Jamal e Mustafa

Total Pages: 120

Page 113 of 120
’’دین خیر خواہی ہے۔ اللہ تعا لیٰ کے لیے ،اس کی کتاب کے لیے، اس کے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے لیے، مسلمانوں کے ائمہ کے لیے اور عام مسلمانوں کے لیے‘‘۔()
اللہ تعا لیٰ، کتابُ اللہ اور رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی خیر خواہی و نصیحت کا مفہوم ائمہ کرام نے یہ بیان کیا ہے کہ ان پر ایمان لایا جائے ، ان کے احکام کی پیروی کی جائے ، ان کے راستے کی طرف بلایا جائے اوردین حق کی مدد کرتے ہو ئے اس کی تبلیغ و اشاعت کے لیے ہر ممکن سعی کی جائے۔()
آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکا ارشاد ہے، میری مثال ایسی ہے جیسے کسی نے آگ جلائی اور جب اردگرد کا ماحول آگ کی روشنی سے چمک اٹھا تو کیڑے پتنگے آگ پر گرنے لگے۔ وہ شخص پوری قوت سے ان پروانوں پتنگوں کو آگ میں گرنے سے روک رہا ہے لیکن وہ اس کی کوشش کونا کام بنا کر آگ میں گرے جاتے ہیں، ایسے ہی میں تمہیں کمر سے پکڑپکڑ کر آگ سے روک رہا ہوں، مگر تم ہو کہ آگ میں گرے جارہے ہو‘‘۔()
نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکا یہ ارشاد مبارک ہمیں اپنی دینی ذمہ داریوں کا احسا س دلانے میں نہایت معاون ہے۔آقا کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنی امت پر نہایت شفقت و مہربا نی فرماتے اور مشکلات میں لوگوں کی مدد فرماتے ، آپ دنیا وی معاملات میں ان کی دستگیری فرمانے کے ساتھ ساتھ ان کی اخروی کا میابی اورنجات کے لیے بھی ہر ممکن سعی فرماتے۔ محبت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم بھی آپ کے مبارک اُسوۂ حسنہ کو مشعلِ راہ بنائیں۔
9۔دنیا سے بے رغبت ہونا اور فقرکو غنا پر ترجیح دینا:
مالکِ کل سیدِ عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمسے محبت کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ محبت کا دعویدار ز ہد و تقویٰ اور فقرو فاقہ کا خو گر ہو۔ امام قاضی عیاض مالکی، شیخ عبدالحق محدث دہلوی اور دیگر اکابر ائمہ دین نے یہی فرمایاہے۔
حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک صحابی نے بارگاہ رسالت میں عرض کی، یارسول اللہصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم! میں آپ سے محبت کرتا ہوں۔ آپ نے فرمایا، سوچ لو! تم کیا کہہ رہے ہو، عرض کی، اللہ تعالیٰ کی قسم!میں آپ سے محبت کرتا ہوں۔اس نے یہ بات تین بار کہی۔ارشاد فرمایا، اگر تم مجھ سے محبت کرتے ہو تو فقر کے لیے تیار ہو جاؤ کیو نکہ مجھ سے محبت کرنے والوں کی طرف فقر سیلاب کے اپنی منزل کی طرف دوڑنے سے بھی تیز آتا ہے۔()
مدارج النبوۃ میں یہ بھی ہے کہ ایک اورشخص آیا اور اس نے کہا، میں اللہ تعا لیٰ سے محبت رکھتا ہوں تو حضورصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے فرمایا، توآفات ومصائب کے لیے تیار ہو جا۔ امام نبہانی نے انوار محمدیہ میں سچی محبت کی ایک علامت یہ بھی بیان کی ہے کہ عاشق کو راہ ِحق میں مصائب برداشت کرنے میں لطف آتا ہے اس لیے آفا ت ومصائب سے اس کی محبت اور مضبوط ہوتی ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکا ارشاد گرامی ہے،’’آگ خواہشات سے گھیردی گئی ہے اور جنت تکالیف سے گھیردی گئی ہے‘‘۔() (بخاری، مسلم)ایک اورحدیث پاک میں ارشادہوا کہ ہر روز طلوع آفتاب کے وقت دوفرشتے یہ پکارتے ہیں اور سوائے جن وانس کے اسے سب سنتے ہیں ، وہ کہتے ہیں، اے لوگو اپنے رب کی طرف آؤ، جو مال کم ہواور گزر بسر کے لیے کافی ہو وہ اس مال سے بہترہے جو بہت ہواور خد اسے غافل کردے۔()
10۔ محبوبِ کبریا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی تعظیم و توقیر کرنا:
سچی محبت کی سب سے اہم علامت جو کئی علامات کی جامع بھی ہے اور دین کا بنیادی اصول بھی، وہ یہ ہے کہ رسولِ معظمصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی تعظیم وتو قیر کی جائے اوریہی ایمان کی روح ہے۔
Share:
keyboard_arrow_up