Jamal e Mustafa

Total Pages: 118

Page 110 of 118

محدث دہلوی اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں،

بعید از قیاس نہیں کہ دیدارِ حبیب کے کچھ طالبان اور جمالِ مصطفی  کے کچھ مشتاقان ایسے ہوں گے کہ تمام مال و منال خرچ کرکے خواب ہی میں دیدار کی ایک جھلک غنیمت جانتے ہونگے۔ (مدارج النبوۃ،ج 1،ص374،375)

 

حضور کو ہر عیب و نقص سے پاک جاننا:

محبت کامل کی اس شرط کے بارے میں نبی کریم  کا یہ ارشاد مبارک پیش کیا جاسکتا ہے کہ:

’’کسی شے کی محبت تمہیں اس کا عیب دیکھنے سے اندھا اور اس کا عیب سننے سے بہرہ کر دیتی ہے‘‘۔
(سنن ابی داؤد،4/430،حديث:513، داراحیاء التراث العربی1421ھ)

 

یہ حدیث مبارکہ تو مطلقاً اُس وقت ہے جبکہ واقعی کوئی عیب ہو اور محبت اس عیب کو نہ دیکھنے دے۔ اب ایمان سے کہیے کہ جہاں کوئی عیب ہی نہ ہو،اُس محبوب کی شان میں عیب سننا ایمان والوں کو کب گوارا ہو سکتا ہے؟ ہر مومن کا یہ ایمان ہونا چاہیے کہ بے عیب خدا نے اپنے محبوب کو بے عیب پیدا فرمایا ہے۔

 

اس بارے میں حضرت حسان رضی اللّٰہ عنہ کے اشعار پہلے بیان کیے جاچکے ہیں۔

قرآن حکیم کی آیات گواہ ہیں کہ جب بھی کسی گستاخ نے نبی کریم کی شان اقدس میں کوئی عیب لگانے کی کو شش کی تو رب تعالیٰ نے اپنے حبیب کی عظمت اور پاکی بیان فرماتے ہو ئے آپ کے دشمن و گستاخ کو ذلیل و رسوا کر دیا۔

 

خصائصِ مصطفیٰ کے ضمن میں ان آیات کی نشاندہی کی جا چکی ہے۔ کلمہ گو ہونے کے با وجود شانِ رسالت میں گستاخی کرنے والوں کا سرغنہ ذوالخویصرہ تمیمی نجدی جب حضور کی بارگاہ میں آیا تو بولا، اے محمد عدل کرو۔

گویا کہ اس نے حضور کو عدل کرنے والا نہیں جانا۔ اس پر حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ نے اسے قتل کرنے کی اجازت مانگی۔ آپ نے منع فرمادیا اور فرمایا،

اس کی نسل سے کچھ لوگ پیدا ہو نگے جن کی نمازوں اور روزوں کے مقابلے میں تم اپنی نمازوں اور روزوں کو حقیر جانو گے لیکن وہ دین سے اس طرح خارج ہو نگے جیسے تیر شکار سے  پار ہو جاتا ہے۔
(بخاری، ج11،ص442،حدیث نمبر:3341، مسلم، ج2،ص741،حدیث نمبر:1064)

 

اس دور میں بھی اس نجدی کی پیروی کرنے والے نام نہاد کلمہ گو نماز روزے کی پابندی کے ساتھ ساتھ بارگاہ رسول میں گستاخی کو اور آپ کے خصائص و کمالات کے انکار کو اپنا و طیرہ بنائے ہوئے ہیں،

باری تعالیٰ ایسے بدمذہبوں کے شر سے تمام مسلمانوں کی حفاظت فرمائے، آمین۔

 

نبی کریم کی ہر پسندیدہ شے سے محبت کرنا:

سچی محبت کی ایک علامت یہ بھی ہوتی ہے کہ محبوب کی ہر پسندیدہ شے محبوب ہوجاتی ہے اس لیے صحابہ کرام علیہم الرضوان حضور کی پسندیدہ چیزوں سے محبت کرتے۔

 

شمائل ترمذی میں ہے کہ:

حضرت امام حسن، حضرت ابن عباس اور ابن جعفر رضی اللّٰہ عنہم نے حضور کے پسندیدہ کھانے کی فرمائش کی۔

یہ حدیث بھی پہلے بیان ہوئی کہ:

حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ نے حضور کو شوربے میں کدو تلاش کرتے دیکھا تو اس دن سے کدو کو اپنی محبوب غذا بنا لیا۔
(بخاری،ج 17،ص57،حدیث نمبر:5013، مسلم ،ج 2، ص924، حدیث نمبر:1268)

 

امام ابو یوسف علیہ الرحمہ کے سامنے اس حدیث پاک کا ذکر آیا کہ:

حضور کدو پسند فرماتے تھے۔ کسی نے یہ سن کر کہا، میں کدو کو پسند نہیں کرتا۔ امام صاحب نے تلوار کھینچ لی اور فرمایا، فوراً تجدیدِ ایمان کر ورنہ میں تجھے ضرور قتل کردوں گا، اس نے توبہ کی۔ (مرقاۃ،ج 4،ص192)

Share:
keyboard_arrow_up