Jamal e Mustafa

Total Pages: 118

Page 106 of 118

بعض صحابہ طہارت کے بغیر آقا سے مصافحہ کرنا پسند نہ فرماتے۔

 

ایک دن حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ کو غسل کی حاجت تھی۔ اسی حالت میں مدینہ طیبہ کے ایک راستہ پر حضور کو تشریف لاتے دیکھا تو کترا کر نکل گئے پھر غسل کرکے خدمت میں حا ضر ہوئے۔

آپ نے فرمایا،

تم کہاں چلے گئے تھے؟ عرض کی، میں پاک نہ تھا اس لیے آپ سے مصافحہ کرنا گوارا نہ کیا۔
(سنن ابی داؤد،ج 1،ص292،حدیث نمبر:200)

 

نبی کریم  کے وصالِ ظاہری کے وقت شمع رسالت کے پروانوں کی کیفیت ایک شخص نے اہل عمان سے یہ بیان کی کہ میں مدینہ والوں کو ایسے حال میں چھوڑ کر آیا ہوں کہ ان کے سینے دیگچی میں ابلتے ہوئے پانی کی طرح کھول رہے ہیں۔ (اصابہ،ج1، ص349)

 

حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ:

آقا و مولیٰ ﷺ  کا وصال ہوا تو مدینہ طیبہ کی ہر چیز تاریک ہوگئی۔
(ترمذی،ج 12،ص64،حدیث نمبر:3551)

 

سرکارِ دو عالم نورِ مجسم ﷺ  کے وصال ظاہری کے بعد جب آپ کی یاد آتی تو صحابہ کرام علیہم الرضوان بے اختیار رو پڑتے۔

 

ایک بار حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ عنہما نے فرمایا،

جمعرات کس قدر سخت تھا، پھر آپ زار و قطار رونے لگے۔ وجہ پوچھنے پر فرمایا، اسی دن آقا ﷺ   کے مرض الوصال میں شدت آئی تھی۔ (مسلم ،ج 3،ص1257،حدیث نمبر:1637)

 

حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ عنہما جب آقا کریم کا ذکر فرماتے تو ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے۔

ان ایمان افروز واقعات کو بار بار پڑھیے اور اپنے دل میں عشقِ مصطفی کی شمع روشن کیجئے کہ بغیر اس کے ایمان کامل نہیں ہوسکتا۔

 

علامہ یو سف نبہانی امام قرطبی کے حوالے سے فرما تے ہیں کہ: ’’جو شخص بھی نورِ مجسم  پر کامل طور پر ایمان لاتا ہے اس کے دل میں حضور علیہ السلام کی محبت ضرور موجود ہوتی ہے۔

بعض کی محبت اعلیٰ درجے کی ہوتی ہے اور بعض کی ادنیٰ درجے کی۔

بعض لوگ شہوات میں غرق ہو تے ہیں اور ان کی آنکھوں پر غفلت کا پردہ پڑا رہتا ہے جبکہ کئی لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ وہ حضور کا اسم گرامی سن کر اہل و عیال اور مال و متاع چھوڑنے پر آمادہ ہوجاتے ہیں اور خطرناک آزمائشوں کی بھی پرواہ نہیں کرتے۔

ان میں بعض لو گ ایسے بھی ہو تے ہیں جو آقا کے روضہ مبارک اور آپ سے منسوب مقدس مقامات کی زیارت کو تمام متاع دنیا پر تر جیح دیتے ہیں کیونکہ ان کے دلوں میں سرکار ابد قرار کی تعظیم و محبت و جلوہ گر ہوتی ہے البتہ یہ محبت مسلسل غفلتوں کی وجہ سے جلدی زوال پذیر ہوتی ہے۔

پس ضروری ہے کہ ہر مسلمان کے دل میں اللّٰہ عزوجل اور رسول اللّٰہ کی محبت موجود رہے کیونکہ یہ ایمان کی ضروری شرط ہے‘‘۔ (انوار محمدیہ،ص502)

Share:
keyboard_arrow_up