Jamal e Mustafa

Total Pages: 118

Page 114 of 118

10۔ محبوبِ کبریا کی تعظیم و توقیر کرنا:

سچی محبت کی سب سے اہم علامت جو کئی علامات کی جامع بھی ہے اور دین کا بنیادی اصول بھی، وہ یہ ہے کہ رسولِ معظم کی تعظیم و توقیر کی جائے اور یہی ایمان کی روح ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے،

’’اور رسول کی تعظیم و توقیر کرو‘‘۔ (پارہ نمبر: 26، سورۃ   الفتح ، آیت نمبر: 9)

 

دوسری جگہ ارشاد فرمایا گیا،

’’تو وہ جو اُس پر ایمان لائیں اور اُس کی تعظیم کریں اور اسے مدد دیں اور اُس نور کی پیروی کریں جو اُس کے ساتھ اترا، وہی با مراد ہوئے‘‘ ۔ (پارہ نمبر: 9، سورۃ الاعراف، آیت نمبر:157)

 

ان آیات میں حضور کی تعظیم و توقیر کو واجب قرار دیا گیا ہے۔ یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں رسولِ معظم کی بارگاہِ اقدس کے مختلف آداب بھی بیان فرمائے ہیں،

ملاحظہ فرمائیں۔

 

ا۔ سورۃ الحجرات کی پہلی آیت میں ارشاد ہوا،

’’اے ایمان والو! اللّٰہ اور اُس کے رسول سے آگے نہ بڑھو اور اللّٰہ سے ڈرو، بیشک اللّٰہ سنتا جانتا ہے‘‘۔
(پارہ نمبر: 26، سورۃ الحجرات، آیت نمبر:1)

 

۲۔ ’’اے ایمان والو! اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اُس غیب بتانے والے (نبی )کی آواز سے اور اُن کے حضور بات چلا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اکارت نہ ہو جائیں اور تمہیں خبر نہ ہو‘‘۔ (پارہ نمبر: 26، سورۃ الحجرات، آیت نمبر:2)

 

۳۔ ’’بے شک وہ جو تمہیں حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں اکثر بے عقل ہیں اور اگر وہ صبر کرتے یہاں تک کہ تم خود ان کے پاس تشریف لاتے تو یہ ان کے لیے بہتر تھا‘‘۔
(پارہ نمبر: 26، سورۃ الحجرات، آیت نمبر:4،5)

 

۴۔ ’’اے ایمان والو! نبی کے گھروں میں نہ حاضر ہو جب تک اذن (اجازت) نہ پاؤ مثلاً کھانے کے لیے بلائے جاؤ، نہ یوں کہ خود اس کے پکنے کی راہ تکو، ہاں جب بلائے جاؤ تو حاضر ہو اور جب کھا چکو تو متفرق ہوجاؤ نہ یہ کہ (وہیں) بیٹھے باتوں میں دل بہلاؤ، بے شک اس میں نبی کو ایذا ہوتی تھی تو وہ تمہارا لحاظ فرماتے تھے اور اللّٰہ حق فرمانے میں نہیں شرماتا‘‘۔ (پارہ نمبر: 22، سورۃ الاحزاب ، آیت نمبر:53)

 

۵۔ ’’ایمان والے تو وہی ہیں جو اللّٰہ اور اس کے رسول پر یقین لائے اور جب رسول کے پاس کسی ایسے کام میں حاضر ہو ئے ہوں جس کے لیے جمع کیے گئے ہوں تو نہ جائیں جب تک ان سے اجازت نہ لے لیں، وہ جوتم سے اجازت مانگتے ہیں وہی ہیں جو اللّٰہ اور اس کے رسول پر ایمان لاتے ہیں‘‘۔ (پارہ نمبر: 18، سورۃ   النور، آیت نمبر:64)

 

۶۔ ’’رسول کے پکارنے کو آپس میں ایسا نہ ٹھہرا لو جیسا تم میں ایک دوسرے کو پکارتا ہے۔ بے شک اللّٰہ جانتا ہے جو تم میں چپکے نکل جاتے ہیں کسی چیز کی آڑ لے کر، تو ڈریں وہ جو رسول کے حکم کے خلاف کرتے ہیں کہ انہیں کوئی فتنہ پہنچے یا ان پر درد ناک عذاب پڑے‘‘۔ (پارہ نمبر: 18، سورۃ   النور، آیت نمبر:63)

 

۷۔ ’’اے ایمان والو! ایسی باتیں نہ پوچھو جو تم پر ظاہر کی جائیں تو تمہیں بری لگیں‘‘۔
(پارہ نمبر: 6، سورۃ  المائدۃ، آیت نمبر:101)

 

ان آیات مقدسہ سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو رہی ہے کہ نبی کریم ﷺ  کی تعظیم و توقیر عین ایمان ہے اور آپ کی تعظیم کے بغیر ایمان کا دعویٰ بے کار ہے۔

دیکھئے! قرآن حکیم سکھا رہا ہے، ان سے آگے نہیں بڑھنا، ان کی بارگاہ میں آہستہ آواز میں گفتگو کرنا ورنہ ساری نیکیاں برباد ہوجائیں گی اور تمہیں خبر تک نہ ہو گی، ان کے دولت کدہ میں بغیر اجازت کے نہ جانا مگر ان کے بلانے پر ضرور جانا، اور جب کھاچکو تو اجازت لے کر فوراً چلے آنا۔ جس طرح ان کی خدمت میں حاضری کے لیے اجازت ضروری ہے اسی طرح ان کی بارگاہ سے رخصت ہو نے کے لیے بھی اجازت ضروری ہے۔ اور یہ بھی یاد رکھو کہ وہ تم جیسے بشر نہیں کہ جیسے چاہو  پکارو بلکہ تم پر لازم ہے کہ انہیں اچھے القاب و آداب سے پکارو۔

آخری آیت میں یہ حکم دیا گیا کہ محبوبِ خدا سے بیکار و بے موقع اور بے مقصد سوال نہ کیا کرو۔

پس ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ سرکارِ دو عالم  کی تعظیم و توقیر اور کما حقہ ادب و احترام کیا جائے۔

ادب گا ہیست زیرِ آسماں از عرش نازک تر

نفس گم کردہ می آید جنید و بایزید ایں جا

Share:
keyboard_arrow_up