جمعہ کے دن حضور ﷺ منبر پر جلوہ افروز تھے کہ آپ نے ارشاد فرمایا،
بیٹھ جاؤ۔ حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ اس وقت مسجد میں داخل ہو رہے تھے۔ آپ مسجد کے دروازے ہی میں بیٹھ گئے کہ مبادا حضور ﷺ نے ان سے فرمایا ہو اور وہ (مزید قدم چلنے کی صورت میں) کہیں نافرمانی کے مرتکب نہ ہوجائیں۔
(سنن ابی داؤد،3،ص295،حدیث نمبر:920)
آقا علیہ السلام نے ایک صحابی کی انگلی میں سونے کی انگوٹھی دیکھی تو نکال کر پھینک دی اور فرمایا،
کیا تم پسند کرتے ہو کہ آگ کا انگارا اپنے ہاتھ میں ڈالو۔آپ کے جانے کے بعد کسی نے ان صحابی سے کہا، تم انگوٹھی اٹھا لو اور اسے بیچ کر رقم کما لو۔
انہوں نے فرمایا،
اللّٰہ کی قسم! جس چیز کو آقا و مولیٰ ﷺ نے پھینک دیا میں اسے کبھی نہیں لوں گا۔
(مسلم،ج 3،ص1655، حدیث نمبر:2090)
حضور علیہ السلام کی سنتوں کی پیروی صحابہ کرام کے لیے بےحد اہم تھی۔
حضرت عبداللّٰہ بن مغفل رضی اللّٰہ عنہ کا کم عمر بھتیجا خذف کھیل رہا تھا (اس کھیل میں انگوٹھے پر کنکری رکھ کر انگلی سے نشانہ پر پھینکتے ہیں، بچوں کے لیے ایسا کھیل خطرناک ہے) انہوں نے دیکھا تو فرمایا،
’’ایسا نہ کرو کیونکہ آقا ﷺ کا اِرشاد ہے اس کھیل سے کچھ فائدہ نہیں، نہ شکار ہو سکے نہ دشمن کو ہلاک کیا جاسکے اور اتفاقاً کسی کو لگ جائے تو آنکھ پھوٹ جائے یا دانت ٹوٹ جائے‘‘۔ ان کے بھتیجے نے تو جہ نہ دی اور پھر کھیلنے لگا۔
آپ نے دیکھا تو فرمایا،
’’میں تجھے آقا ومولیٰ ﷺ کی حدیث سناتا ہوں اور تو اس کام سے باز نہیں آتا۔ خدا کی قسم! میں تجھ سے کبھی بات نہیں کروں گا‘‘۔
دوسری روایت میں ہے کہ:
نہ تیری نماز جنازہ پڑھوں گا اور نہ تیری عیادت کروں گا۔
(سنن ابن ماجہ،ج 1،ص20، حدیث نمبر:17)
2۔ سرکارِ دو عالم ﷺ کا کثرت سے ذکر کرنا:
محبت کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ جو شخص کسی سے محبت کرتا ہے تو وہ اس کا ذکر کثرت سے کر کے اپنے دل کو تسکین پہنچاتا ہے اور اس کے خصائص و کمالا ت اور فضائل و مناقب بیان کرنا اور سننا پسند کرتا ہے۔
نبی کریم ﷺ کا محب حقیقی اللّٰہ تعالیٰ بھی آپ کا ذکر کرنا اور سننا پسند فرماتاہے۔
سو رۃ الا حزاب میں ہے کہ:
اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے حضور ﷺ پر درود بھیجتے ہیں نیز اللّٰہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو بھی درود و سلام کی کثرت کا حکم دیا ہے۔ یہ ایسا برکت والا ذکر ہے کہ ایک بار درودو سلام پڑھنے والے پر بارگاہِ الٰہی سے دس رحمتیں اور دس سلام نازل ہوتے ہیں۔
(نسائی، ج5،ص53،حدیث نمبر:1266)
سرکارِ دو عالم ﷺ کا ذکر مبارک روح کی غذا اور ایمان کی سلامتی کا باعث ہے۔
علماء فرماتے ہیں کہ:
محبوب کا ذکر مشک کی طرح ہے۔ مشک جتنی بار بھی محفل میں لایا جائے گا محفل خوشبو سے مہک جائے گی اسی طرح محبوب کا ذکر کثرت سے کرو، ایمان مہک جائے گا۔
امام بخاری روایت کرتے ہیں کہ:
ایک بار حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ عنہما کا پاؤں سُن ہو گیا، ان سے کسی نے کہا ، آپ کے نزدیک جو سب لوگوں سے زیادہ محبوب ہو، اُسے یاد کیجیے۔ یہ سن کر آپ نے فرمایا،
یا محمد ﷺ اسی وقت آپ کا پاؤں اچھا ہوگیا۔
(الادب المفرد، ص250، حدیث نمبر:964)
اُن کے نثار کوئی کیسے ہی رنج میں ہو
جب یاد آگئے ہیں سب غم بھلا دیے ہیں
شیخ عبدالحق محدث دہلوی فرماتے ہیں کہ آقا و مولیٰ ﷺ اخلاق الٰہیٰ کے کامل مظہر ہیں تو جو انہیں کثرت سے یاد کرتے ہیں وہ اس ارشادِ ربانی کا مصداق بن جاتے ہیں کہ:
فَاذْکُرُوْنِیْ اَذْکُرْکُمْ (تم میرا ذکر کرو میں تمہارا ذکر کروں گا) پس ان کو حضور ﷺ بھی یاد فرماتے ہیں۔
ابوابراہیم یحییٰ کا قول ہے کہ:
ہر مسلمان پر فرض ہے کہ جب وہ حضور ﷺ کا ذکر کرے یا سنے تو خشوع و خضوع کا اظہار کرے اور اپنے اوپر ہیبت و جلال طاری کرے کہ اگر وہ آقا کریم علیہ السلام کے روبرو محفل میں ہوتا تو جیسا ادب کرتا، اب بھی ویسا ہی ادب کرے۔ (انظر فتاوی رضویہ، ج15، ص205،208)

