Jamal e Mustafa

Total Pages: 120

Page 114 of 120
ارشادِ باری تعالیٰ ہے،
’’اور رسول کی تعظیم و تو قیر کرو‘‘۔()
دوسری جگہ ارشاد فرمایا گیا ،
’’تو وہ جو اُس پر ایمان لائیں اور اُس کی تعظیم کریں اوراسے مدد دیں اور اُس نور کی پیروی کریں جو اُس کے ساتھ اترا ، وہی بامراد ہوئے‘‘۔()
ان آیات میں حضورصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی تعظیم وتو قیر کو واجب قرار دیا گیا ہے۔ یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ اللہ تعا لیٰ نے قرآن حکیم میں رسولِ معظمصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی بارگاہِ اقدس کے مختلف آداب بھی بیان فرمائے ہیں، ملاحظہ فرمائیں۔
ا۔سورۃ الحجرات کی پہلی آیت میں ارشاد ہوا،’’ اے ایمان والو!اللہ اور اُس کے رسول سے آگے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرو، بیشک اللہ سنتاجانتا ہے‘‘۔()
۲۔’’اے ایمان والو! اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اُس غیب بتانے والے (نبی )کی آواز سے اور اُن کے حضو ربات چلا کرنہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اکارت نہ ہو جائیں اور تمہیں خبر نہ ہو‘‘۔()
۳۔’’بے شک وہ جو تمہیں حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں اکثر بے عقل ہیں اور اگر وہ صبر کرتے یہاں تک کہ تم خود ان کے پاس تشریف لاتے تو یہ ان کے لیے بہتر تھا‘‘۔()
۴۔’’اے ایمان والو !نبی کے گھر وں میں نہ حاضر ہو جب تک اذن (اجازت) نہ پاؤ مثلاً کھانے کے لیے بلائے جاؤ، نہ یوں کہ خود اس کے پکنے کی راہ تکو ،ہاں جب بلائے جاؤتو حاضر ہو اور جب کھاچکو تو متفرق ہوجاؤنہ یہ کہ (وہیں) بیٹھے باتوں میں دل بہلاؤ، بے شک اس میں نبی کو ایذا ہوتی تھی تو وہ تمہارا لحاظ فرماتے تھے اور اللہ حق فرمانے میں نہیں شرماتا‘‘۔()
۵۔’’ایمان والے تو وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر یقین لائے اور جب رسول کے پاس کسی ایسے کام میں حاضر ہو ئے ہوں جس کے لیے جمع کیے گئے ہوں تو نہ جائیں جب تک ان سے اجازت نہ لے لیں، وہ جوتم سے اجازت مانگتے ہیں وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاتے ہیں‘‘۔()
۶۔’’رسول کے پکارنے کو آپس میں ایسا نہ ٹھہرا لو جیسا تم میں ایک دوسرے کو پکارتا ہے۔ بے شک اللہ جانتا ہے جو تم میں چپکے نکل جاتے ہیں کسی چیز کی آڑلے کر، تو ڈریں وہ جو رسول کے حکم کے خلاف کرتے ہیں کہ انہیں کوئی فتنہ پہنچے یاان پر دردناک عذاب پڑے‘‘۔()
۷۔’’اے ایمان والو! ایسی باتیں نہ پوچھوجو تم پر ظاہر کی جائیں تو تمہیں بری لگیں‘‘۔()
ان آیات مقدسہ سے یہ حقیقت روزِروشن کی طرح عیاں ہورہی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی تعظیم و تو قیرعین ایمان ہے اورآپ کی تعظیم کے بغیر ایمان کا دعویٰ بےکارہے۔
دیکھئے !قرآن حکیم سکھا رہاہے، ان سے آگے نہیں بڑھنا، ان کی بارگاہ میں آہستہ آواز میں گفتگو کرنا ورنہ ساری نیکیاں برباد ہو جائیں گی اور تمہیں خبر تک نہ ہو گی، ان کے دولت کدہ میں بغیر اجازت کے نہ جانا مگر ان کے بلانے پر ضرور جانا، اور جب کھا چکو تو اجازت لے کر فوراًچلے آنا۔جس طرح ان کی خدمت میں حاضر ی کے لیے اجازت ضروری ہے اسی طرح ان کی بارگاہ سے رخصت ہو نے کے لیے بھی اجازت ضروری ہے۔
اور یہ بھی یاد رکھو کہ وہ تم جیسے بشر نہیں کہ جیسے چاہو پکار و بلکہ تم پر لازم ہے کہ انہیں اچھے القاب و آداب سے پکارو۔ آخری آیت میں یہ حکم دیا گیا کہ محبوبِ خدا سے بیکار وبے موقع اور بے مقصد سوال نہ کیا کرو۔پس ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی تعظیم وتو قیر اور کما حقہ ادب و احترام کیا جائے۔
Share:
keyboard_arrow_up