Jamal e Mustafa

Total Pages: 118

Page 96 of 118

192: حضرت موسیٰ علیہ السلام کی معراج دنیا کے درخت پر ہوئی۔
(پارہ نمبر: 20، سورۃ   القصص، آیت نمبر:30)

جبکہ حبیب کی معراج سدرۃالمنتہیٰ و فردوس اعلیٰ تک بیان فرمائی۔
(پارہ نمبر: 27، سورۃ النجم، آیت نمبر:14)

 

193: حضرت کلیم اللّٰہ علیہ السلام سے دل کی تنگی کی شکایت بیان فرمائی۔
  (پارہ نمبر: 26، سورۃ الشعراء، آیت نمبر:13)

جبکہ حبیب کبریا ﷺ  کو خود شرحِ صدر کی دولت عطا فرمائی۔
(پارہ نمبر: 30، سورۃ الم نشرح، آیت نمبر:1)

 

194: حضرت کلیم اللّٰہ علیہ السلام پر حجابِ نار سے تجلی ہوئی۔
(پارہ نمبر: 20، سورۃ النمل، آیت نمبر:8)

حبیب پر نور کے جلوے سے تجلی ہوئی اور وہ بھی غایتِ تفخیم و تعظیم کے لیے بہ الفاظِ ابہام بیان فرمائی گئی، ’’جب چھاگیا سدرہ پر جو کچھ چھایا‘‘۔
(
پارہ نمبر: 27، سورۃ النجم، آیت نمبر:16)

 

195: سیدنا کلیم علیہ السلام سے اپنے بھائی کے سوا سب سے برأت اور قطع تعلق نقل فرمایا۔ انہوں نے عرض کی، ’’الٰہی میں اختیار نہیں رکھتا مگر اپنا اور اپنے بھائی کا ، تو جدائی فرمادے ہم میں اور اس گنہگار قوم میں‘‘۔
(پارہ نمبر: 6، سورۃ  المائدۃ، آیت نمبر:25)

جبکہ حبیب کے ظلِ وجاہت میں کفار تک کو داخل فرمایا کہ ان پر بھی (دنیامیں) عام عذاب نہ آئے گا۔
(پارہ نمبر: 10، سورۃ  الانفال، آیت نمبر:33)
یہ شفاعتِ کبریٰ ہے کہ تمام اہل موقف، موافق و مخالف سب کو شامل۔

 

196: ہارون و کلیم علیہما السلام کے متعلق فرمایا کہ: انہوں نے فرعون کے پاس جاتے وقت اپنا خوف عرض کیا۔ اس پر حکم ہوا،’’ڈرو نہیں میں تمہارے ساتھ ہوں، سنتا اور دیکھتا‘‘۔
(پارہ نمبر: 16، سورۃ  الطہ، آیت نمبر: 64)

جبکہ حبیب کو خود مثردۂ نگہبانی دیا کہ،’’اللّٰہ لوگوں سے تمہاری حفاظت فرمائے گا‘‘۔
(پارہ نمبر: 6، سورۃ  المائدۃ، آیت نمبر:67)

 

197: حضرت مسیح علیہ السلام کے بارے میں فرمایا کہ: ان سے پرائی بات پر یوں سوال ہوگا ، ’’اے مریم کے بیٹے عیسیٰ!کیا تو نے لوگوں سے کہہ دیا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو اللّٰہ کے سوا دو خدا بنالو‘‘۔ (پارہ نمبر: 6، سورۃ  المائدۃ، آیت نمبر:116)

تفسیر معالم میں ہے کہ:

اس سوال پر خوفِ الٰہی سے حضرت روح اللّٰہ صلوت اللّٰہ و سلامہ علیہ کا بند بند کانپ اٹھے گا اور ہر بال کی جڑ سے خون کا فوارہ بہے گا۔ پھر جواب عرض کریں گے جس کی حق تعالیٰ تصدیق فرماتا ہے۔

حبیب نے جب غزوہ تبوک کا قصد فرمایا اور منافقوں نے جھوٹے بہانے بنا کر نہ جانے کی اجازت لے لی۔ اس پر سوال تو حضور سے بھی ہوا مگر یہاں جو شانِ لطف و محبت و کرم و عنایت ہے، قابلِ غور ہے۔
(پارہ نمبر: 6، سورۃ  المائدۃ، آیت نمبر:116)

حضور سے ارشاد فرمایا،

’’اللّٰہ تمہیں معاف فرمائے تم نے انہیں کیوں اجازت دے دی ‘‘۔
(پارہ نمبر: 24، سورۃ  التوبۃ، آیت نمبر: 43)

سبحان اللّٰہ !سوال بعد میں ہے اور محبت کا کلمہ پہلے۔

 

198: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں فرمایا کہ:

انہوں نے اپنے امتیوں سے نصرت طلب کی، ’’کون میرے مدد گار ہیں اللّٰہ کی طرف ‘‘۔
(پارہ نمبر: 4، سورۃ  آل عمران ، آیت نمبر:52)

جبکہ حبیب کی نسبت انبیاء و مرسلین کو حکمِ نصرت ہوا۔

ارشاد ہوا،

’’تم ضرور اس پر ایمان لانا اور ضرور اس کی مدد کرنا‘‘۔
(پارہ نمبر: 4، سورۃ  آل عمران ، آیت نمبر:81)

مذکور ہ بیس خصائص و لی ٔکامل، مجددِ امت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہٗ نے بیان فرمائے۔

اب ہم سورۃ الاحزاب کی اس ایمان افروز آیت کریمہ پر اپنی گفتگو کا اختتام کرتے ہیں:

 

199: اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے غیب بتانے والے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔
(تفسیر معالم التنزیل، سورۃ الاحزاب ، آیت نمبر:56)

 

200: اللّٰہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو بھی درود و سلام کی کثرت کا حکم دیا ہے۔
(پارہ نمبر: 22، سورۃ الاحزاب ، آیت نمبر:56)

 

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلیٰ سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ طِبِّ الْقُلُوْبِ وَدَوَائِھَا وَعَافِیَۃِ الْاَبْدَانِ وَشِفَائِھَا وَنُوْرِ الْاَبْصَارِ وَضِیَائِھَا وَکَشْفِ الْاَحْزَانِ وَجِلَائِھَا وَعَلٰی اٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَسَلِّمْ

Share:
keyboard_arrow_up