Jamal e Mustafa

Total Pages: 118

Page 105 of 118

جان ہے عشقِ مصطفی، روز فزوں کرے خدا:

جانِ جاں، جانِ جہاں، جانِ ایماں، سرورِ کون و مکاں  سے محبت کا سب سے اعلیٰ درجہ صحابہ کرام علیہم الرضوان کو نصیب ہوا، اور نگاہِ مصطفی کے فیضان سے ہی صحابہ کرام آسمانِ ہدایت کے درخشاں ستارے بن گئے۔

آقا و مولیٰ کا ارشاد ہے،

’’میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں، ان میں سے جس کی بھی پیروی کرو گے ہدایت پاؤ گے‘‘۔ (مشکوٰۃ،ج 3،ص310،حدیث نمبر:6009)

 

صحابہ کرام علیہم الرضوان اپنے آقا و مولیٰ سے کیسی محبت رکھتے تھے، اس حوالے سے چند احادیث ملاحظہ فرمائیں۔

صحابہ کرام بارگاہِ نبوی میں نہا یت تعظیم و ادب سے اس طرح بیٹھتے کہ گویا ان کے سروں پر چڑیاں بیٹھی ہوئی ہیں۔

اگر حضور کے ساتھ کھانے کا موقع آتا تو ادب کے باعث کھانے میں پہل نہ کرتے۔
(خصائص الکبری، ج2، ص172)

 

صحابہ کرام آقا و مولیٰ کے وضو کا پانی اور تھوک مبارک اپنے ہا تھوں پر لے کر اپنے چہرے اور بدن پر مل لیتے۔
(بخاری ، ج1، ص80،حدیث نمبر:185)

 

صحابہ کرام آقا علیہ الصلوٰۃُ و السلام کے تبرکات کی حفاظت و تعظیم کرتے اور ان سے برکت حاصل کرتے، آپ کے موئے مبارک کئی صحابہ کرام نے محفوظ کیے۔

حضرت اُم سلمہ رضی اللّٰہ عنہا موئے مبارک دھو کر اس کا پانی مریضوں کو دیتیں۔
(بخاری، ج18،ص255،حدیث نمبر:5446)

 

حضرت اسماء رضی اللّٰہ عنہا آقا و مولیٰ کا جبہ مبارک دھو کر بیماروں کو پلاتیں تو وہ شفا پاتے۔
(مسلم،ج3، ص1641، حدیث نمبر: 2069)

 

حضورِ اکرم  کا ایک پیالہ حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ کے پا س، ایک حضرت سہل رضی اللّٰہ عنہ کے پاس اور ایک پیالہ حضرت عبداللّٰہ بن سلام رضی اللّٰہ عنہ کے پاس محفوظ تھا۔
(بخاری،ج 22،ص321،حدیث نمبر:6796)

 

آقا و مولیٰ نے جن کپڑوں میں وصال فرمایا، انہیں حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا نے محفوظ کرلیا تھا اور وہ ان کی زیارت بھی کراتی تھیں۔
(سنن ابی داؤد، ج11،ص57،حدیث نمبر:3518)

 

ایک بار رحمتِ عالم  نے ابو مخدورہ رضی اللّٰہ عنہ کے سر کے اگلے حصے پر دست شفقت پھیر دیا تو انہوں نے تمام عمر پیشانی کے بال نہ کٹوائے۔
(کتاب الشفاء، ج2، ص 56)

 

غزوۂ بدر میں ایک صحابیہ کو حضور ﷺ   نے اپنے دستِ اقدس سے ہار پہنایا تھا، انہوں نے ساری عمر اس ہار کو گلے سے جدا نہ کیا اور انتقال کے وقت وصیت کی کہ اس ہار کو بھی ان کے ساتھ دفن کر دیا جائے۔
(مسند احمد، ج55،ص110،حدیث نمبر:25885)

 

ایک دن آپ نے اُم سلیم رضی اللّٰہ عنہا کے مشکیزے کو منہ اقدس لگا کر پانی پیا تو انہوں نے مشکیزے کے دہانے کو کاٹ کر بطور تبرک محفوظ کر لیا۔
(طبقات کبری،ج 8،ص428)

 

حضرت کردم رضی اللّٰہ عنہ نے حجۃ الو داع کے موقع پر آپ کی زیارت کی تو قدم مبارک چوم لیے۔

اسی طرح جب وفدِ عبد القیس نے بارگاہِ اقدس میں حاضری دی تو سب نے سبقت کرتے ہوئے آپ کے ہاتھ اور پاؤں مبارک کو بو سے دیے۔ (سنن ابی داؤد، ج13، ص457، حدیث نمبر:4548)

 

حضرت زید بن ثابت رضی اللّٰہ عنہ نے حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ عنہما کے ہاتھ کو بوسہ دیا اور فرمایا،

ہمیں اہل بیتِ نبوت کے احترام کا حکم دیا گیا ہے۔ (کتاب الشفاء، ج2،ص50)

 

صحابہ کرام آقا و مولیٰ ﷺ    پر اپنی جانیں قربان کر نے کے لیے تیار رہتے۔

 

بخاری میں ہے کہ:

غزوۂ بدر کے موقع پر ایک صحابی نے اپنے جذبۂ محبت کی ترجمانی یوں کی، ’’پیارے آقا ! ہم مو سیٰ علیہ السلام کی قوم کی طرح نہیں جنہوں نے کہا تھا ، تم اور تمہارا خدا دونوں جا کر لڑو، بلکہ ہم آپ کے دائیں بائیں آگے پیچھے ہر طرف سے لڑیں گے‘‘۔
(بخاری ،ج 14،ص127،حدیث نمبر:4243)

 

حضرت زید بن دثنہ رضی اللّٰہ عنہ کو جب کفار  نے دھوکے سے قید کر لیا اور قتل کے لیے ارادہ کیا تو ابو سفیان  نے حضرت زید سے پوچھا، ’’اے زید !میں تم کو خدا کی قسم دے کر پوچھتا ہوں، کیا تمہیں پسند ہے کہ اس وقت یہاں تمہاری جگہ محمد ہوں جن کو ہم قتل کر دیں اور تم آرام سے اپنے گھر میں بیٹھو‘‘۔

آپ نے جواب دیا،’’اللّٰہ عزوجل کی قسم! میں تو یہ بھی پسند نہیں کرتا کہ آقا و مولیٰ اس وقت جس جگہ بھی تشریف فرما ہیں وہاں انہیں ایک کانٹا بھی چبھنے کی تکلیف ہو اور میں آرام سے اپنے گھر میں بیٹھا رہوں‘‘۔

یہ سن کر ابو سفیان نے کہا،

’’میں نے لو گوں میں کسی کو نہیں دیکھا کہ وہ کسی دوسرے سے ایسی محبت رکھتے ہوں جیسی محمد  کے اصحاب ان سے محبت رکھتے ہیں‘‘۔ پھر انہیں شہید کردیا گیا۔ (کتاب الشفاء، ج2،ص23)

Share:
keyboard_arrow_up