Jamal e Mustafa

Total Pages: 120

Page 117 of 120
مسلمان پر لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے ہر حکم کو مانے خواہ اس کی وجہ اور حکمت سمجھ میں آئے یا نہیں۔البتہ اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں غوروفکر سے منع نہیں کیاکیونکہ جب کسی حکم کی حکمت بھی سمجھ میں آجائے تو بندے کو شرح صدر ہوتا ہے اور اس کا ایمان مزید مضبوط ہوجاتا ہے۔
اربابِ عقل ودانش کو دعوتِ فکرہے کہ تمام مسلمان کلمۂ طیبہ میں اقرار کرتے ہیں کہ حضرت سیدنا محمدصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔جب اس پر پختہ ایمان ہے تو پھر ان کے اس فرمانِ ذیشان پر بھی کامل ایمان ہونا چاہیے کہ
{اَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ لاَ نَبِیَّ بَعْدِیْ }
’’میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں‘‘۔ (ترمذی، ابوداؤد)
جس وحدۂ لاشریک نے انہیں آخری نبی بنا کر بھیجا، اس نے اپنی لاریب کتاب میں بھی انہیں {خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ} فرما دیا۔ پھر اس لفظ کی تفسیر خود رسولِ معظم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے، صحابہ و تابعین نے اور تمام علماءِ امت نے’’ آخری نبی‘‘ سے فرمائی۔
اگربالفرض کسی نئے نبی کے آنے کا امکان ہوتا تو جس صادق وامین نے عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی خبر دی ہے وہ ہرگز یہ نہیں فرماتے کہ میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ دنیا میں ہر چیز ممکن ہے ،نبی کا جھوٹ بولنا ممکن نہیں۔
پس جب رب تعالیٰ فرمادے کہ وہ آخری نبی ہیں ، رسولِ معظمصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم خود فرمائیں کہ میرے بعدنہ کوئی نبی ہوگانہ کوئی رسول، تو پھر ہمیں کسی مدعی ٔ نبوت کی طرف متوجہ ہونے کی ہرگز کوئی ضرورت نہیں۔ اور جو کوئی تاویل وتحریف کے ذریعے نبوت کے جاری رہنے کا دعویٰ کرتا ہے تو گویا وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے کلام کا مذاق اُڑاتا ہے اور ان سے کھلے عام بغاوت پر آمادہ ہے۔
کتاب ’’ختم نبوت‘‘ پیر طریقت مفکر اسلام علامہ سید شاہ تراب الحق قادری رحمۃ اللہ علیہ کی ختم نبوت سے متعلق یاداشتوں اور تقاریرکا مجموعہ ہے۔ دسمبر۲۰۱۳ء میں استاذی و مرشدی قبلہ شاہ صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا تو بصد محبت وشفقت فرمایا، ’’مولانا! اِس پُرفتن دور میں ناموسِ رسالت اور تحفظِ ختم نبوت کے لیے کام کرنا عظیم جہاد ہے۔ جو آج ناموسِ مصطفی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے تحفظ کے لیے جدوجہد نہیں کرے گا وہ کل کس منہ سے آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی شفاعت کا طلبگار ہوگا۔ یہ مسوّدہ آپ ہی نے ترتیب دینا ہے‘‘۔
احقر نے عالمِ اسلام کے اس عظیم مفکر، تحریکِ ختم نبوت کے اس بے مثل مجاہد اور اہلسنت کے اس عظیم روحانی پیشواسے ختم نبوت کے حوالے سے چند سوالات بھی کیے جنہیں مع جوابات قارئین کے ذوقِ مطالعہ کی نذر کیا جارہا ہے۔
عرض: بعض لوگ کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی بھی قرآن کریم سے دلائل دیتا ہے اس کے باوجود آپ اسے کافر کیوں کہتے ہیں؟
ارشاد: غیرجانبدارانہ تجزیہ کیجیے تو واضح ہوجائے گا کہ مرزا قادیانی قرآن مجید سے عقیدہ اخذ نہیں کرتا بلکہ اپنا خودساختہ عقیدہ قرآن کریم پر مسلط کرکے اپنی مرضی کا مفہوم نکالتا ہے جو کہ قرآن وسنت کی واضح نصوص کے خلاف ہوتا ہے۔یہی نہیں بلکہ مرزا نے اپنی کتابوں میں قرآن مجید کی آیات جابجا غلط درج کی ہیں۔ توجہ دلانے کے باوجود قادیانی ان آیات کو درست کرنے پر آمادہ نہیں۔ بلکہ اس کا خلیفہ کہتا ہے،
’’رہا یہ سوال کہ حضرت مسیح موعود کی بعض کتب کے دو دو تین تین ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں اور تیس چالیس برس کا عرصہ بھی گذر چکا ہے اب تک کیوں ان (آیات) کی تصحیح نہیں کی گئی؟ سو اس کا جواب میں یہی دوں گا کہ اللہ تعالیٰ کی حکمت نے یہی تقاضا کیا کہ یہ آیات حضور(مرزا) کی کتب میں اسی طرح لکھی جائیں جیسی کہ حضور کے زمانہ میں سہوِ کاتب سے یا خود حضور کے بعض دیگر آیات سے تشابہ کے باعث غلط لکھی گئیں اور اس میں تین راز ہیں‘‘۔( قادیانی مذہب بحوالہ اخبار الفضل قادیان، ج۱۹، نمبر ۱۰۳ ، مؤرخہ۸ ۲فروری۱۹۳۲ء)
Share:
keyboard_arrow_up