درودو سلام کی کثرت ، میلاد النبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی محافل، نعت خوانی، احادیث مبارکہ کی تلاوت اور حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے فضائل و کمالات کا تذ کرہ، یہ سب سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمسے محبت کی علامت ہیں۔ امام قاضی عیاض نے حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا اسم گرامی سن کر نہایت تعظیم و توقیر اور انتہائی عاجزی و انکساری ظاہر کرنے کو بھی محبت کی علامت قرار دیا ہے۔
3۔آقا علیہ السلام کے دیدار کی شدید خواہش اورتمنا کرنا:
سچی محبت کی ایک علامت یہ بھی ہوتی ہے کہ محب اپنے محبوب کے دیدار کا شیدائی ہوتا ہے اور محبوب کی ایک جھلک دیکھنے کی خا طر اپنا سب کچھ لٹانے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔
سیدنا صدیق اکبررضی اللہ عنہنے اپنی پسندیدہ چیزوں کا ذکر کرتے ہو ئے فرمایا،
’’یہ با ت مجھے سب سے زیادہ پسند ہے کہ آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکا چہرہ ٔانور ہو اور میری آنکھیں ہمیشہ رُخِ انور کے دیدار میں محو رہیں‘‘۔()
حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو ان کی بیوی نے کہا، ’’وَاحُزْنَاہُ‘‘ ہائے غم۔ یہ سن کر انہوں نے فرمایا،’’وٰاَطْرَبَاہُ ‘‘کتنی خوشی کی بات ہے کہ کل آقا علیہ السلام اور ان کے اصحاب کا دیدار حاصل ہوگا۔()
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ جب اپنے احباب کے ساتھ مدینہ طیبہ پہنچے تو یہ رجز پڑھنے لگے، غَدًا نَلْقَی الْاَحِبَّۃَ مُحَمَّدًا وَحِزْبَہ۔’’ہم کل اپنے محبوب حضرت محمدصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اور ان کے دوستو ں سے ملیں گے‘‘۔()
غزوہ اُحد میں آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی حفا ظت کرتے ہو ئے جن اصحاب نے جان قربان کی، ان میں حضرت زیاد بن سکن رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ آپ زخموں سے چور حالت میں زمین پر گھسٹتے ہوئے آقا علیہ السلام کے قریب پہنچے اوراپنا منہ آقاومولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے پاؤں مبارک پر رکھ دیا اور اسی حالت میں جان، جاں آفریں کے سپرد کردی۔()
آستانے پہ ترے سر ہو اجل آئی ہو
اور اے جانِ جہاں تو بھی تماشائی ہو
حضرت عبدا للہ بن زیدرضی اللہ عنہ کو جب ان کے بیٹے نے حضورصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے وصال کی خبر دی تو انہوں نے بارگاہِ الٰہی میں دعا کی، اے اللہ! میری آنکھوں کی بینائی ختم کردے تا کہ اپنے محبوب آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے بعد کسی دوسرے کو دیکھ ہی نہ سکوں۔ ان کی یہ دعا قبول ہو گئی۔()
علامہ سید محمود آلوسی نقل کرتے ہیں کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے دیدارِپُر انوار کی خواہش نے جب ایک صحابی کو تڑپا یا تو وہ حضرت میمو نہ رضی اللہ عنہا کے پا س آئے۔ آپ نے نورِمجسم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا ذاتی آئینہ انہیں عطا فرمایا۔ انہوں نے جب اس مبارک آئینہ میں دیکھا تو انہیں اپنی صورت کے بجا ئے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکا چہرہ ٔانور نظر آیا۔()
حضرت عبدہ بنت خالد رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت خالدبن معدان رضی اللہ عنہ جب رات کو سونے کے لیے لیٹتے تو حضور علیہ السلام اور ان کے اصحاب سے ملا قات کا شوق ظاہر کرتے اور فرماتے، ’’وہ ہماری اصل ہیں، ان کے دیدار کے لیے میرا دل بیتا ب ہو رہا ہے اور ان سے ملاقات کی آرزو طویل ہو گئی ہے، الٰہی میری روح جلدی قبض فرما‘‘۔ پھر وہ روتے اوریہی کلمات دہراتے رہتے یہا ں تک کہ انہیں نیند آجاتی۔()
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہسے روایت ہے کہ نورِ مجسم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے فرمایا، میری ظاہری حیا ت کے بعد بہت سے لو گ آئیں گے جو تمنا کریں گے کہ کا ش تمام مال و اولاد کو قربان کرنے کے بعد ہی ایک نظرجمالِ مصطفی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا دیدار نصیب ہو جاتا۔()
Page 109 of 120

