Jamal e Mustafa

Total Pages: 120

Page 96 of 120
جبکہ حبیب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلماور ان کے غلاموں کو ارشاد ہوا، ’’تمہارا رب فرماتا ہے، مجھ سے دعا مانگو میں قبول کروں گا‘‘۔()
192: حضرت موسیٰ علیہ السلام کی معراج دنیا کے درخت پر ہوئی۔()
جبکہ حبیب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی معراج سدرۃالمنتہیٰ وفر دوس اعلیٰ تک بیان فرمائی۔()
193: حضرت کلیم اللہعلیہ السلام سے دل کی تنگی کی شکایت بیان فرمائی۔()
جبکہ حبیب کبریا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکو خود شرحِ صدر کی دولت عطا فرمائی۔()
194: حضرت کلیم اللہعلیہ السلام پر حجابِ نار سے تجلی ہوئی۔() حبیب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمپر نور کے جلوے سے تجلی ہوئی اور وہ بھی غایتِ تفخیم وتعظیم کے لیے بہ الفاظِ ابہام بیان فرمائی گئی، ’’جب چھاگیا سدرہ پر جو کچھ چھایا‘‘۔()
195: سیدناکلیم علیہ السلام سے اپنے بھائی کے سواسب سے برأت اور قطع تعلق نقل فرمایا۔ انہوں نے عرض کی، ’’الٰہی میں اختیار نہیں رکھتا مگر اپنا اور اپنے بھا ئی کا ، تو جدائی فرمادے ہم میں اور اس گنہگار قوم میں‘‘۔()
جبکہ حبیب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے ظلِ و جاہت میں کفار تک کو داخل فرمایاکہ ان پر بھی (دنیامیں) عام عذاب نہ آئے گا۔()
یہ شفاعتِ کبریٰ ہے کہ تمام اہل موقف ، موافق و مخالف سب کو شامل۔
196: ہارون و کلیم علیہما السلا م کے متعلق فرمایا کہ انہوں نے فرعون کے پاس جاتے وقت اپنا خوف عرض کیا۔ اس پر حکم ہوا،’’ڈرو نہیں میں تمہارے ساتھ ہوں، سنتا اور دیکھتا‘‘۔() جبکہ حبیب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکو خود مثردۂ نگہبانی دیا کہ،’’اللہ لوگوں سے تمہاری حفاظت فرمائے گا‘‘۔()
197: حضرت مسیح علیہ السلام کے بارے میں فرمایا کہ ان سے پر ائی بات پر یوں سوال ہوگا ،
’’اے مریم کے بیٹے عیسیٰ!کیا تو نے لوگوں سے کہہ دیا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو اللہ کے سوا دو خدا بنا لو‘‘۔()
تفسیر معالم میں ہے کہ اس سوال پر خوفِ الٰہی سے حضرت روح اللہ صلوت اللہ وسلامہ علیہ کا بندبند کا نپ اٹھے گا اور ہر بال کی جڑ سے خون کا فوارہ بہے گا۔ پھر جواب عرض کریں گے جس کی حق تعا لیٰ تصدیق فرماتا ہے۔حبیب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے جب غزوہ تبوک کا قصد فرمایا اور منافقوں نے جھوٹے بہانے بنا کر نہ جانے کی اجازت لے لی۔ اس پر سوال تو حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے بھی ہو امگر یہاں جو شانِ لطف و محبت و کرم و عنایت ہے، قابلِ غور ہے۔()
حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے ارشاد فرمایا، ’’اللہ تمہیں معاف فرمائے تم نے انہیں کیو ں اجازت دےدی ‘‘۔()
سبحان اللہ !سوال بعد میں ہے اور محبت کا کلمہ پہلے۔
198: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں فرمایا کہ انہوں نے اپنے امتیوں سے نصرت طلب کی، ’’کو ن میرے مددگار ہیں اللہ کی طرف ‘‘۔()
جبکہ حبیب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی نسبت انبیاء و مرسلین کو حکمِ نصرت ہوا۔ ارشاد ہوا، ’’تم ضرور اس پر ایمان لانا اورضرور اس کی مدد کرنا‘‘۔()
مذکور ہ بیس خصائص و لی ٔکامل، مجد دِامت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضامحدث بریلوی قدس سرہٗ نے بیان فرمائے۔ اب ہم سورۃ الاحزاب کی اس ایمان افروز آیت کریمہ پر اپنی گفتگو کا اختتام کرتے ہیں:
199: اللہ تعا لیٰ اوراس کے فرشتے غیب بتا نے والے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔()
200: اللہ تعا لیٰ نے ایمان والو ں کو بھی درود و سلام کی کثرت کا حکم دیا ہے۔()
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلیٰ سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ طِبِّ الْقُلُوْبِ وَدَوَائِھَا وَعَافِیَۃِ الْاَبْدَانِ وَشِفَائِھَا وَنُوْرِ الْاَبْصَارِ وَضِیَائِھَا وَکَشْفِ الْاَحْزَانِ وَجِلَائِھَا وَعَلٰی اٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَسَلِّمْ
Share:
keyboard_arrow_up