Jamal e Mustafa

Total Pages: 118

Page 97 of 118

باب ششم

خصائصِ مصطفیٰ

احادیث کی روشنی میں

 

خصائصِ مصطفیٰ احادیث کی روشنی میں:

1: رسولِ معظم رحمتِ عالم تخلیق کے اعتبار سے سب سے پہلے نبی ہیں۔
(ترمذی،ج 12،ص55،حدیث نمبر:3542)

2: سرکارِ دو عالم نبی مکرم بعثت کے لحاظ سے سب سے آخری نبی ہیں۔
(بخاری، ج16،ص:354،حدیث نمبر:4889، مسلم، ج4،ص2268،حدیث نمبر:2951)

3: اللّٰہ تعالیٰ نے سب سے پہلے اپنے نور کے فیض سے حضور کا نور پیدا فرمایا۔
(المواہب اللدنیۃ،1 /71-72،شرح الزرقانی علی المواہب ، 1 /46-47، تاریخ الخمیس ،1 /19-20، مطالع المسرات،   ص221۔)

4: نورِ مجسم رہبر اعظم کی محبت کے بغیر کوئی شخص بھی مومن نہیں ہو سکتا۔
(بخاری، ج1، ص14، حدیث نمبر:14،و مسلم،ج1، ص67، حدیث نمبر:44)

5: حضورِ اکرم سید عالم کو ساری مخلوق کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا۔
(بخاری، ج1، ص168، حدیث نمبر: 438، مسلم، ص210، حدیث نمبر: 1167)

6: آقا ومولیٰ تمام مخلوق میں سب سےزیادہ عزت و عظمت والے ہیں۔
(ترمذی، ج5، ص 587، حدیث نمبر 3616)

7: سرکار دو عالم تمام مخلوق میں سب سے زیادہ دانا و عقلمند ہیں۔
(مدارج النبوۃ، ج1، ص56 )

8: امام الا نبیاء  کے معجزات تمام انبیاء کرام کے معجزات سے زیادہ ہیں۔
(خصائص الکبری،ج1، ص4)

9: اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے بعض نام حضور کو عطا فرمائے ہیں۔
(کتاب الشفاء، ج1، ص233)

10: سیدنا محمد کا اسم گرامی اللّٰہ تعالیٰ کے مقدس نام محمود سے مشتق ہے۔
(مواہب اللدنیہ ،ج 4،ص232)

11: تورات، انجیل اور دیگر کتب میں خاتم الانبیاء کا ذکر موجود ہے۔
(ترمذی، ج5، ص 588، حدیث نمبر: 3617)

12: حضور کی شریعت گذشتہ شرائع کی ناسخ ہے اور تا قیامت باقی رہے گی۔
(مواہب اللدنیہ ،ج 1،ص347)

13: اگر دیگر انبیاء آپ کے زمانے میں ہو تے تو آپ کی اتباع اور مدد کرتے۔
(خصائص النبوۃ، ج1، ص13)

14: حضورﷺ  کے لیے ساری زمین پاک کرنے والی اور مسجد بنا دی گئی۔
(بخاری، ج2، ص58،حدیث نمبر:323،  مسلم، ج1، ص370،حدیث نمبر:521)

15: سیدنا محمد مصطفی رسولِ معظم اللّٰہ تعالیٰ کے حبیب ہیں۔
(مشکوٰۃ، ج3، ص252،حدیث نمبر:5762)

16: آقا و مولیٰ کائنات کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے۔
(دلائل النبوۃ،ج1، ص3)

17: حضور نبی کریم ﷺ  حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ’’دعا ‘‘ہیں۔
(مشکوٰۃ ، ج3، ص251،حدیث نمبر:5759)

18: حضور نبی کریم ﷺ  حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ’’بشارت‘‘ ہیں۔
(مشکوٰۃ ، ج3، ص251،حدیث نمبر:5759)

19: نورِ مجسم رحمتِ عالم کی ولادت کے وقت ایسا نور ظاہر ہوا کہ ملک شام کے محلات روشن ہو گئے۔
(مشکوٰۃ ، ج3، ص251،حدیث نمبر:5759)

20: سید عالم ﷺ  وقت ولادت سجدے کی حالت میں زمین پر تشریف لائے۔
(خصائص الکبری، 1، ص72)

21: حضور مختون پیدا ہوئے، کسی نے آپ کی شرمگاہ نہ دیکھی۔
(خصائص الکبری، 1، ص91)

22: رحمتِ عالم کی ولادت با سعادت کے وقت تمام بت اوندھے منہ گر گئے۔
(خصائص الکبری، 1، ص74)

23: آپ جھولے میں چاند سے کھیلتے تھے اور وہ آپ کے اشارے پر چلتا تھا۔
(خصائص الکبری، 1، ص92)

24: آپ کا جھولا فرشتے ہلا تے اور دھوپ میں بادل آپ پر سایہ کرتے۔
(خصائص الکبری، 1، ص92)

25: آپ کی بعثت کے وقت تمام بت اوندھے ہو گئے۔
(خصائص الکبری، 1، ص92)

26: آپ کی بعثت سے شیاطین کو آسمان تک پہنچنے سے روک دیا گیا۔
(خصائص الکبری، 1، ص80)

27: آپﷺ   نے جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصل صورت میں دیکھا۔(مسند احمد، ج6، ص410، حدیث نمبر:3862)
28: آپ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو قبر میں نماز پڑھتے ملاحظہ فرمایا۔
(مسلم، ج1، ص145،حدیث نمبر:162)

29: حضور نے بیت المقدس میں تمام انبیاء کرام کی امامت فرمائی۔
(مسلم، ج1،ص156،حدیث نمبر:172)

30: حضور اکرم ﷺ  نے بعض جنات کی بھی امامت فرمائی۔
(دلائل النبوۃ، ج2،ص109،حدیث نمبر:534)

31: جنات بھی آپ ﷺ  کی بارگاہ میں قبول اسلام کے لیے آتے تھے۔
(خصائص، ج2، ص47، دلائل النبوۃ،ج 1، ص291،حدیث نمبر:244)

32: اللّٰہ تعالیٰ نے حضور اکرم ﷺ  کے ہم زاد کو آپ کا مطیع بنا دیا۔
(مسلم، ج3،ص1409،حدیث نمبر:1782)

Share:
keyboard_arrow_up