سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ بارگاہِ رسالت میں عرض کرتے ہیں،
ہَجَوْتَ مُحَمَّدًا فَاَجَبْتُ عَنْہُ
وَعِنْدَ اللّٰہِ فِیْ ذَاکَ الْجَزَاءُ
فَاِنَّ اَبِیْ وَ وَالِدَتِیْ وَ عِرْضِیْ
لِعِرْضِ مُحَمَّدٍ مِنْکُمْ وِقَاءُ
’’تم نے حضرت محمد ﷺ کی ہجوکی، میں ان کی طرف سے جواب دے رہا ہوں، اسی میں اللّٰہ تعالیٰ کے ہاں جزا ہے۔ بے شک میرے ماں باپ اور میری عزت، میرے آقا حضرت محمد ﷺ کی عزت کے بچاؤ کے لیے وقف ہیں‘‘۔
شاعر مشرق ڈاکٹر محمد اقبال نے بارگاہ نبوی میں یوں نذرانۂ عقیدت پیش کیا ہے،
ہو نہ یہ پھول تو بلبل کا ترنم بھی نہ
ہو چمنِ دہر میں کلیوں کا تبسم بھی نہ ہو
یہ نہ ساقی ہو تو پھر مے بھی نہ ہو،
خُم بھی نہ ہو بزمِ توحید بھی دنیا میں نہ ہو،
تم بھی نہ ہو خیمہ افلاک کا ایستادہ اِسی نام سے ہے
نبضِ ہستی تپش آمادہ اِسی نام سے ہے
باب ہشتم
علاماتِ محبتِ رسول ﷺ
علاماتِ محبتِ رسول ﷺ :
ہر دعوے کی کوئی نہ کوئی دلیل ہوتی ہے۔ نبی کریم ﷺ سے محبت کا سچا دعویٰ کرنے والے کی مندرجہ ذیل علامات ائمہ دین نے بیان فرمائی ہیں۔
جو شخص محبت کا دعویٰ کرے اور اس میں یہ علامات موجود نہ ہوں تو وہ اپنے محبت کے دعوے میں صادق و کامل نہ ہوگا۔
1۔ رسول معظم ﷺ کی کامل اتباع کرنا:
لَوْکَانَ حُبُّکَ صَادِقًا لَاَطَعْتَہٗ اِنَّ الْمُحِبَّ لِمَنْ یُّحِبُّ مُطِیْعٌ
’’اگر واقعی تمہاری محبت سچی ہوتی تو تم اُس کی اطاعت کرتے کیونکہ سچی محبت کرنے والا اپنے محبوب کا فرمانبردار ہوتا ہے‘‘۔
نبی کریم ﷺ کی اطاعت و پیروی سچی محبت کی سب سے اہم علامت بھی ہے اور ہر مسلمان پر فرض بھی۔
اس بارے میں کتاب کے آغاز ہی میں پندرہ آیات کریمہ بیان کر دی گئی ہیں اور کثیر احادیثِ مقدسہ’’ضیاء الحدیث‘‘ میں درج ہیں۔ مزید چند احادیث مبارکہ ملا حظہ فرمائیں:
نبی کریم ﷺ نے حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ سے فرمایا،
’’اے میرے بیٹے! اگر ہوسکے تو صبح و شام ایسے گزارو کہ تمہارے دل میں کسی مسلمان کی طرف سے کینہ نہ ہو، یہ میری سنت ہے اور جس نے میری سنت سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہو گا‘‘۔ (ترمذی،ج 9،ص289،حدیث نمبر:2602)
آقا ﷺ نے فتنہ و فساد اور دین سے دوری کے وقت میں سنت کو اپنانے کی اہمیت و فضیلت یوں بیان فرمائی،
’’جس نے میری امت کے بگاڑ اور فساد کے وقت میری سنت کو مضبوط تھام لیا، اسے سو کامل شہیدوں کا ثواب ملے گا‘‘۔
(مشکوٰۃ، ج1،ص38،حدیث نمبر:176)
صحابہ کرام علیہم الرضوان حضور نبی کریم ﷺ سے بے پناہ محبت کے باعث ہر لمحہ آپ کی اطاعت کیا کرتے۔
بخاری میں ہے کہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللّٰہ عنہ نے اپنے وصال سے کچھ دیر قبل حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا سے دریافت فرمایا کہ آقا ﷺ کے کفن میں کتنے کپڑے تھے اور آپ کا وصال کس دن ہوا تھا؟
سیدنا ابو بکر رضی اللّٰہ عنہ نے یہ سوال اس لیے کیا کہ آپ کفن اور یوم وصال میں حضورﷺ کی اتباع چاہتے تھے۔
اسی طرح سیدنا عمر رضی اللّٰہ عنہ نے حجر اسود کو بوسہ دیا تو فرمایا،
’’اگر میں نے آقا و مولیٰ ﷺ کو تجھے بوسہ دیتے ہو ئے نہ دیکھا ہوتا تو میں ہر گز تجھے بوسہ نہ دیتا‘‘۔
(بخاری، ج6،ص15،حدیث نمبر:1494)
حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ عنہم کا جذبۂ اطاعت تو دیکھئے کہ:
آپ اپنی اونٹنی ایک مکان کے گرد پھرا رہے ہیں۔ صحابہ کرام نے سبب پو چھا تو فرمایا، میں نے حضور ﷺکو ایسا کرتے دیکھا تھا اس لیے میں نے بھی ایسا ہی کیا۔ (مسند احمد، ج11،ص374،حدیث نمبر:5337)

