سورۂ بقرہ میں ارشاد ہوا،
’’اے ایمان والو! راعنا نہ کہو اور یوں عرض کرو کہ حضور ہم پر نظر رکھیں اور پہلے ہی بغور سنو، اور کافروں کے لیے درد ناک عذاب ہے‘‘۔ (پارہ نمبر: 6، سورۃ المائدۃ، آیت نمبر:104)
اس آیت کے شانِ نزول میں شیخ التفسیر مولانا مفتی سید محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں،
’’جب حضورِ اقدس ﷺ صحابہ کو کچھ تعلیم و تلقین فرماتے تو وہ کبھی کبھی درمیان میں عرض کیا کرتے، ’’راعنا یا رسول اللّٰہ‘‘۔ یا رسول اللّٰہ ﷺ!ہمارے حال کی رعایت فرمائیے یعنی کلام اقدس کو اچھی طرح سمجھنے کا موقع دیجیے۔
یہود کی لغت میں یہ کلمہ سوءِ ادب کے معنی رکھتا تھا۔ انہوں نے اسے بری نیت سے کہنا شرو ع کیا۔
حضرت سعد بن معاذ رضی اللّٰہ عنہ یہود کی اصطلاح سے واقف تھے۔ آپ نے ایک روز ان سے فرمایا،
اے دشمنانِ خدا تم پر لعنت! اگر میں نے اب کسی کی زبان سے یہ کلمہ سنا، اس کی گردن مار دوں گا۔ یہود نے کہا، آپ ہم پر برہم ہو تے ہیں مسلمان بھی تو یہی کہتے ہیں۔
اس پر آپ رنجیدہ ہوکر خدمت اقدس میں حاضر ہوئے ہی تھے کہ یہ آیت نازل ہوئی جس میں رَاعِنَا کہنے کی ممانعت فرمادی گئی اور اس معنی کا دوسرا لفظ ’’اُنْظُرْ نَا‘‘ کہنے کا حکم ہوا ۔
اس سے معلوم ہوا کہ انبیاء کی تعظیم و توقیر اور ان کی جناب میں کلماتِ ادب عرض کرنا فرض ہے اور جس کلمہ میں ترکِ ادب کا شائبہ بھی ہو، وہ زبان پر لانا ممنوع ہے۔
(پارہ نمبر: 6، سورۃ المائدۃ، آیت نمبر:104)
امام قاضی عیاض مالکی علیہ الرحمہ کتاب الشفاء جلد دوم میں محدث ابن قاسم کے حوالے سے فرماتے ہیں کہ
’’جو شخص حضور ﷺ کی بارگاہ میں گستاخی کا مرتکب ہو یا آپ کی ذاتِ اقدس کو برا کہے یا کسی قسم کا کوئی عیب لگائے یا آپ کی شان گھٹانے کی کوشش کرے ، علمائے امت کا اجماع ہے کہ حاکم وقت اس شخص کو قتل کروا دے اور اس کے لیے یہ دلیل کافی ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کی تعظیم و توقیر فرض کی ہے اور آپ کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے اور اس شخص نے ان احکام کا انکار کیا ہے‘‘۔
حرفِ آخر:
بر صغیر پاک و ہند میں انگریز دور میں کچھ علمائے سوء نے بارگاہِ رسالت میں گستاخانہ کفریہ عبارات لکھیں جن پر علمائے حرمین شریفین نے ان گستاخوں کی تکفیر کی، ان کے فتاوی کا مجموعہ ’’حسام الحرمین ‘‘کے نام سے بارہا شائع ہوچکا ہے۔
امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہٗ اور برصغیر کے بے شمار علماء و مشائخ نے ان فتاویٰ کی تصدیق و تشہیر کی۔ اگرچہ ان گستاخیوں کے مرتکب علمائے سوء تائب نہ ہو ئے اور اپنے کفر کی بھونڈی تاویلیں کرتے رہے لیکن بے شمار مسلمان ان کی گمراہی کا شکار ہو نے سے بچ گئے۔
اس وقت اُن کفریہ عبارات پر گفتگو کرنا مقصود نہیں ہے، صرف مذکورہ آیت قرآنی کے پیغام کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔ تمام تفاسیر سے واضح ہے کہ صحابہ کرام لفظ ’’رَاعِنَا ‘‘ توہین کی نیت سے ہر گز نہ کہتے تھے پھر بھی اللّٰہ تعالیٰ نے یہ لفظ کہنے سے منع فرمادیا۔
ثابت ہوا کہ بغیر توہین کی نیت کے بھی وہ لفظ کہنا حرام ہے جو کوئی گستاخ توہین کی نیت سے بول سکتا ہو۔
اب وہ حضرات ٹھنڈے دماغ سے غور فرمائیں جو تسلیم کرتے ہیں کہ متنازع عبارات میں ایک پہلو ضرور گستاخی کا ہے اگر چہ بقول ان کے وہ تو ہین کی نیت سے نہیں لکھی گئیں۔ قرآن حکیم کے اس واضح فیصلے کے با وجود کیا وجہ ہے کہ ان رسوائے زمانہ کتب کی اشاعت کا سلسلہ جاری ہے اور ان میں وہ توہین آمیز عبارات بھی موجود ہیں جنہیں امت مسلمہ کے اکابر مفتیان کرام و علماء حق متفقہ طور پر کفر قرار دے چکے۔

