باب ششم
خصائصِ مصطفیٰ ﷺ
احادیث کی روشنی میں
خصائصِ مصطفیٰ ﷺ احادیث کی روشنی میں:
1: رسولِ معظم رحمتِ عالم ﷺ تخلیق کے اعتبار سے سب سے پہلے نبی ہیں۔
(ترمذی،ج 12،ص55،حدیث نمبر:3542)
2: سرکارِ دو عالم نبی مکرم ﷺ بعثت کے لحاظ سے سب سے آخری نبی ہیں۔
(بخاری، ج16،ص:354،حدیث نمبر:4889، مسلم، ج4،ص2268،حدیث نمبر:2951)
3: اللّٰہ تعالیٰ نے سب سے پہلے اپنے نور کے فیض سے حضور ﷺ کا نور پیدا فرمایا۔
(المواہب اللدنیۃ،1 /71-72،شرح الزرقانی علی المواہب ، 1 /46-47، تاریخ الخمیس ،1 /19-20، مطالع المسرات، ص221۔)
4: نورِ مجسم رہبر اعظم ﷺ کی محبت کے بغیر کوئی شخص بھی مومن نہیں ہو سکتا۔
(بخاری، ج1، ص14، حدیث نمبر:14،و مسلم،ج1، ص67، حدیث نمبر:44)
5: حضورِ اکرم سید عالم ﷺ کو ساری مخلوق کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا۔
(بخاری، ج1، ص168، حدیث نمبر: 438، مسلم، ص210، حدیث نمبر: 1167)
6: آقا ومولیٰ ﷺ تمام مخلوق میں سب سےزیادہ عزت و عظمت والے ہیں۔
(ترمذی، ج5، ص 587، حدیث نمبر 3616)
7: سرکار دو عالم ﷺ تمام مخلوق میں سب سے زیادہ دانا و عقلمند ہیں۔
(مدارج النبوۃ، ج1، ص56 )
8: امام الا نبیاءﷺ کے معجزات تمام انبیاء کرام کے معجزات سے زیادہ ہیں۔
(خصائص الکبری،ج1، ص4)
9: اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے بعض نام حضور ﷺ کو عطا فرمائے ہیں۔
(کتاب الشفاء، ج1، ص233)
10: سیدنا محمد ﷺ کا اسم گرامی اللّٰہ تعالیٰ کے مقدس نام محمود سے مشتق ہے۔
(مواہب اللدنیہ ،ج 4،ص232)
11: تورات، انجیل اور دیگر کتب میں خاتم الانبیاء ﷺ کا ذکر موجود ہے۔
(ترمذی، ج5، ص 588، حدیث نمبر: 3617)
12: حضور ﷺ کی شریعت گذشتہ شرائع کی ناسخ ہے اور تا قیامت باقی رہے گی۔
(مواہب اللدنیہ ،ج 1،ص347)
13: اگر دیگر انبیاء آپ کے زمانے میں ہو تے تو آپ کی اتباع اور مدد کرتے۔
(خصائص النبوۃ، ج1، ص13)
14: حضورﷺ کے لیے ساری زمین پاک کرنے والی اور مسجد بنا دی گئی۔
(بخاری، ج2، ص58،حدیث نمبر:323، مسلم، ج1، ص370،حدیث نمبر:521)
15: سیدنا محمد مصطفی رسولِ معظم ﷺ اللّٰہ تعالیٰ کے حبیب ہیں۔
(مشکوٰۃ، ج3، ص252،حدیث نمبر:5762)
16: آقا و مولیٰ ﷺ کائنات کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے۔
(دلائل النبوۃ،ج1، ص3)
17: حضور نبی کریم ﷺ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ’’دعا ‘‘ہیں۔
(مشکوٰۃ ، ج3، ص251،حدیث نمبر:5759)
18: حضور نبی کریم ﷺ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ’’بشارت‘‘ ہیں۔
(مشکوٰۃ ، ج3، ص251،حدیث نمبر:5759)
19: نورِ مجسم رحمتِ عالم ﷺ کی ولادت کے وقت ایسا نور ظاہر ہوا کہ ملک شام کے محلات روشن ہو گئے۔
(مشکوٰۃ ، ج3، ص251،حدیث نمبر:5759)
20: سید عالم ﷺ وقت ولادت سجدے کی حالت میں زمین پر تشریف لائے۔
(خصائص الکبری، 1، ص72)
21: حضور ﷺ مختون پیدا ہوئے، کسی نے آپ کی شرمگاہ نہ دیکھی۔
(خصائص الکبری، 1، ص91)
22: رحمتِ عالم ﷺ کی ولادت با سعادت کے وقت تمام بت اوندھے منہ گر گئے۔
(خصائص الکبری، 1، ص74)
23: آپ جھولے میں چاند سے کھیلتے تھے اور وہ آپ کے اشارے پر چلتا تھا۔
(خصائص الکبری، 1، ص92)
24: آپ کا جھولا فرشتے ہلا تے اور دھوپ میں بادل آپ پر سایہ کرتے۔
(خصائص الکبری، 1، ص92)
25: آپ ﷺ کی بعثت کے وقت تمام بت اوندھے ہو گئے۔
(خصائص الکبری، 1، ص92)
26: آپ کی بعثت سے شیاطین کو آسمان تک پہنچنے سے روک دیا گیا۔
(خصائص الکبری، 1، ص80)
27: آپﷺ نے جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصل صورت میں دیکھا۔(مسند احمد، ج6، ص410، حدیث نمبر:3862)
28: آپ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو قبر میں نماز پڑھتے ملاحظہ فرمایا۔
(مسلم، ج1، ص145،حدیث نمبر:162)
29: حضور ﷺ نے بیت المقدس میں تمام انبیاء کرام کی امامت فرمائی۔
(مسلم، ج1،ص156،حدیث نمبر:172)
30: حضور اکرم ﷺ نے بعض جنات کی بھی امامت فرمائی۔
(دلائل النبوۃ، ج2،ص109،حدیث نمبر:534)
31: جنات بھی آپ ﷺ کی بارگاہ میں قبول اسلام کے لیے آتے تھے۔
(خصائص، ج2، ص47، دلائل النبوۃ،ج 1، ص291،حدیث نمبر:244)
32: اللّٰہ تعالیٰ نے حضور اکرم ﷺ کے ہم زاد کو آپ ﷺ کا مطیع بنا دیا۔
(مسلم، ج3،ص1409،حدیث نمبر:1782)

