محبت کی اس علامت کا ایک جزو یہ بھی ہے کہ ہر اُس شے سے محبت کی جائے جس سے آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی نسبت ہو جا ئے۔
صحابہ کرام علیہم الرضوان آپ کے وضو کا پا نی اور لعاب دہن ہاتھوں میں لے کر اپنے چہروں پر مل لیتے۔جب آپ ناخن مبارک یا موئے مبارک ترشواتے تو صحابہ کرام انہیں حاصل کرنے کی بھرپورکو شش کرتے اور زمین پر نہ گرنے دیتے۔()
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے منبر پر آپ کے بیٹھنے کی جگہ ہا تھ پھیرتے اور محبت سے اپنے چہرے پرپھیر لیتے۔()
صحابہ کرام حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے تبرکات کو محفوظ رکھتے تھے۔ اس بارے میں احادیث پہلے پیش کی جا چکی ہیں۔صحابہ کرام کو حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے تعلق اس قدر محبوب تھا کہ وہ اپنے آپ کو حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا بندہ اور غلام کہنے میں فخر محسوس کرتے تھے۔()
احمد بن فضلو یہ رضی اللہ عنہجو کہ ماہر تیرا نداز تھے، فرما تے تھے کہ میں نے اس کمان کو کبھی وضو کے بغیر ہاتھ نہیں لگا یا جسے حضور علیہ السلام نے استعما ل فرمایا تھا۔
امام مالکرضی اللہ عنہمدینہ طیبہ میں ہمیشہ پیدل چلے ، کبھی سو ارنہ ہوئے۔ فرماتے تھے، میری غیرت گوارا نہیں کرتی کہ جہاں آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم آرام فرما ہیں، اس مقدس زمین کو میں سواری کے جانور کے کھروں سے روندوں۔()
حضرت عباسرضی اللہ عنہ کا مکان مسجد نبوی سے ملحق تھا۔ بارش کا پا نی اس کے پر نا لے سے گرتا تو نمازیوں کے کپڑے خراب ہو تے۔سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے اکھیڑ دیا۔
سیدنا عباس رضی اللہ عنہ آپ کے پاس آکر کہنے لگے ، اللہ کی قسم!اس پر نالے کو آقاو مولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اپنے دست مبارک سے میری گردن پر سوار ہو کرلگایا تھا۔
یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہنے فرمایا، اگر ایسا ہے توآپ میری گردن پر سوار ہوکر اسے پھر اسی جگہ لگا دیں، انہوں نے ایسا ہی کیا۔()
صحابہ کرام اور اہلبیت اطہار سے محبت حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمسے محبت ہی کی نشانی ہے۔ رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے صحابہ کرام کی محبت کو اپنی محبت قرار دیا۔() اور اپنی محبت کی بناء پر اپنے اہلِ بیت اطہار سے محبت کرنے کا حکم دیا۔()
حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کے بارے میں آپ کا ارشادِ گرامی ہے، ’’اے اللہ تعالیٰ! میں اِن دو نوں سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان سے محبت کر۔ اور اُس سے بھی محبت کر جو اِن دونوں سے محبت کرے‘‘۔()
6۔ دشمنانِ مصطفی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمسے عداوت و نفرت کرنا:
جو اللہ تعا لیٰ اور حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا دشمن و گستاخ ہو، سنتِ نبوی کا مخالف ہو، یا دین میں نئے نئے عقائدکے ذریعے فتنہ پھیلا ئے یا بد مذہبوں سے محبت کرتا ہو، ان سب سے عداوت رکھنا اور کنارہ کش ہو جا نا بھی سچی محبت کی اہم علامت ہے۔
ارشادِ باری تعا لیٰ ہے،’’تم نہ پاؤگے اُن لوگوں کو جو یقین رکھتے ہیں اللہ اور پچھلے دن پر کہ دوستی کریں اُن سے جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے مخالفت کی اگرچہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا کنبے والے ہوں‘‘۔()
صحابہ کرام علیہم الرضوان نے اللہ عزوجل اور رسول صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی محبت میں اپنی عزت ، جان ، مال، اولاد وغیرہ کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔شیخ التفسیر مولاناسید نعیم الدین مراد آبادی فرماتے ہیں ، حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہنے جنگ احد میں اپنے والد جراح کو قتل کیا، حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے بدر کے دن اپنے بیٹے عبدالرحمٰن(جو اس وقت ایمان نہ لائے تھے)کو لڑائی کے لیے طلب کیا لیکن حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے اجازت نہ دی،حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ نے اپنے بھائی عبداللہ بن عمیر کو قتل کیا، حضرت عمررضی اللہ عنہنے اپنے ماموں عاص بن ہشام بن مغیرہ کو جنگ بدر میں قتل کیا، حضرات علی و حمزہ و ابوعبیدہ رضی اللہ عنہم نے ربیعہ کے بیٹوں عتبہ اور شیبہ کو اور ولیدبن عتبہ کو بدر میں قتل کیا جوا ن کے رشتہ دار تھے، خدا تعالیٰ اور رسول صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم پر ایمان لانے والوں کو قرابت اور رشتہ داری کا کیا پاس؟()
Page 111 of 120

