Jamal e Mustafa

Total Pages: 120

Page 115 of 120
ادب گا ہیست زیرِ آسماں از عرش نازک تر
نفس گم کردہ می آید جنید و بایزید ایں جا
سورۂ بقرہ میں ارشاد ہو ا،’’اے ایمان والو!راعنا نہ کہو اور یوں عرض کروکہ حضور ہم پر نظر رکھیں اور پہلے ہی بغور سنو، اور کافروں کے لیے درد ناک عذاب ہے‘‘۔()
اس آیت کے شانِ نزول میں شیخ التفسیر مولانامفتی سید محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں،
’’جب حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم صحابہ کو کچھ تعلیم وتلقین فرماتے تووہ کبھی کبھی درمیان میں عرض کیا کرتے، ’’راعنا یا رسول اللہ‘‘۔ یارسول اللہصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم!ہمار ے حال کی رعایت فرمائیے یعنی کلام اقدس کو اچھی طرح سمجھنے کا موقع دیجیے۔ یہود کی لغت میں یہ کلمہ سوءِ ادب کے معنی رکھتا تھا۔ انہوں نے اسے بری نیت سے کہنا شرو ع کیا۔ حضرت سعد بن معاذرضی اللہ عنہ یہود کی اصطلاح سے واقف تھے۔ آپ نے ایک روزان سے فرمایا، اے دشمنانِ خدا تم پر لعنت! اگرمیں نے اب کسی کی زبان سے یہ کلمہ سنا،اس کی گردن ماردوں گا۔
یہود نے کہا، آپ ہم پر برہم ہو تے ہیں مسلمان بھی تو یہی کہتے ہیں۔ اس پر آپ رنجیدہ ہو کر خدمت اقد س میں حاضر ہو ئے ہی تھے کہ یہ آیت نازل ہوئی جس میں رَاعِنَا کہنے کی ممانعت فرمادی گئی اوراس معنی کا دوسرا لفظ ’’اُنْظُرْ نَا‘‘ کہنے کا حکم ہو ا۔ اس سے معلوم ہو اکہ انبیاء کی تعظیم و تو قیر اور ان کی جناب میں کلماتِ ادب عرض کرنا فرض ہے اور جس کلمہ میں ترکِ ادب کا شائبہ بھی ہو، وہ زبان پر لانا ممنوع ہے۔()
امام قاضی عیاض مالکی علیہ الرحمہ کتاب الشفا جلد دوم میں محدث ابن قاسم کے حوالے سے فرماتے ہیں کہ ’’جو شخص حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی بارگاہ میں گستاخی کا مرتکب ہو یا آپ کی ذاتِ اقدس کو برا کہے یا کسی قسم کا کوئی عیب لگائے یا آپ کی شان گھٹانے کی کوشش کرے ، علمائے امت کا اجماع ہے کہ حاکم وقت اس شخص کو قتل کر وادے اور اس کے لیے یہ دلیل کا فی ہے کہ اللہ تعا لیٰ نے آپ کی تعظیم و تو قیر فرض کی ہے اور آپ کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے اور اس شخص نے ان احکام کا انکار کیاہے‘‘۔
حرفِ آخر:
برصغیر پاک وہند میں انگریزدور میں کچھ علمائے سوء نے بارگاہِ رسالت میں گستاخانہ کفر یہ عبارات لکھیں جن پر علمائے حر مین شریفین نے ان گستاخوں کی تکفیر کی، ان کے فتاوی کا مجموعہ ’’حسام الحرمین ‘‘کے نام سے بارہا شائع ہوچکا ہے۔ امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہٗ اور برصغیر کے بے شمار علماء ومشائخ نے ان فتاویٰ کی تصدیق وتشہیر کی۔ اگرچہ ان گستاخیوں کے مرتکب علمائے سوء تائب نہ ہو ئے اور اپنے کفر کی بھو نڈی تاویلیں کرتے رہے لیکن بے شمار مسلمان ان کی گمراہی کا شکار ہو نے سے بچ گئے۔
اس وقت اُن کفر یہ عبارات پر گفتگو کرنا مقصود نہیں ہے، صرف مذکورہ آیت قرآنی کے پیغام کی طرف متوجہ کرنا چا ہتا ہوں۔تمام تفا سیر سے واضح ہے کہ صحابہ کرام لفظ ’’رَاعِنَا ‘‘ توہین کی نیت سے ہر گزنہ کہتے تھے پھر بھی اللہ تعا لیٰ نے یہ لفظ کہنے سے منع فرمادیا۔
ثابت ہو اکہ بغیر توہین کی نیت کے بھی وہ لفظ کہنا حرام ہے جو کوئی گستاخ تو ہین کی نیت سے بول سکتا ہو۔
اب وہ حضرات ٹھنڈے دماغ سے غور فرمائیں جو تسلیم کرتے ہیں کہ متنازع عبارات میں ایک پہلوضرورگستاخی کاہے اگرچہ بقول ان کے وہ تو ہین کی نیت سے نہیں لکھی گئیں۔ قرآن حکیم کے اس واضح فیصلے کے باوجود کیا وجہ ہے کہ ان رسوائے زمانہ کتب کی اشاعت کا سلسلہ جاری ہے اوران میں وہ توہین آمیز عبارات بھی موجود ہیں جنہیں امت مسلمہ کے اکابر مفتیان کرام و علما ء حق متفقہ طور پر کفر قرار دے چکے۔
Share:
keyboard_arrow_up