آپ نے جواب دیا،’’اللہ عزوجل کی قسم !میں تو یہ بھی پسند نہیں کرتا کہ آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلماس وقت جس جگہ بھی تشریف فرماہیں وہاں انہیں ایک کانٹا بھی چبھنے کی تکلیف ہو اور میں آرام سے اپنے گھر میں بیٹھا رہوں‘‘۔
یہ سن کر ابو سفیان نے کہا،’’میں نے لو گوں میں کسی کو نہیں دیکھا کہ وہ کسی دوسرے سے ایسی محبت رکھتے ہوں جیسی محمد(صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم) کے اصحاب ان سے محبت رکھتے ہیں‘‘۔
پھر انہیں شہید کردیا گیا۔()
بعض صحابہ طہارت کے بغیر آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمسے مصافحہ کرنا پسند نہ فرماتے۔ ایک دن حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہکو غسل کی حاجت تھی۔اسی حالت میں مدینہ طیبہ کے ایک راستہ پر حضو ر صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو تشریف لاتے دیکھا تو کترا کر نکل گئے پھر غسل کر کے خدمت میں حا ضر ہوئے۔آپ نے فرمایا، تم کہاں چلے گئے تھے؟ عرض کی، میں پاک نہ تھا اس لیے آپ سے مصافحہ کرنا گوار انہ کیا۔()
نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے وصالِ ظاہری کے وقت شمع رسالت کے پر وانوں کی کیفیت ایک شخص نے اہل عما ن سے یہ بیان کی کہ میں مدینہ والوں کو ایسے حال میں چھو ڑکر آیا ہوں کہ ان کے سینے دیگچی میں ابلتے ہوئے پا نی کی طرح کھو ل رہے ہیں۔()
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آقاومولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا وصال ہوا تو مدینہ طیبہ کی ہر چیز تاریک ہوگئی۔ ()
سرکارِ دوعالم نورِ مجسم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے وصال ظاہری کے بعد جب آپ کی یاد آتی تو صحابہ کرام علیہم الرضوان بے اختیار رو پڑتے۔ ایک بار حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا، جمعرات کس قدر سخت تھا، پھر آپ زار و قطار رونے لگے۔ وجہ پو چھنے پر فرمایا، اسی دن آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے مرض الو صال میں شدت آئی تھی۔ ()
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما جب آقاکریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکا ذکر فرماتے تو ان کی آنکھو ں سے آنسو جاری ہو جاتے۔
ان ایمان افروز واقعات کو بار بار پڑھیے اور اپنے دل میں عشقِ مصطفی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی شمع روشن کیجئے کہ بغیر اس کے ایمان کا مل نہیں ہو سکتا۔
علامہ یو سف نبہانی امام قرطبی کے حوالے سے فرما تے ہیں کہ:
’’جو شخص بھی نور ِمجسم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم پرکامل طور پر ایمان لا تا ہے اس کے دل میں حضور علیہ السلام کی محبت ضرور مو جود ہوتی ہے۔ بعض کی محبت اعلیٰ درجے کی ہوتی ہے اور بعض کی ادنیٰ درجے کی۔ بعض لوگ شہوات میں غرق ہو تے ہیں اور ان کی آنکھوں پر غفلت کا پردہ پڑا رہتاہے جبکہ کئی لو گ ایسے بھی ہو تے ہیں کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکا اسم گرامی سن کر اہل و عیال اور مال ومتاع چھوڑنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں اور خطرناک آزمائشوں کی بھی پرواہ نہیں کرتے۔
ان میں بعض لو گ ایسے بھی ہو تے ہیں جو آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے رو ضہ مبارک اور آپ سے منسوب مقدس مقامات کی زیارت کو تمام متاع دنیا پر تر جیح دیتے ہیں کیو نکہ ان کے دلوں میں سرکار ابد قرا ر صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی تعظیم و محبت و جلوہ گرہوتی ہے البتہ یہ محبت مسلسل غفلتوں کی وجہ سے جلدی زوال پذیر ہوتی ہے۔
پس ضروری ہے کہ ہر مسلمان کے دل میں اللہ عزوجل اور رسول اللہصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی محبت موجود رہے کیو نکہ یہ ایمان کی ضروری شرط ہے‘‘۔()
سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ بارگاہِ رسالت میں عرض کرتے ہیں،
Page 106 of 120

