ہَجَوْتَ مُحَمَّدًا فَاَجَبْتُ عَنْہُ
وَعِنْدَ اللّٰہِ فِیْ ذَاکَ الْجَزَاءُ
فَاِنَّ اَبِیْ وَ وَالِدَتِیْ وَ عِرْضِیْ
لِعِرْضِ مُحَمَّدٍ مِنْکُمْ وِقَاءُ
’’ تم نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی ہجو کی، میں ان کی طرف سے جواب دے رہا ہوں، اسی میں اللہ تعالیٰ کے ہاں جزا ہے۔ بے شک میرے ماں باپ اور میری عزت، میرے آقا حضرت محمدصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی عزت کے بچاؤ کے لیے وقف ہیں‘‘۔
شاعرمشرق ڈاکٹر محمد اقبال نے بارگاہ نبوی میں یوں نذرانۂ عقیدت پیش کیا ہے،
ہو نہ یہ پھول تو بلبل کا ترنم بھی نہ ہو
چمنِ دہر میں کلیوں کا تبسم بھی نہ ہو
یہ نہ ساقی ہو تو پھر مے بھی نہ ہو، خُم بھی نہ ہو
بزمِ توحید بھی دنیا میں نہ ہو، تم بھی نہ ہو
خیمہ افلاک کا ایستادہ اِسی نام سے ہے
نبضِ ہستی تپش آمادہ اِسی نام سے ہے
باب ہشتم
علاماتِ محبتِ رسول
صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم
علاماتِ محبتِ رسول صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم:
ہر دعو ے کی کو ئی نہ کوئی دلیل ہوتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمسے محبت کا سچا دعویٰ کرنے والے کی مندرجہ ذیل علامات ائمہ دین نے بیان فرمائی ہیں۔جو شخص محبت کا دعویٰ کرے اور اس میں یہ علامات موجود نہ ہوں تو وہ اپنے محبت کے دعو ے میں صادق وکامل نہ ہو گا۔
1۔ رسول معظم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی کامل اتباع کرنا:
لَوْکَانَ حُبُّکَ صَادِقًا لَاَطَعْتَہٗ اِنَّ الْمُحِبَّ لِمَنْ یُّحِبُّ مُطِیْعٌ
’’اگر واقعی تمہاری محبت سچی ہوتی تو تم اُس کی اطاعت کرتے کیو نکہ سچی محبت کرنے والا اپنے محبوب کا فرمانبردار ہو تا ہے‘‘۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی اطاعت و پیروی سچی محبت کی سب سے اہم علامت بھی ہے اور ہر مسلمان پر فرض بھی۔اس بارے میں کتاب کے آغاز ہی میں پندرہ آیات کریمہ بیان کر دی گئی ہیں اور کثیر احادیثِ مقدسہ’’ضیاء الحدیث‘‘ میں درج ہیں۔
مزید چند احادیث مبارکہ ملا حظہ فرمائیں:
نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے فرمایا، ’’اے میرے بیٹے !اگر ہوسکے تو صبح و شام ایسے گزارو کہ تمہارے دل میں کسی مسلمان کی طرف سے کینہ نہ ہو ، یہ میری سنت ہے اور جس نے میری سنت سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہو گا‘‘۔()
آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے فتنہ و فساد اور دین سے دوری کے وقت میں سنت کو اپنا نے کی اہمیت و فضیلت یو ں بیان فرمائی ، ’’جس نے میری امت کے بگاڑ اور فساد کے وقت میری سنت کو مضبوط تھا م لیا، اسے سو کا مل شہیدوں کا ثواب ملے گا‘‘۔()
صحابہ کرام علیہم الرضوان حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے بے پناہ محبت کے باعث ہر لمحہ آپ کی اطاعت کیا کرتے۔بخاری میں ہے کہ سیدنا صدیق اکبررضی اللہ عنہنے اپنے وصال سے کچھ دیر قبل حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت فرمایا کہ آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے کفن میں کتنے کپڑے تھے اور آپ کا وصال کس دن ہوا تھا؟سید نا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے یہ سوال اس لیے کیا کہ آپ کفن اور یو م وصال میں حضورصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی اتباع چاہتے تھے۔
اسی طرح سید نا عمررضی اللہ عنہ نے حجر اسو دکو بو سہ دیا توفرمایا،’’اگر میں نے آقا و مولیٰصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے ہو ئے نہ دیکھا ہو تا تو میں ہر گز تجھے بو سہ نہ دیتا‘‘۔()
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کا جذبۂ اطاعت تو دیکھئے کہ آپ اپنی اونٹنی ایک مکان کے گرد پھرار ہے ہیں۔ صحابہ کرام نے سبب پو چھا تو فرمایا، میں نے حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو ایسا کرتے دیکھا تھا اس لیے میں نے بھی ایسا ہی کیا۔()
Page 107 of 120

