عبد اللہ بن اُبی منافق نے جب یہ کہا کہ ہم مدینہ لو ٹے تو عزت والے ذلت والوں کو نکال دیں گے۔اس نے خود کو عزت والا اورمومنوں کو ذلت والا کہا۔ اس پر اُس کے بیٹے جو مخلص مومن تھے، حضرت عبداللہرضی اللہ عنہتلوار لے کر شہر کے راستے پر کھڑے ہو گئے اور اپنے باپ سے کہا ، تو اپنی زبان سے کہہ کہ میں سب سے زیادہ ذلیل ہوں اور اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمسب سے زیادہ عزت دار ہیں ورنہ میں تیری گردن اڑادوں گا۔اس نے کہا، کیا توسچ کہہ رہاہے اور تو واقعی ایسا کرے گا؟ آپ نے فرمایا، ہاں میں تیری گردن اڑادوں گا۔اس پر اس منافق نے مذکور ہ الفاظ کہے تب آپ نے اسے چھوڑا۔()
7۔ اللہ تعا لیٰ کی کتاب قرآن کریم سے محبت رکھنا:
قرآن کریم سے محبت رکھنا بھی سچی محبت کی علامات میں سے ہے۔ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی مبارک زندگی قرآن حکیم ہی کی عملی تفسیر ہے۔ امام قاضی عیاض فرما تے ہیں، قرآن کریم سے محبت کرنے کا مطلب یہ ہے کہ روزانہ اس کی تلاوت کی جا ئے ، اس کا مفہوم سمجھ کراس کے احکام پر عمل کیا جا ئے اور اس کے منع کردہ کا موں سے اجتناب کیا جائے نیز اس کی تعلیمات کو پسند کرتے ہوئے اس کی حدود کی پابندی کی جائے۔
حضرت سہل بن عبداللہ تستری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں ،
’’اللہ تعا لیٰ سے محبت کی علامت قرآن کریم سے محبت رکھنا ہے اور قرآن کریم سے محبت یہ ہے کہ رسولِ معظمصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے محبت کی جائے، اور اس محبت کی علامت یہ ہے کہ آپ کی ہر سنت سے محبت کی جائے ،اور سنت سے محبت کی علامت آخرت سے محبت رکھنا ہے، اور آخرت سے محبت کی کسوٹی یہ ہے کہ دنیا کو مکر وہ اور ناپسند سمجھا جائے اور اس کی پہچان یہ ہے کہ صرف زندگی گزارنے کے ضروری اسباب اختیار کیے جائیں اور دنیا سے توشۂ آخرت کے سواکچھ حاصل نہ کیا جائے‘‘۔()
شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں، قرآن عظیم کے حقوق میں سے ہے کہ اس میں شک و شبہ اور اعتراض نہ کرے اور اپنی خواہش سے ایسی تفسیر بھی نہ کرے جو اسلاف سے منقول نہ ہواور خلافِ شرع ہو، جیسا کہ اس دور میں بعض جاہل کرتے ہیں کہ اپنی خود ساختہ باتوں کا نام تفسیرقرآن رکھتے ہیں ،اور اتنا بھی نہیں جانتے کہ جس نے محض اپنی رائے سے قرآن کی تفسیرکی، اس نے کفر کیا۔()
ایمان کی تقویت کے لیے قرآن کریم کو اچھی آواز اور عربی لہجہ میں سننا بھی لذت کا باعث ہے۔ ایک شب حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ قرآن کی تلاوت کررہے تھے اور آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمدور سے ان کی تلاوت سن کر لذت پارہے تھے۔صبح ہوئی تو ان سے فرمایا، رات تم نے بہت اچھے انداز میں قرآن پڑھا۔حضرت ابو موسیٰ نے عرض کی، اگر مجھے معلوم ہو جاتا کہ میری تلاوت آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سن رہے ہیں تو میں اپنی آواز کو مزید زینت دیتا۔()
علامہ نبہانی نے انوارِ محمد یہ میں بہت انمول نکتہ بیان کیا ہے۔ آپ فرماتے ہیں،
’’جب تم کوئی ایسا شخص دیکھو جس پر اشعار سننے سے وجدو طرب طاری ہو جائے مگر قرآنی آیات سن کراس کی یہ حالت نہ ہو تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس کا دل اللہ تعا لیٰ اور رسول صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی محبت سے خالی ہے‘‘۔ڈھول باجے اور دیگر سازوں کے ساتھ لذت حاصل کرنے والوں کے لیے یہ پیغامِ عبرت ہے۔ العیاذ باللہ تعا لیٰ
8۔ امت مسلمہ پر شفقت کرنا اورخیر خواہی چاہنا:
حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے محبت کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ شفقت و رحمت کا سلوک کیا جائے اورانہیں ہر ممکن نفع پہنچا یا جائے۔نور ِمجسم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا ارشاد گرامی ہے ،
Page 112 of 120

