 

قصر دنیٰ تک کس کی رسائی
جاتے   یہ   ہیں   آتے   یہ    ہیں

 

رب ہے معطی یہ ہیں قاسم
رزق اُس کا ہے کھلاتے یہ ہیں

 

اُس کی بخشش اِن کا صدقہ
دیتا وہ ہے دلاتے یہ ہیں

 

اُن کے نام کے صدقے جس سے
جیتے ہم ہیں جِلاتے یہ ہیں

 

دافع یعنی حافظ و حامی
دفع بلا فرماتے یہ ہیں

 

شافع نافع رافع دافع
کیا کیا رحمت پاتے یہ ہیں

 

اُن کا حکم جہاں میں نافذ
قبضہ کل پہ رکھاتے یہ ہیں

 

قادرِ کل کے نائبِ اکبر
کُن کا رنگ دکھاتے یہ ہیں

 

اُن کے ہا تھ میں ہر کنجی ہے
مالکِ کل کہلاتے یہ ہیں

 

کہہ دو رضاؔ سے خوش ہو خوش رہ
مژدہ رضا کا سناتے یہ ہیں

 

امام قاضی عیاض مالکی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں،

نبی کریم کا امت پر شفقت و رحمت فرمانا ، انہیں عذاب سے دور رکھنے کیلئے تدابیر اختیار فرمانا، آپ کا مومنوں پر رؤف ورحیم ہونا، ساری کا ئنات کے لیے رحمت بن کر تشریف لانا، امت کو خوشخبری دینا، ڈر سنانا، اور اللّٰہ تعالیٰ کی طرف بلانا، آپ کا کتاب و حکمت کی تعلیم دینا، لو گوں کا تزکیۂ نفس فرمانا اور انہیں راہِ حق کی تلقین فرمانا وغیرہ۔

اب کون سا احسان ہے جو قدر و منزلت میں رحمتِ عالم کے احسانات سے بڑھ کر ہو گا اور کون سا فائدہ ہے جو آپ کے پہنچائے ہو ئے فائدہ سے زیادہ نفع دے سکتا ہے؟

حضور ہی کی ذات ہدایت کا ذریعہ ہے۔ آپ ہی نے گرے ہوؤں کو سہارا دیا، آپ ہی نے جہالت و گمراہی کی تاریک وادیوں سے نکال کر فلاح و نجات کا راستہ دکھایا، آپ اللّٰہ عزوجل تک وسیلہ بنے، شفاعتِ کبریٰ کے منصب پر فائز ہو ئے اور امت مسلمہ کو شفاعت کا مژدہ سنایا۔ آپ ہی بارگاہِ الٰہی میں امت کے شفیع و گواہ ہیں، آ پ کو بقائے دائمی اور نعیم سرمدی عطا ہوئی اور آپ کے صدقے میں آپ کی امت کو بھی یہ اعزاز نصیب ہوا۔

ان دلائل سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ حضور اکرم  ہی کی ذاتِ اقدس شرعاً حقیقی محبت کی حقدار ہے اور فطری و طبعی طور پر بھی محبت کے لائق ہے۔
(کتاب الشفاء، ج1،ص233)

 

شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ بھی ایسے ہی دلائل نقل کر کے فرماتے ہیں،

’’انسان کی عادت ہے کہ جو ایک دو بار اس پر احسان کرتا ہے اور کوئی فانی نعمت اسے دیتا ہے یا کسی نقصان سے بچاتا ہے، وہ اس کا احسان مند ہو کر اس سے محبت کرنے لگتا ہے تو وہ اُس بے مثل و بے مثال ذاتِ اقدس سے کیوں نہ محبت کرے جس نے اسے ہدایت و نجات عطا فرمائی، ابدی و سرمدی نعمتوں سے نوازا اور دائمی ہلاکت و عذاب سے محفوظ فرمایا۔

اور یہ بھی انسان کی عادت ہے کہ وہ حسین و جمیل صورت اور اچھی سیرت و بہترین اخلاق کو محبوب رکھتا ہے تو وہ کیوں نہ اُس رحیم و کریم ذاتِ اقدس سے محبت کرے جس کا حسن و جمال تمام مخلوق کے حسن و جمال کا جامع اور جس کا فضل و کمال تمام اقسام کے فضل و کمال پر حاوی ہے۔

پس ثابت ہوا کہ سرکارِ اقدس سب سے زیادہ محبت کے موجب و مستحق ہیں کیونکہ آپ کے ساتھ ہماری محبت ہماری جانوں، مالوں اور اولاد و اقربا سے کہیں زیادہ ہے (اورہو نی چاہیے)، اور جو کوئی بھی اخلاص کے ساتھ رسولِ معظم پر ایمان لایا ہے، اُس کا وجدان آپ کی محبت سے خالی نہیں ہوا ہے‘‘۔
(مدارج النبوۃ،ج 1،ص368)

Share:
keyboard_arrow_up