Jamal e Mustafa

Total Pages: 118

Page 118 of 118

ہمارے نزدیک تو بڑا راز یہی ہے کہ جو شخص اپنی دلیل میں قرآن کی آیات غلط لکھتا ہے، اس کے دعوے کے غلط ہونے میں کوئی شک نہیں ہو سکتا۔

پس امت کا اجماع ہے کہ جو بھی خاتم النبیین کے بعد نبوت کا دعویٰ کرتا ہے وہ کافر و مرتد ہے۔

عرض: مرزائیوں کا لاہوری گروپ کہتا ہے کہ مرزا صاحب مصلح اور مسیح موعود تھے، انہوں نے کبھی بھی نبوت کا دعویٰ نہیں کیا۔

ارشاد: یہ صریح جھوٹ ہے۔ مرزا کذاب کے نبوت کا دعویٰ کرنے کے متعلق اخبار الفضل قادیان کی گواہی موجود ہے،ملاحظہ کیجئے۔ ’’خادم (عبدالرحمٰن قادیانی) صاحب نے حضرت مسیح موعود (مرزا) کی کتب سے چالیس حوالے پڑھ کر سنائے جن میں حضرت مسیح موعود نے اپنے آپ کو نبی قرار دیا ہے اور نبوت کا غیر مشروط دعویٰ کیا ہے‘‘۔ ( ج۲۴ نمبر۱۲۳ ص ۱۱ ،۱ ۲نومبر۱۹۳۶ء) کئی حوالے ہم نے اپنی کتاب’’ختم نبوت‘‘ میں تحریر کیے ہیں۔افسوس کہ آج مسلمان اپنی اولاد کے رشتے طے کرتے وقت عقیدہ و مسلک کا لحاظ نہیں کرتے،

جبکہ قادیانی خلیفہ میاں محمود احمد لکھتا ہے،

’’جو(قادیانی) لوگ، غیر احمدیوں (مسلمانوں) کو لڑکی دیدیں اور وہ اپنے اس فعل سے توبہ کیے بغیر فوت ہوجائیں،ان کا جنازہ بھی جائز نہیں‘‘۔ (اخبار الفضل قادیان ج۱۳ نمبر۱۰۲ ص۱۲مؤرخہ۱۳ اپریل۱۹۲۶ء)

 

عرض: مرزا اپنے دعوے کی تائید میں اولیاء اللّٰہ کے حوالے بھی پیش کرتا ہے، اس حوالے سے آپ کیا فرماتے ہیں؟

ارشاد: مرزا دجال، اولیاء اللّٰہ کی بعض عبارات کو غلط معانی پہنا کر پیش کرتا ہے۔

مثلاً: حضرت امامِ ربانی مجدد الف ثانی قدس سرہٗ نے اپنے ایک مکتوب میں لکھا کہ جو شخص فلاں ایمانی خصوصیت رکھتا ہو، وہ محدَث کہلاتا ہے۔

مرزا نے وہاں لفظ بدل کر لکھ دیا کہ وہ نبی کہلاتا ہے۔ بعد میں جب پتہ چلا اور اعتراض ہوا تو قادیانیوں کا اصل چہرہ بے نقاب ہوگیا۔

چنانچہ قادیانی ترجمان لکھتا ہے،

’’مجدد صاحب سرہندی نے تو محدث ہی لکھا ہے مگر حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے خدا سے علم پاکر محدث کی بجائے نبی لکھ دیا ہے اور یوں مکتوبات کی غلطی کو درست کر دیا۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کہ بعض اہل اللّٰہ احادیث کی بعض غلطیوں کو آنحضرت سے علم پاکر درست کر دیتے ہیں‘‘۔
(قادیانی مذہب بحوالہ اخبار پیغامِ صلح لاہور ج۲۴ نمبر ۳ مؤرخہ ۱۱ جنوری ۱۹۳۶ ء)

اب بتائیے کہ جو شخص قرآن و حدیث میں تحریف کرے، حضورکی شان میں نازل شدہ آیات کو خود پر منطبق کرے، کیا وہ دجال اور کذاب نہیں ہے؟

 

عرض: ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت میں آپنے بھرپور حصہ لیا تھا۔ اس تحریک کے دوران اپنے یادگار جلسوں کے متعلق کچھ ارشاد فرمائیے۔

ارشاد: تحریک ختم نبوت سے متعلق اجلاس دارالعلوم امجدیہ میں ہوتے جس میں مفتی وقار الدین، مفتی ظفر علی نعمانی علیہما الرحمہ اور کثیر علماء شریک ہوتے۔ اس میں لائحہ عمل طے ہوتا کہ کس وقت کس مسجد میں جلسہ کرنا ہے۔ طریقۂ کار یہ طے ہوا کہ جس عالم نے جس مسجد میں جلسہ کرنا ہے وہ نماز عصر کے فوراً بعد تقریر شروع کر دے۔ نیز یہ بھی طے ہوا کہ گرفتاری سے بچا جائے تاکہ تحریک کمزور نہ پڑے۔ میں نے یوں تو کئی مساجد میں قادیانیوں کے خلاف تقاریر کیں مگر ایک یادگار جلسہ مسجد باب الاسلام آرام باغ میں کیا جو کہ دیوبندیوں کی مسجد ہے۔ وہاں جلسہ میں عصر سے مغرب تک میں نے خطاب کیا۔ جلسہ کے دوران پولیس نے مسجد کو گھیر لیا۔ میں نے ایک کارکن کو تیار رکھا تھا کہ مغرب کے فوراً بعد ہم نے نکلنا ہے۔

چونکہ حکمتِ عملی طے شدہ تھی کہ مقرر علماء کو گرفتاری سے بچنا ہے تاکہ تحریک دب نہ جائے۔ لہٰذا نماز کے بعد میں نے ٹوپی اُتار کر جیب میں رکھ لی اور عام نمازی کی طرح مسجد سے باہر نکلا اور اُس کارکن کے ساتھ موٹر سائیکل پر بیٹھ کر مکتبہ رضویہ پہنچ گیا، اور پولیس مایوس ہوکر لوٹ گئی۔

Share:
← Previous
keyboard_arrow_up