Jamal e Mustafa

Total Pages: 120

Page 105 of 120
جان ہے عشقِ مصطفی، روز فزوں کرے خدا:
جانِ جاں، جانِ جہاں، جانِ ایماں، سرورِ کون و مکاںصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمسے محبت کا سب سے اعلیٰ درجہ صحابہ کرام علیہم الرضوان کو نصیب ہوا، اور نگاہ ِمصطفی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے فیضان سے ہی صحابہ کرام آسمانِ ہدایت کے درخشاں ستارے بن گئے۔ آقاومولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا ارشاد ہے،’’میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں، ان میں سے جس کی بھی پیروی کروگے ہدایت پاؤگے‘‘۔()
صحابہ کرام علیہم الرضوان اپنے آقاومولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمسے کیسی محبت رکھتے تھے، اس حوالے سے چند احادیث ملاحظہ فرمائیں۔
صحابہ کرام بارگاہِ نبوی میں نہا یت تعظیم و ادب سے اس طرح بیٹھتے کہ گو یا ان کے سروں پر چڑیاں بیٹھی ہوئی ہیں۔ اگر حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے ساتھ کھانے کا موقع آتا تو ادب کے باعث کھانے میں پہل نہ کرتے۔()
صحابہ کرام آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے وضو کا پا نی اور تھوک مبارک اپنے ہا تھوں پر لے کر اپنے چہرے اور بدن پر مل لیتے۔()
صحابہ کرام آقا علیہ الصلوٰۃُوالسلام کے تبرکا ت کی حفاظت وتعظیم کرتے اور ان سے برکت حاصل کرتے، آپ کے موئے مبارک کئی صحابہ کرام نے محفوظ کیے۔
حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا موئے مبارک دھوکر اس کا پانی مریضوں کو دیتیں۔()
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکا جبہ مبارک دھو کر بیماروں کو پلاتیں تو وہ شفا پاتے۔()
حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا ایک پیالہ حضرت انس رضی اللہ عنہکے پا س،ایک حضرت سہل رضی اللہ عنہ کے پاس اور ایک پیالہ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے پاس محفو ظ تھا۔()
آقاومولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے جن کپڑوں میں وصال فرمایا، انہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے محفو ظ کرلیا تھااور وہ ان کی زیارت بھی کرا تی تھیں۔()
ایک بار رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے ابو مخد ورہ رضی اللہ عنہ کے سر کے اگلے حصے پر دست شفقت پھیر دیا تو انہوں نے تمام عمر پیشانی کے بال نہ کٹوائے۔()
غزوۂ بدر میں ایک صحابیہ کو حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے اپنے دستِ اقدس سے ہار پہنا یا تھا، انہوں نے ساری عمر اس ہا ر کو گلے سے جد انہ کیا اور انتقال کے وقت وصیت کی کہ اس ہار کو بھی ان کے ساتھ دفن کردیا جائے۔()
ایک دن آپ نے اُم سلیم رضی اللہ عنہا کے مشکیز ے کو منہ اقدس لگا کر پا نی پیا تو انہوں نے مشکیز ے کے دہانے کو کاٹ کر بطور تبرک محفوظ کرلیا۔()
حضرت کردم رضی اللہ عنہ نے حجۃ الو داع کے موقع پر آپ کی زیارت کی تو قدم مبارک چوم لیے۔ اسی طرح جب وفدِ عبدا لقیس نے بارگا ہ اقد س میں حاضری دی تو سب نے سبقت کرتے ہوئے آپ کے ہاتھ اور پاؤں مبارک کو بو سے دیے۔()
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ہاتھ کو بوسہ دیا اور فرمایا، ہمیں اہل بیتِ نبوت کے احترام کا حکم دیا گیا ہے۔()
صحابہ کرام آقاومولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم پر اپنی جانیں قربان کر نے کے لیے تیار رہتے۔ بخاری میں ہے کہ غزوۂ بدر کے موقع پر ایک صحابی نے اپنے جذبۂ محبت کی ترجمانی یو ں کی،
’’پیارے آقا !ہم مو سیٰ علیہ السلام کی قوم کی طرح نہیں جنہوں نے کہا تھا ، تم اور تمہارا خدا دونوں جا کرلڑو،بلکہ ہم آپ کے دائیں بائیں آگے پیچھے ہر طرف سے لڑیں گے‘‘۔()
حضرت زید بن دثنہرضی اللہ عنہ کو جب کفار نے دھو کے سے قید کر لیا اورقتل کے لیے ارادہ کیا تو ابوسفیان نے حضرت زید سے پو چھا،’’اے زید !میں تم کو خدا کی قسم دے کر پو چھتا ہوں، کیا تمہیں پسند ہے کہ اس وقت یہاں تمہاری جگہ محمد(صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم )ہوں جن کو ہم قتل کردیں اورتم آرام سے اپنے گھر میں بیٹھو‘‘۔
Share:
keyboard_arrow_up