Jamal e Mustafa

Total Pages: 118

Page 109 of 118

درود و سلام کی کثرت، میلاد النبی کی محافل، نعت خوانی، احادیث مبارکہ کی تلاوت اور حضور  کے فضائل و کمالات کا تذکرہ، یہ سب سرکارِ دو عالم  سے محبت کی علامت ہیں۔

 

امام قاضی عیاض نے حضور کا اسم گرامی سن کر نہایت تعظیم و توقیر اور انتہائی عاجزی و انکساری ظاہر کرنے کو بھی محبت کی علامت قرار دیا ہے۔

 

آقا علیہ السلام کے دیدار کی شدید خواہش اور تمنا کرنا:

سچی محبت کی ایک علامت یہ بھی ہوتی ہے کہ محب اپنے محبوب کے دیدار کا شیدائی ہوتا ہے اور محبوب کی ایک جھلک دیکھنے کی خا طر اپنا سب کچھ لٹانے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔

 

سیدنا صدیق اکبر رضی اللّٰہ عنہ نے اپنی پسندیدہ چیزوں کا ذکر کرتے ہو ئے فرمایا،

’’یہ با ت مجھے سب سے زیادہ پسند ہے کہ آقا  کا چہرہ ٔانور ہو اور میری آنکھیں ہمیشہ رُخِ انور کے دیدار میں محو رہیں‘‘۔
(المنبہات لابن حجر، ص27 ،نورانی کتب خانہ)

 

حضرت بلال رضی اللّٰہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو ان کی بیوی نے کہا،

’’وَاحُزْنَاہُ‘‘ ہائے غم۔

یہ سن کر انہوں نے فرمایا،

’’وٰاَطْرَبَاہُ ‘‘ کتنی خوشی کی بات ہے کہ کل آقا علیہ السلام اور ان کے اصحاب کا دیدار حاصل ہوگا۔ (شفا،ج 2، ص23)

 

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللّٰہ عنہ جب اپنے احباب کے ساتھ مدینہ طیبہ پہنچے تو یہ رجز پڑھنے لگے،

غَدًا نَلْقَی الْاَحِبَّۃَ مُحَمَّدًا وَحِزْبَہ۔

’’ہم کل اپنے محبوب حضرت محمد اور ان کے دوستوں سے ملیں گے‘‘۔

(زرقانی،ج 5،ص14)

 

غزوہ اُحد میں آقا و مولیٰ کی حفاظت کرتے ہو ئے جن اصحاب نے جان قربان کی،

ان میں حضرت زیاد بن سکن رضی اللّٰہ عنہ بھی تھے۔ آپ زخموں سے چور حالت میں زمین پر گھسٹتے ہوئے آقا علیہ السلام کے قریب پہنچے اور اپنا منہ آقا و مولیٰ کے پاؤں مبارک پر رکھ دیا اور اسی حالت میں جان، جاں آفریں کے سپرد کر دی۔
(مدارج النبوۃ،ج 1،ص374)

 

آستانے  پہ  ترے  سر  ہو  اجل  آئی  ہو

اور اے جانِ جہاں تو بھی تماشائی ہو

 

 

حضرت عبداللّٰہ بن زید رضی اللّٰہ عنہ کو جب ان کے بیٹے نے حضور کے وصال کی خبر دی تو انہوں  نے بارگاہِ الٰہی میں دعا کی،

اے اللّٰہ! میری آنکھوں کی بینائی ختم کر دے تا کہ اپنے محبوب آقا کے بعد کسی دوسرے کو دیکھ ہی نہ سکوں۔ان کی یہ دعا قبول ہو گئی۔ (مواہب اللدنیہ،ج 9،ص84)

 

علامہ سید محمود آلوسی نقل کرتے ہیں کہ:

نبی مکرم کے دیدارِ پُر انوار کی خواہش نے جب ایک صحابی کو تڑپا یا تو وہ حضرت میمونہ رضی اللّٰہ عنہا کے پا س آئے۔ آپ نے نورِ مجسم کا ذاتی آئینہ انہیں عطا فرمایا۔

انہوں نے جب اس مبارک آئینہ میں دیکھا تو انہیں اپنی صورت کے بجا ئے آقا کا چہرہ ٔانور نظر آیا۔ (روح المعانی،ج 22،ص39)

 

حضرت عبدہ بنت خالد رضی اللّٰہ عنہا فرماتی ہیں کہ:

حضرت خالد بن معدان رضی اللّٰہ عنہ جب رات کو سونے کے لیے لیٹتے تو حضور علیہ السلام اور ان کے اصحاب سے ملاقات کا شوق ظاہر کرتے اور فرماتے،

’’وہ ہماری اصل ہیں، ان کے دیدار کے لیے میرا دل بیتاب ہو رہا  ہے اور ان سے ملاقات کی آرزو طویل ہو گئی ہے، الٰہی میری روح جلدی قبض فرما‘‘۔ پھر وہ روتے اوریہی کلمات دہراتے رہتے یہاں تک کہ انہیں نیند آجاتی۔ (کتاب الشفاء،ج 2،ص21)

 

سیدنا ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ نورِ مجسم نے فرمایا،

میری ظاہری حیات کے بعد بہت سے لوگ آئیں گے جو تمنا کریں گے کہ کاش تمام مال و اولاد کو قربان کرنے کے بعد ہی ایک نظر جمالِ مصطفی کا دیدار نصیب ہو جاتا۔
(کتاب الشفاء،ج 2،ص21)

Share:
keyboard_arrow_up