جمعہ کے دن حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم منبرپر جلوہ افروز تھے کہ آپ نے ارشاد فرمایا، بیٹھ جاؤ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اس وقت مسجد میں داخل ہو رہے تھے۔ آپ مسجد کے دروازے ہی میں بیٹھ گئے کہ مبادا حضورصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے ان سے فرمایا ہو اور وہ (مزید قدم چلنے کی صورت میں) کہیں نا فرمانی کے مرتکب نہ ہو جائیں۔()
آقا علیہ السلام نے ایک صحابی کی انگلی میں سونے کی انگوٹھی دیکھی تو نکال کر پھینک دی اور فرمایا، کیا تم پسند کرتے ہو کہ آگ کا انگارا اپنے ہاتھ میں ڈالو۔آپ کے جانے کے بعد کسی نے ان صحابی سے کہا، تم انگو ٹھی اٹھا لو اور اسے بیچ کر رقم کمالو۔ انہوں نے فرمایا، اللہ کی قسم! جس چیز کو آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے پھینک دیا میں اسے کبھی نہیں لو ں گا۔()
حضور علیہ السلام کی سنتوں کی پیروی صحابہ کرام کے لیے بےحد اہم تھی۔ حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کا کم عمر بھتیجا خذف کھیل رہا تھا (اس کھیل میں انگو ٹھے پر کنکری رکھ کر انگلی سے نشانہ پر پھینکتے ہیں، بچوں کے لیے ایسا کھیل خطر نا ک ہے)انہوں نے دیکھا تو فرمایا،
’’ ایسا نہ کرو کیو نکہ آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا ارشاد ہے اس کھیل سے کچھ فائدہ نہیں، نہ شکار ہو سکے نہ دشمن کو ہلاک کیا جاسکے اور اتفاقاً کسی کو لگ جائے تو آنکھ پھوٹ جائے یا دانت ٹوٹ جائے‘‘۔ ان کے بھتیجے نے تو جہ نہ دی اور پھر کھیلنے لگا۔ آپ نے دیکھا تو فرمایا،
’’ میں تجھے آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی حدیث سنا تا ہوں اور تو اس کام سے با ز نہیں آتا۔ خدا کی قسم !میں تجھ سے کبھی با ت نہیں کروں گا‘‘۔ دوسری روایت میں ہے کہ نہ تیری نماز جنازہ پڑھوں گا اورنہ تیری عیادت کروں گا۔ ()
2۔ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا کثرت سے ذکر کرنا :
محبت کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ جو شخص کسی سے محبت کرتا ہے تو وہ اس کا ذکر کثرت سے کرکے اپنے دل کو تسکین پہنچاتا ہے اور اس کے خصائص و کمالا ت اور فضائل و مناقب بیان کرنا اور سننا پسند کر تا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکا محب حقیقی اللہ تعا لیٰ بھی آپ کا ذکر کر نا اور سننا پسند فر ما تاہے۔
سو رۃ الا حزاب میں ہے کہ اللہ تعا لیٰ اور اس کے فرشتے حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمپر درود بھیجتے ہیں نیز اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کوبھی درود و سلام کی کثرت کا حکم دیا ہے۔
یہ ایسا برکت والا ذکر ہے کہ ایک بار درودو سلام پڑھنے والے پربارگاہِ الٰہی سے دس رحمتیں اوردس سلام نا زل ہو تے ہیں۔ ()
سر کا رِ دو عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا ذکر مبارک روح کی غذا اور ایمان کی سلامتی کا باعث ہے۔ علماء فرماتے ہیں کہ محبو ب کا ذکر مشک کی طرح ہے۔ مشک جتنی باربھی محفل میں لا یا جائے گا محفل خوشبو سے مہک جا ئے گی اسی طرح محبو ب کا ذکر کثرت سے کرو،ایما ن مہک جائے گا۔
امام بخاری روایت کرتے ہیں کہ ایک بار حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کا پاؤں سُن ہو گیا، ان سے کسی نے کہا ، آپ کے نزدیک جو سب لوگوں سے زیادہ محبوب ہو، اُسے یاد کیجیے۔ یہ سن کر آپ نے فرمایا، یا محمد (صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم)،اسی وقت آپ کا پاؤں اچھا ہو گیا۔()
اُن کے نثار کوئی کیسے ہی رنج میں ہو
جب یاد آگئے ہیں سب غم بھلا دیے ہیں
شیخ عبدا لحق محدث دہلوی فرما تے ہیں کہ آقاومولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اخلاق الٰہی کے کامل مظہر ہیں تو جو انہیں کثرت سے یادکرتے ہیں وہ اس ارشاد ِربانی کا مصداق بن جا تے ہیں کہ فَاذْکُرُوْنِیْ اَذْکُرْکُمْ ( تم میراذ کر کرو میں تمہارا ذکر کرو ں گا)پس ان کو حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم بھی یا د فرماتے ہیں۔ ابوابراہیم یحییٰ کا قول ہے کہ ہر مسلمان پر فرض ہے کہ جب وہ حضورصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا ذکر کرے یا سنے تو خشوع و خضوع کا اظہار کرے اوراپنے اوپر ہیبت و جلال طاری کرے کہ اگر وہ آقا کریم علیہ السلام کے رو بر و محفل میں ہو تا تو جیسا ادب کرتا، اب بھی ویسا ہی ادب کرے۔()
Page 108 of 120

