Jamal e Mustafa

Total Pages: 118

Page 113 of 118

8۔ امت مسلمہ پر شفقت کرنا اورخیر خواہی چاہنا:

حضور سے محبت کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ شفقت و رحمت کا سلوک کیا جائے اور انہیں ہر ممکن نفع پہنچا یا جائے۔

نورِ مجسم کا ارشاد گرامی ہے ،

’’دین خیر خواہی ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ کے لیے، اس کی کتاب کے لیے، اس کے رسول  کے لیے، مسلمانوں کے ائمہ کے لیے اور عام مسلمانوں کے لیے‘‘۔ (مسلم، ج1،ص74،حدیث نمبر:55)

 

اللّٰہ تعالیٰ، کتابُ اللّٰہ اور رسولُ اللّٰہ کی خیر خواہی و نصیحت کا مفہوم ائمہ کرام نے یہ بیان کیا ہے کہ ان پر ایمان لایا جائے، ان کے احکام کی پیروی کی جائے ، ان کے راستے کی طرف بلایا جائے اور دین حق کی مدد کرتے ہو ئے اس کی تبلیغ و اشاعت کے لیے ہر ممکن سعی کی جائے۔ (مدارج النبوۃ، ج1،ص381)

 

آقا و مولیٰ کا ارشاد ہے،

میری مثال ایسی ہے جیسے کسی نے آگ جلائی اور جب ارد گرد کا ماحول آگ کی روشنی سے چمک اٹھا تو کیڑے پتنگے آگ پر گرنے لگے۔ وہ شخص پوری قوت سے ان پروانوں پتنگوں کو آگ میں گرنے سے روک رہا ہے لیکن وہ اس کی کوشش کونا کام بنا کر آگ میں گرے جاتے ہیں، ایسے ہی میں تمہیں کمر سے پکڑ پکڑ کر آگ سے روک رہا ہوں، مگر تم ہو کہ آگ میں گرے جا رہے ہو‘‘۔
(بخاری، ج11،ص238،حدیث نمبر:3173)

 

نبی کریم کا یہ ارشاد مبارک ہمیں اپنی دینی ذمہ داریوں کا احساس دلانے میں نہایت معاون ہے۔ آقا کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنی امت پر نہایت شفقت و مہربانی فرماتے اور مشکلات میں لوگوں کی مدد فرماتے، آپ دنیاوی معاملات میں ان کی دستگیری فرمانے کے ساتھ ساتھ ان کی اخروی کا میابی اور نجات کے لیے بھی ہر ممکن سعی فرماتے۔محبت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم بھی آپ کے مبارک اُسوۂ حسنہ کو مشعلِ راہ بنائیں۔

 

9۔ دنیا سے بے رغبت ہونا اور فقر کو غنا پر ترجیح دینا:

مالکِ کل سیدِ عالم سے محبت کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ محبت کا دعویدار زہد و تقویٰ اور فقر و فاقہ کا خو گر ہو۔

 

امام قاضی عیاض مالکی، شیخ عبدالحق محدث دہلوی اور دیگر اکابر ائمہ دین نے یہی فرمایا ہے۔

حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ:

ایک صحابی نے بارگاہ رسالت میں عرض کی، یارسول اللّٰہ ! میں آپ سے محبت کرتا ہوں۔ آپ نے فرمایا، سوچ لو! تم کیا کہہ رہے ہو، عرض کی، اللّٰہ تعالیٰ کی قسم! میں آپ سے محبت کرتا ہوں۔ اس نے یہ بات تین بار کہی۔

ارشاد فرمایا،

اگر تم مجھ سے محبت کرتے ہو تو فقر کے لیے تیار ہوجاؤ کیونکہ مجھ سے محبت کرنے والوں کی طرف فقر سیلاب کے اپنی منزل کی طرف دوڑنے سے بھی تیز آتا ہے۔ (ترمذی،ج 8، ص351، حدیث نمبر:2273)

 

مدارج النبوۃ میں یہ بھی ہے کہ ایک اور شخص آیا اور اس نے کہا، میں اللّٰہ تعالیٰ سے محبت رکھتا ہوں تو حضور نے فرمایا،

تو آفات و مصائب کے لیے تیار ہوجا۔

 

امام نبہانی نے انوارِ محمدیہ میں سچی محبت کی ایک علامت یہ بھی بیان کی ہے کہ عاشق کو راہِ حق میں مصائب برداشت کرنے میں لطف آتا ہے اس لیے آفات و مصائب سے اس کی محبت اور مضبوط ہوتی ہے۔

نبی کریم کا ارشاد گرامی ہے،

’’ آگ خواہشات سے گھیر دی گئی ہے اور جنت تکالیف سے گھیر دی گئی ہے‘‘۔
(بخاری، ج20،ص133،حدیث نمبر:6006، مسلم، ج4،ص2174،حدیث نمبر:2822) ، (بخاری، مسلم)

 

ایک اور حدیث پاک میں ارشاد ہوا کہ:

ہر روز طلوع آفتاب کے وقت دو فرشتے یہ پکارتے ہیں اور سوائے جن و انس کے اُسے سب سنتے ہیں، وہ کہتے ہیں، اے لوگو اپنے رب کی طرف آؤ، جو مال کم ہو اور گزر بسر کے لیے کافی ہو وہ اس مال سے بہتر ہے جو بہت ہو اور خدا سے غافل کردے۔
(مشکوٰۃ، ج1،ص419،حدیث نمبر:1860)

Share:
keyboard_arrow_up