محدث دہلوی اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں، بعید از قیاس نہیں کہ دیدارِ حبیب کے کچھ طالبان اور جمالِ مصطفی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے کچھ مشتا قان ایسے ہوں گے کہ تمام مال و منال خرچ کرکے خواب ہی میں دیدار کی ایک جھلک غنیمت جانتے ہونگے۔()
4۔حضو رصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو ہر عیب و نقص سے پاک جا ننا :
محبت کا مل کی اس شرط کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکا یہ ارشاد مبارک پیش کیا جاسکتا ہے کہ ’’کسی شے کی محبت تمہیں اس کا عیب دیکھنے سے اندھا اور اس کا عیب سننے سے بہرہ کردیتی ہے‘‘۔()یہ حدیث مبارکہ تو مطلقاً اُس وقت ہے جبکہ واقعی کوئی عیب ہو اور محبت اس عیب کو نہ دیکھنے دے۔ اب ایمان سے کہیے کہ جہاں کوئی عیب ہی نہ ہو،ا ُس محبوب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی شان میں عیب سننا ایمان والوں کوکب گوارا ہو سکتا ہے؟ہر مومن کا یہ ایمان ہونا چاہیے کہ بے عیب خدا نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکو بے عیب پیدا فرمایاہے۔
اس بارے میں حضرت حسان رضی اللہ عنہ کے اشعار پہلے بیان کیے جا چکے ہیں۔
قرآن حکیم کی آیات گواہ ہیں کہ جب بھی کسی گستاخ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی شان اقدس میں کوئی عیب لگانے کی کو شش کی تو رب تعا لیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی عظمت اور پا کی بیان فرماتے ہو ئے آپ کے دشمن و گستاخ کو ذلیل و رسوا کردیا۔خصا ئصِ مصطفی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے ضمن میں ان آیات کی نشاندہی کی جاچکی ہے۔
کلمہ گو ہو نے کے باوجود شانِ رسالت میں گستاخی کرنے والوں کا سرغنہ ذوالخویصرہ تمیمی نجدی جب حضو رصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی بارگاہ میں آیا تو بولا، اے محمد (صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم)عدل کرو۔ گویا کہ اس نے حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو عدل کرنے والا نہیں جانا۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہنے اسے قتل کرنے کی اجازت مانگی۔ آپ نے منع فرمادیا اور فرمایا، اس کی نسل سے کچھ لو گ پیدا ہو نگے جن کی نماز وں اور روزوں کے مقابلے میں تم اپنی نمازوں اور روزوں کو حقیر جانو گے لیکن وہ دین سے اس طرح خا رج ہو نگے جیسے تیر شکا ر سے پار ہو جا تا ہے۔()
اس دورمیں بھی اس نجدی کی پیروی کرنے والے نام نہاد کلمہ گو نمازروزے کی پابندی کے ساتھ ساتھ با رگاہ رسول صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلممیں گستاخی کو اور آپ کے خصائص و کمالات کے انکار کو اپنا و طیرہ بنائے ہوئے ہیں، باری تعالیٰ ایسے بدمذہبوں کے شرسے تمام مسلمانوں کی حفاظت فرمائے، آمین۔
5۔نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی ہر پسند یدہ شے سے محبت کرنا:
سچی محبت کی ایک علامت یہ بھی ہوتی ہے کہ محبو ب کی ہر پسندیدہ شے محبوب ہو جا تی ہے اس لیے صحابہ کرام علیہم الرضوان حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی پسندیدہ چیزوں سے محبت کرتے۔
شمائل ترمذی میں ہے کہ حضرت امام حسن، حضرت ابن عباس اور ابن جعفر رضی اللہ عنہم نے حضورصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے پسند یدہ کھانے کی فرمائش کی۔ یہ حدیث بھی پہلے بیان ہوئی کہ حضرت انسرضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو شور بے میں کدو تلاش کرتے دیکھا تو اس دن سے کدو کو اپنی محبوب غذا بنالیا۔()
امام ابو یو سف علیہ الرحمہ کے سامنے اس حدیث پا ک کا ذکر آیا کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکدو پسند فرماتے تھے۔ کسی نے یہ سن کر کہا، میں کدو کو پسند نہیں کرتا۔ امام صاحب نے تلوار کھینچ لی اور فرمایا، فوراً تجدیدِ ایمان کرورنہ میں تجھے ضرور قتل کردوں گا، اس نے توبہ کی۔()
Page 110 of 120

