محبت کی اس علامت کا ایک جزو یہ بھی ہے کہ ہر اُس شے سے محبت کی جائے جس سے آقا و مولیٰ ﷺ کی نسبت ہوجائے۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان آپ کے وضو کا پانی اور لعاب دہن ہاتھوں میں لے کر اپنے چہروں پر مل لیتے۔جب آپ ناخن مبارک یا موئے مبارک ترشواتے تو صحابہ کرام انہیں حاصل کرنے کی بھر پور کوشش کرتے اور زمین پر نہ گرنے دیتے۔
(بخاری ، ج1، ص80،حدیث نمبر:185)
حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ عنہما آقا و مولیٰ ﷺ کے منبر پر آپ کے بیٹھنے کی جگہ ہا تھ پھیرتے اور محبت سے اپنے چہرے پرپھیر لیتے۔
(کتاب الشفاء،ج2، ص57)
صحابہ کرام حضور ﷺ کے تبرکات کو محفوظ رکھتے تھے۔ اس بارے میں احادیث پہلے پیش کی جا چکی ہیں۔ صحابہ کرام کو حضور ﷺ سے تعلق اس قدر محبوب تھا کہ وہ اپنے آپ کو حضور ﷺ کا بندہ اور غلام کہنے میں فخر محسوس کرتے تھے۔
(بخاری ،ج1، ص429،حدیث نمبر:1218 ، مسلم،ج3، ص1641، حدیث نمبر: 2069، کتاب الشفاء،ج2، ص57)
احمد بن فضلویہ رضی اللّٰہ عنہ جو کہ ماہر تیر انداز تھے، فرما تے تھے کہ:
میں نے اس کمان کو کبھی وضو کے بغیر ہاتھ نہیں لگا یا جسے حضور علیہ السلام نے استعمال فرمایا تھا۔
امام مالک رضی اللّٰہ عنہ مدینہ طیبہ میں ہمیشہ پیدل چلے، کبھی سوار نہ ہوئے۔ فرماتے تھے،
میری غیرت گوارا نہیں کرتی کہ جہاں آقا و مولیٰ ﷺ آرام فرما ہیں، اس مقدس زمین کو میں سواری کے جانور کے کھروں سے روندوں۔ (کتاب الشفاء،ج2، ص57)
حضرت عباس رضی اللّٰہ عنہ کا مکان مسجد نبوی سے ملحق تھا۔ بارش کا پانی اس کے پر نالے سے گرتا تو نمازیوں کے کپڑے خراب ہو تے۔
سیدنا عمر رضی اللّٰہ عنہ نے اسے اکھیڑ دیا۔ سیدنا عباس رضی اللّٰہ عنہ آپ کے پاس آکر کہنے لگے، اللّٰہ کی قسم! اس پر نالے کو آقاومولیٰﷺ نے اپنے دست مبارک سے میری گردن پر سوار ہوکر لگایا تھا۔
یہ سن کر حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا،
اگر ایسا ہے تو آپ میری گردن پر سوار ہوکر اسے پھر اسی جگہ لگا دیں، انہوں نے ایسا ہی کیا۔
(مسند احمد، ج4،ص221،حدیث نمبر:1694)
صحابہ کرام اور اہلبیت اطہار سے محبت حضور ﷺ سے محبت ہی کی نشانی ہے۔ رحمتِ عالم ﷺ نے صحابہ کرام کی محبت کو اپنی محبت قرار دیا۔ (ترمذی،5/463،حدیث:3888،دار الفکر)
اور اپنی محبت کی بناء پر اپنے اہلِ بیت اطہار سے محبت کرنے کا حکم دیا۔ (ترمذی،5/434،حدیث:3814،دار الفکر)
حضرات حسنین کریمین رضی اللّٰہ عنہما کے بارے میں آپ کا ارشادِ گرامی ہے،
’’اے اللّٰہ تعالیٰ! میں اِن دونوں سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان سے محبت کر۔ اور اُس سے بھی محبت کر جو اِن دونوں سے محبت کرے‘‘۔ (بخاری، ج2، ص 546، حدیث نمبر:3747، ترمذی، ج5، ص427، حدیث نمبر 3794)
6۔ دشمنانِ مصطفی ﷺ سے عداوت و نفرت کرنا:
جو اللّٰہ تعالیٰ اور حضور ﷺ کا دشمن و گستاخ ہو، سنتِ نبوی کا مخالف ہو، یا دین میں نئے نئے عقائدکے ذریعے فتنہ پھیلائے یا بدمذہبوں سے محبت کرتا ہو، ان سب سے عداوت رکھنا اور کنارہ کش ہوجانا بھی سچی محبت کی اہم علامت ہے۔
ارشادِ باری تعا لیٰ ہے،
’’تم نہ پاؤگے اُن لوگوں کو جو یقین رکھتے ہیں اللّٰہ اور پچھلے دن پر کہ دوستی کریں اُن سے جنہوں نے اللّٰہ اور اس کے رسول سے مخالفت کی اگر چہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا کنبے والے ہوں‘‘۔ (پارہ نمبر: 28، سورۃ المجادلہ، آیت نمبر:22)
صحابہ کرام علیہم الرضوان نے اللّٰہ عزوجل اور رسول ﷺ کی محبت میں اپنی عزت، جان، مال، اولاد وغیرہ کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔
شیخ التفسیر مولانا سید نعیم الدین مراد آبادی فرماتے ہیں،
حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللّٰہ عنہ نے جنگ احد میں اپنے والد جراح کو قتل کیا، حضرت ابو بکر رضی اللّٰہ عنہ نے بدر کے دن اپنے بیٹے عبدالرحمٰن (جو اس وقت ایمان نہ لائے تھے) کو لڑائی کے لیے طلب کیا لیکن حضور ﷺ نے اجازت نہ دی،
حضرت مصعب بن عمیر رضی اللّٰہ عنہ نے اپنے بھائی عبداللّٰہ بن عمیر کو قتل کیا،
حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ نے اپنے ماموں عاص بن ہشام بن مغیرہ کو جنگ بدر میں قتل کیا،
حضرات علی و حمزہ و ابوعبیدہ رضی اللّٰہ عنہم نے ربیعہ کے بیٹوں عتبہ اور شیبہ کو اور ولید بن عتبہ کو بدر میں قتل کیا جو ان کے رشتہ دار تھے، خدا تعالیٰ اور رسول ﷺ پر ایمان لانے والوں کو قرابت اور رشتہ داری کا کیا پاس؟
(خزائن العرفان،ج پارہ نمبر: 28، سورۃ المجادلہ، آیت نمبر:22)

