مسلمان پر لازم ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے ہر حکم کو مانے خواہ اس کی وجہ اور حکمت سمجھ میں آئے یا نہیں۔
البتہ اللّٰہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں غور و فکر سے منع نہیں کیا کیونکہ جب کسی حکم کی حکمت بھی سمجھ میں آجائے تو بندے کو شرح صدر ہوتا ہے اور اس کا ایمان مزید مضبوط ہوجاتا ہے۔
اربابِ عقل و دانش کو دعوتِ فکر ہے کہ تمام مسلمان کلمۂ طیبہ میں اقرار کرتے ہیں کہ حضرت سیدنا محمد ﷺ اللّٰہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔جب اس پر پختہ ایمان ہے تو پھر ان کے اس فرمانِ ذیشان پر بھی کامل ایمان ہونا چاہیے کہ
{اَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ لاَ نَبِیَّ بَعْدِیْ }
’’میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں‘‘۔
(ترمذی، ابوداؤد)
جس وحدۂ لاشریک نے انہیں آخری نبی بنا کر بھیجا، اس نے اپنی لاریب کتاب میں بھی انہیں {خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ} فرما دیا۔ پھر اس لفظ کی تفسیر خود رسولِ معظم ﷺ نے، صحابہ و تابعین نے اور تمام علماءِ امت نے’’ آخری نبی‘‘ سے فرمائی۔
اگربالفرض کسی نئے نبی کے آنے کا امکان ہوتا توجس صادق و امین نے عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی خبر دی ہے وہ ہرگز یہ نہیں فرماتے کہ میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
دنیا میں ہر چیز ممکن ہے ،نبی کا جھوٹ بولنا ممکن نہیں۔ پس جب رب تعالیٰ فرما دے کہ وہ آخری نبی ہیں ، رسولِ معظم ﷺ خود فرمائیں کہ میرے بعد نہ کوئی نبی ہوگا نہ کوئی رسول، تو پھر ہمیں کسی مدعی ٔ نبوت کی طرف متوجہ ہونے کی ہرگز کوئی ضرورت نہیں۔ اور جو کوئی تاویل و تحریف کے ذریعے نبوت کے جاری رہنے کا دعویٰ کرتا ہے تو گویا وہ اللّٰہ اور اس کے رسول ﷺ کے کلام کا مذاق اُڑاتا ہے اور ان سے کھلے عام بغاوت پر آمادہ ہے۔ کتاب ’’ختم نبوت‘‘ پیر طریقت مفکر اسلام علامہ سید شاہ تراب الحق قادری رحمۃ اللّٰہ علیہ کی ختم نبوت سے متعلق یاداشتوں اور تقاریر کا مجموعہ ہے۔
دسمبر۲۰۱۳ء میں استاذی و مرشدی قبلہ شاہ صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا تو بصد محبت وشفقت فرمایا،
’’مولانا! اِس پُرفتن دور میں ناموسِ رسالت اور تحفظِ ختم نبوت کے لیے کام کرنا عظیم جہاد ہے۔ جو آج ناموسِ مصطفیٰ ﷺ کے تحفظ کے لیے جدو جہد نہیں کرے گا وہ کل کس منہ سے آقا و مولیٰ ﷺ کی شفاعت کا طلبگار ہوگا۔
یہ مسوّدہ آپ ہی نے ترتیب دینا ہے‘‘۔ احقر نے عالمِ اسلام کے اس عظیم مفکر، تحریکِ ختم نبوت کے اس بے مثل مجاہد اور اہلسنت کے اس عظیم روحانی پیشوا سے ختم نبوت کے حوالے سے چند سوالات بھی کیے جنہیں مع جوابات قارئین کے ذوقِ مطالعہ کی نذر کیا جا رہا ہے۔
عرض: بعض لوگ کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی بھی قرآن کریم سے دلائل دیتا ہے اس کے با وجود آپ اسے کافر کیوں کہتے ہیں؟
ارشاد: غیرجانبدارانہ تجزیہ کیجیے تو واضح ہوجائے گا کہ مرزا قادیانی قرآن مجید سے عقیدہ اخذ نہیں کرتا بلکہ اپنا خود ساختہ عقیدہ قرآن کریم پر مسلط کر کے اپنی مرضی کا مفہوم نکالتا ہے جو کہ قرآن وسنت کی واضح نصوص کے خلاف ہوتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ مرزا نے اپنی کتابوں میں قرآن مجید کی آیات جابجا غلط درج کی ہیں۔ توجہ دلانے کے باوجود قادیانی ان آیات کو درست کرنے پر آمادہ نہیں۔ بلکہ اس کا خلیفہ کہتا ہے، ’’
رہا یہ سوال کہ حضرت مسیح موعود کی بعض کتب کے دو دو تین تین ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں اور تیس چالیس برس کا عرصہ بھی گذر چکا ہے اب تک کیوں ان (آیات) کی تصحیح نہیں کی گئی؟
سو اس کا جواب میں یہی دوں گا کہ اللّٰہ تعالیٰ کی حکمت نے یہی تقاضا کیا کہ یہ آیات حضور(مرزا) کی کتب میں اسی طرح لکھی جائیں جیسی کہ حضور کے زمانہ میں سہوِ کاتب سے یا خود حضور کے بعض دیگر آیات سے تشابہ کے باعث غلط لکھی گئیں اور اس میں تین راز ہیں‘‘۔( قادیانی مذہب بحوالہ اخبار الفضل قادیان، ج۱۹، نمبر ۱۰۳ ، مؤرخہ۸ ۲فروری۱۹۳۲ء)

