قرآن حکیم نے یہود و نصاریٰ کے بارے میں بیان کیا ہے کہ:
’’انہوں نے اپنے پادریوں اور راہبوں کو اللّٰہ کے سوا خدا بنا لیا‘‘۔
(پارہ نمبر: 24، سورۃ التوبۃ، آیت نمبر: 31)
کیا جان بوجھ کر صراط مستقیم چھوڑ کر اپنے مولویوں کی راہ پر چلتے جانا یہود و نصاریٰ کی پیروی نہیں؟؟؟
﴿ فَاعْتَبِرُوْا یٰۤاُولِی الْاَبْصَارِ(۲)﴾
’’تو عبرت حاصل کرو اے نگاہ والو‘‘۔
(پارہ نمبر: 28، سورۃ الحشر، آیت نمبر: 2)
بارگاہِ رسالت کے گستاخوں کے لیے احکم الحاکمین خدائے قہار عزوجل کا فیصلہ ملاحظہ فرمائیے،
’’بے شک جو لوگ ایذا دیتے ہیں اللّٰہ اور اس کے رسول کو، ان پر اللّٰہ کی لعنت ہے دنیا و آخرت میں، اور ان کے لیے بنا رکھا ہے ذلت والا عذاب ‘‘۔ (پارہ نمبر: 22، سورۃ الاحزاب ، آیت نمبر:57)
دشمنِ احمد پہ شدت کیجیے
ملحدوں کی کیا مروت کیجیے
شرک ٹھہرے جس میں تعظیم حبیب
اُس برے مذہب پہ لعنت کیجیے
{اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُحِبُّکَ وَالْعَمَلَ الَّذِیْ یُبَلِّغُنِیْ حُبَّکَ اَللّٰہُمَّ اجْعَلْ حُبَّکَ اَحَبَّ اِلَیَّ مِنْ نَفْسِیْ وَاَہْلِیْ وَمِنَ الْمَاءِ الْبَارِدِ}
’’اے اللّٰہ!میں تجھ سے تیری محبت اور تیرے حبیب ﷺ کی محبت، اور اُن کی محبت مانگتا ہوں جو تجھ سے محبت کرتے ہیں، اور اُس عمل کی توفیق مانگتا ہوں جو تیری محبت تک پہنچا دے۔ اے اللّٰہ! اپنی محبت کو میرے لیے میری جان، میری اولاد اور ٹھنڈے پانی سے بھی زیادہ محبوب بنا دے‘‘۔
(سنن ترمذی،ج 11،ص395،حدیث نمبر:3412)
اللھم ارزقنا حبک وحب حبیبک وحب من یحبک وحب عمل یقربنا الیک اللھم یارب بجاہ نبیک المصطفیٰ ورسولک المرتضیٰ طھر قلوبنا من کل وصف یباعدنا عن مشاھدتک ومجتک وامتنا علی السنۃ والجماعۃ والشوق الیٰ لقائک ولقاء حبیبک یا ذا الجلال والاکرام
صلی اللّٰہ علی النبی الامی والہ واصحابہ ﷺ صلوۃ و سلاما علیک یا سیدی یا رسول اللّٰہ والحمد للّٰہ رب العالمین
تحریک ختم نبوت میں شاہ صاحب علیہ الرحمہ کا کردار
از قلم: انجینئر محمد آصف قادری
الحمد لک یا رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علیک یا خاتم النبیین
تمام تعریفیں اللّٰہ تبارک و تعالیٰ کے لیے جو ہر مخلوق کا خالق و مالک ہے۔ لاکھوں کروڑوں درود وسلام ہوں سیدنا محمدمصطفیٰ ﷺ پر جو منصبِ نبوت پر فائز ہونے میں سب سے اول، دنیا میں بابِ نبوت کے خاتم اور آخرت میں بابِ شفاعت کے فاتح ہیں، وہی ہیں جن کی خاطر یہ کائناتِ رنگ و بُو بنائی گئی۔
بقول اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ،
وہ جو نہ تھے تو کچھ نہ تھا، وہ جو نہ ہوں تو کچھ نہ ہو
جان ہیں وہ جہان کی، جان ہے تو جہان ہے
علامہ ابن کثیر علیہ الرحمہ رقمطراز ہیں،
’’اللّٰہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اور اس کے رسول ﷺ نے احادیثِ متواترہ کے ذریعے بتا دیا کہ ان کے بعد کوئی نبی نہیں تاکہ لوگوں پر ظاہر ہوجائے کہ خاتم النبیین ﷺ کے بعدجو بھی نبوت کا دعویٰ کرے گا وہ کذاب ، افترا پرداز، دجال، دھوکہ باز، خود گمراہ اور دوسروں کو گمراہ کرنے والا ہے‘‘۔ (تفسیر ابن کثیر)
علامہ سید محمود آلوسی حنفی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں،
’’آقا و مولیٰ ﷺ کا آخری نبی ہونا ایسا بنیادی عقیدہ ہے کہ جس کی تصریح قرآن و سنت میں موجود ہے اور اس پر امت کا اجماع ہے۔ پس جو کوئی بھی نبوت کا دعویٰ کرتا ہے وہ کافر ہے۔ اور اگر وہ توبہ نہ کرے اور اس دعوے پر مُصر رہے تو اس کو قتل کیا جائے گا ‘‘۔ (تفسیر روح المعانی)

