33: آپ ﷺ کا زمانہ مبارک تمام زمانوں سے بہتر اور افضل ہے۔
(مسلم ، ج4، ص1962، حدیث نمبر:2532)
34: آپ کے گھر مبارک اور منبر کا درمیانی حصہ جنت کا باغ ہے۔
(بخاری، ج4، ص385،حدیث نمبر:1120)
35: حضور ﷺ مدینہ میں فوت ہو نے والوں کی خصوصی شفاعت فرمائیں گے۔
(ترمذی،ج 12، ص425،حدیث نمبر:3852)
36: آپ ﷺ کے روضہ مطہرہ کے زائرین کے لیے شفاعت واجب ہو جاتی ہے۔
(مواہب اللدنیہ ، ج12، ص179)
37: ہر روز صبح وشام آپ کے رو ضۂ اقدس پر ستر ہزار فرشتے طواف اور درود و سلام کے لیے حاضری دیتے ہیں۔
(مشکوٰۃ، ج1، ص488، حدیث نمبر:2457، سنن دارمی،ج 2، ص550،حدیث نمبر:3425)
38: خواب میں آقا کریم ﷺ کی زیارت حق ہے کیونکہ شیطان آپ ﷺ کی صورت اختیار نہیں کر سکتا۔
(مسلم، ج4، ص1775، حدیث نمبر:2266)
39: حضور نبی کریم ﷺ کو جسم اقدس کے ساتھ معرا ج عطا ہوئی۔
(بخاری، ج12، ص273،حدیث نمبر:3598، مسلم ،ج 3، ص1592،حدیث نمبر:168)
40: حضور آقا و مولیٰ ﷺ کو دیدارِ باری تعالیٰ عطا ہوا۔
(کتاب الشفاء، ج1، ص425)
41: آقا کریم ﷺ کی مثل نہ کوئی ہوا ہے اور نہ کوئی ہوگا۔
(شمائل ترمذی، ص31)
42: نور مجسم ﷺ کے جسم اقدس کا سایہ نہیں تھا۔
(خصائص الکبری، ج1، ص117)
43: عرش، آسمان اور جنت کی ہر شے پر حضور ﷺ کا اسم مبارک لکھا ہوا ہے۔
(خصائص الکبری، ج1، ص10)
44: رحمتِ کائنات حبیبِ کبریا ﷺ کے والدین ماجدین کو زندہ کیا گیا اور وہ آپ پر ایمان لائے۔
(فتاوی رضویہ،،ج 30، ص282)
45:حضور ﷺ کے آباء و اجداد میں کوئی مشرک یا بدکار نہیں تھا۔
(خصائص کبری،ج 1، ص66)
46: رسولِ معظم ﷺ کا اسم گرامی سن کر درود پڑھنا ضروری ہے۔
(در مختار، ج1 ،ص78)
47: اذان میں آپ ﷺ کا اسم گرامی سن کر درود پڑھنے اور انگوٹھے چومنے پر آپ نے جنت کی بشارت دی۔
(روح البیان، ج7، ص177، انظر للتفصیل\"منیر العین\" للشاہ احمد رضا خان)
48: آقا و مولیٰ علیہ الصلوٰۃ و السلام پر درود پڑھنے سے دعا جلد قبول ہوتی ہے۔
(سنن ترمذی،ج 2، ص467،حدیث نمبر:541)
49: حضورِ اکرم ﷺ کی احادیث کی قرأت عبادت ہے۔
(کتاب الشفاء،ج 2، ص43، و سبل الھدی و الرشاد،ج10، ص484)
50: آقا و مولیٰ ﷺ کا پسینہ مشک سے زیادہ خو شبودار تھا۔
(دلائل النبوۃ، ج2،ص181، حدیث نمبر:537، مواہب الدنیہ، ج5، ص536)
51: حضور نبی کریم ﷺ نے کبھی جمائی نہیں لی اور نہ ہی آپ کو کبھی احتلام ہوا۔
(مواہب اللدنیہ، ج7، ص199)
52: حضور آقا کریم ﷺ کا خون مبارک امت کے لیے طیب و طاہر ہے۔
(مستدرک، ج3، ص638، حدیث نمبر:6343، خصائص الکبری،ج 1، ص118، کتاب الشفاء، ج1،ص64، مواہب اللدنیہ،ج 5، ص546، انظر للتفصیل: فتاوی رضویہ،ج 1، ص584)
53: آپ کا بول و براز بھی امت کے لیے طیب و طاہر ہے۔
(کتاب الشفاء، ج1،ص64، مواہب اللدنیہ،ج 5، ص546)
54: آپ ﷺ کا بول مبارک پینے سے بیماریاں دور ہو گئیں۔
(خصائص الکبری،ج 1، ص121،دلائل النبوۃ،ج1، ص427، حدیث نمبر:355، مواہب اللدنیہ،ج 5، ص648)
55: نور مجسم ﷺ کے لباس مبارک پر کبھی مکھی نہیں بیٹھی۔
(مواہب اللدنیہ، ج5،ص536)
56: آپ اجب سواری پر ہو تے تو وہ بول و براز نہیں کرتی تھی۔
(سیرت حلبیہ، ج3، ص423 دار الکتب العلمیہ)
57: حضور سیدِ عالم ﷺ کی جدائی میں کھجور کا خشک تنا رو دیا۔
(بخاری، ج7، ص275،حدیث نمبر:1953)
58: پرندے اور حیوانات آپ ﷺ کے لیے مسخر کیے گئے۔
(مسند احمد،ج 35،ص446، حدیث نمبر:16909)
59: جانوروں نے بھی آقا و مولیٰ ﷺ کی رسالت کی گو اہی دی۔
(فتاوی رضویہ، ج30ص 145)
60: درختو ں اور پتھروں نے آپ ﷺ کی رسالت کی گواہی دی۔
(ترمذی، ج5،ص593،حدیث نمبر:3626)
61: آقا و مولیٰ رسولِ معظم ﷺ کے لیے پتھر نرم کر دیا گیا۔
(مفاتیح الغیب، ج8، ص155)
62: پہاڑ اور درخت حضور ﷺ کی خدمت میں السلام علیک یا رسول اللّٰہ کہتے۔
(ترمذی، ج5،ص593،حدیث نمبر:3626)
63: جانور بھی آقا کریم ﷺ کی بارگاہ میں مشکل کشائی کے لیے فریاد کیا کر تے۔
(مسند احمد،ج 35،ص446، حدیث نمبر:16909)
64: حدیبیہ کا خشک کنواں آپ ﷺ کے لعاب دہن کی برکت سے جاری ہو گیا۔
(خصائص کبری، ج1، ص107)
65: رحمت عالم ﷺ کی برکت سے نہایت کم کھانا ایک ہزارا صحاب کے لیے کافی ہوگیا۔
(بخاری، ج4، ص1505، حدیث نمبر:3876 )
66: حضور کے لعاب دہن کی برکت سے کھارے پانی کا کنواں شیریں ہوگی۔
(مواہب اللدنیہ، ج5،ص289 خصائص کبری، ج1، ص107)

