Jamal e Mustafa

Total Pages: 118

Page 112 of 118

عبد اللّٰہ بن اُبی منافق نے جب یہ کہا کہ ہم مدینہ لو ٹے تو عزت والے ذلت والوں کو نکال دیں گے۔ اس نے خود کو عزت والا اور مومنوں کو ذلت والا کہا۔ اس پر اُس کے بیٹے جو مخلص مومن تھے، حضرت عبداللّٰہ رضی اللّٰہ عنہ تلوار  لے کر شہر کے راستے پر کھڑے ہو گئے اور اپنے باپ سے کہا، تو اپنی زبان سے کہہ کہ میں سب سے زیادہ ذلیل ہوں اور اصحابِ رسول  سب سے زیادہ عزت دار ہیں ورنہ میں تیری گردن اڑادوں گا۔ اس  نے کہا، کیا تو سچ کہہ رہا ہے اور تو واقعی ایسا کرے گا؟

آپ نے فرمایا،

ہاں میں تیری گردن اڑادوں گا۔ اس پر اس منافق نے مذکورہ الفاظ کہے تب آپ نے اسے چھوڑا۔
(مدارج النبوۃ، ج1،ص378)

 

7۔ اللّٰہ تعالیٰ کی کتاب قرآن کریم سے محبت رکھنا:

قرآن کریم سے محبت رکھنا بھی سچی محبت کی علامات میں سے ہے۔ سرکار دو عالم کی مبارک زندگی قرآن حکیم ہی کی عملی تفسیر ہے۔

 

امام قاضی عیاض فرما تے ہیں،

قرآن کریم سے محبت کرنے کا مطلب یہ ہے کہ روزانہ اس کی تلاوت کی جا ئے ، اس کا مفہوم سمجھ کر اس کے احکام پر عمل کیا جائے اور اس کے منع کردہ کا موں سے اجتناب کیا جائے نیز اس کی تعلیمات کو پسند کرتے ہوئے اس کی حدود کی پابندی کی جائے۔

 

حضرت سہل بن عبداللّٰہ تستری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں ،

’’اللّٰہ تعالیٰ سے محبت کی علامت قرآن کریم سے محبت رکھنا ہے اور قرآن کریم سے محبت یہ ہے کہ رسولِ معظم سے محبت کی جائے، اور اس محبت کی علامت یہ ہے کہ آپ کی ہر سنت سے محبت کی جائے، اور سنت سے محبت کی علامت آخرت سے محبت رکھنا ہے، اور آخرت سے محبت کی کسوٹی یہ ہے کہ دنیا کو مکروہ اور ناپسند سمجھا جائے اور اس کی پہچان یہ ہے کہ صرف زندگی گزارنے کے ضروری اسباب اختیار کیے جائیں اور دنیا سے توشۂ آخرت کے سوا کچھ حاصل نہ کیا جائے‘‘۔
(کتاب الشفاء، ج1،ص27)

 

شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں،

قرآن عظیم کے حقوق میں سے ہے کہ اس میں شک و شبہ اور اعتراض نہ کرے اور اپنی خواہش سے ایسی تفسیر بھی نہ کرے جو اسلاف سے منقول نہ ہو اور خلافِ شرع ہو، جیسا کہ اس دور میں بعض جاہل کرتے ہیں کہ اپنی خود ساختہ باتوں کا نام تفسیر قرآن رکھتے ہیں، اور اتنا بھی نہیں جانتے کہ جس نے محض اپنی رائے سے قرآن کی تفسیر کی، اس نے کفر کیا۔
(مدارج النبوۃ، ج1،ص379)

 

ایمان کی تقویت کے لیے قرآن کریم کو اچھی آواز اور عربی لہجہ میں سننا بھی لذت کا باعث ہے۔

ایک شب حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللّٰہ عنہ قرآن کی تلاوت کر رہے تھے اور آقا دور سے ان کی تلاوت سن کر لذت پا رہے تھے۔

صبح ہوئی تو ان سے فرمایا،

رات تم  نے بہت اچھے انداز میں قرآن پڑھا۔حضرت ابو موسیٰ نے عرض کی، اگر مجھے معلوم ہو جاتا کہ میری تلاوت آقا سن رہے ہیں تو میں اپنی آواز کو مزید زینت دیتا۔
(مدارج النبوۃ، ج1،ص378، 379)

 

علامہ نبہانی نے انوارِ محمدیہ میں بہت انمول نکتہ بیان کیا ہے۔ آپ فرماتے ہیں،

’’جب تم کوئی ایسا شخص دیکھو جس پر اشعار سننے سے وجد و طرب طاری ہو جائے مگر قرآنی آیات سن کر اس کی یہ حالت نہ ہو تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس کا دل اللّٰہ تعالیٰ اور رسول  کی محبت سے خالی ہے‘‘۔

ڈھول باجے اور دیگر سازوں کے ساتھ لذت حاصل کرنے والوں کے لیے یہ پیغامِ عبرت ہے۔ العیاذ باللّٰہ تعالیٰ

Share:
keyboard_arrow_up