Jamal e Mustafa

Total Pages: 120

Page 95 of 120
180: قرآن کریم نے حضرت خلیل علیہ السلام سے تمنائے وصال نقل کی، ’’میں اپنے رب کی طرف جانے والا ہوں‘‘۔()جبکہ حبیب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکو خود بلا کر عطائے دولت کی خبر دی۔ ’’پاک ہے وہ جولے گیا اپنے بندے کو‘‘۔()
181: حضرت خلیل علیہ السلام سے آرزوئے ہدایت نقل فرمائی،’’تاکہ وہ مجھے راہ دے‘‘۔()
لیکن حبیب سے خود ارشاد فرمایا،’’اور تمہیں سیدھی راہ دکھا دے‘‘۔()
182: حضرت ابراھیم علیہ السلام کے لیے فرمایا، کیا تمہارے پا س ابراہیم کے معزز مہمانوں کی خبر آئی‘‘۔() یعنی فرشتے ان کے مہمان بنے۔
جبکہ حبیبِ مکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے لیے فرمایا،’’اور ان فوجوں سے اس کی مدد کی جو تم نے نہ دیکھیں‘‘۔() یعنی فرشتے ان کے سپاہی بنے۔
183:حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں فرمایا کہ انہوں نے اللہ تعا لیٰ کی رضا چاہی۔ ارشاد ہوا،’’اے رب! تیری طرف جلدی کرکے حاضر ہواتا کہ تو راضی ہو‘‘۔()
جبکہ حبیب علیہ السلام کے لیے فرمایا کہ اللہ تعا لیٰ ان کی رضا چا ہتا ہے۔ ارشاد ہوا، ’’عنقریب تمہارا رب تمہیں اتنا دے گاکہ تم راضی ہوجاؤ گے‘‘۔()
184: حضرت موسیٰ علیہ السلام کافرعون کے خوف سے مصر سے تشریف لے جانا بلفظ فرار نقل فرمایا۔()
جبکہ حبیب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا ہجرت فرمانا احسن عبارات سے بیان فرمایا۔()
185: حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کوہِ طور پر کلام کیا اور اسے ظاہر فرمادیا۔() جبکہ حبیب سے آسمانوں سے بھی اوپر کلام فرمایا اور کسی پر بھی ظاہر نہ فرمایا۔()
186: حضرت داؤد علیہ السلام سے فرمایا گیا،’’خواہش کی پیروی نہ کرنا کہ تجھے بہکا دے خدا کی راہ سے ‘‘۔()
جبکہحبیب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے بارے میں قسم کے ساتھ ارشاد فرمایا،’’اور وہ کوئی بات اپنی خواہش سے نہیں کرتے، وہ تو نہیں مگر وحی جو انہیں کی جاتی ہے‘‘۔()
187: حضرت نوح وھود علیہما السلام سے دعا نقل فرمائی،’’الٰہی میری مدد فرما بدلے اس کا کہ انہوں نے مجھے جھٹلایا‘‘۔() جبکہ آقا ئے دو جہا ں شفیع عاصیاں صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمسے خود ارشاد ہوا،’’اللہ تیری مدد فرمائے گا، زبردست مدد‘‘۔()
188: حضرت نوح و حضرت خلیل علیہما السلام سے نقل فرمایا کہ انہوں نے اپنی امتو ں کے لیے دعائے مغفرت کی۔()
جبکہ حبیب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو خود حکم دیا کہ اپنی امت کے لیے مغفرت مانگو۔()
189: ابراہیم علیہ السلام کے لیے ارشاد ہو اکہ انہوں نے پچھلوں میں اپنا ذکر جمیل باقی رکھنے کی دعا فرمائی،’’اور میری سچی ناموری رکھ پچھلوں میں‘‘۔()
جبکہ حبیب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمسے خود فرمایا،’’ اور ہم نے تمہارے لیے تمہارا ذکر بلند کردیا ہے‘‘۔ (الم نشرح:4) اور اس سے بھی اعلیٰ وار فع مثردہ ملاکہ آپ کو مقام محمود پر فائز کیا جائے گا جہاں اولین و آخرین جمع ہوں گے اور آپ کی حمد و ثنا کا شور ہر زبا ن پر ہو گا۔()
190: خلیل علیہ السلا م کے بارے میں فرمایا کہ انہوں نے لوط علیہ السلام کی قوم سے عذاب دور کرانے کی بڑی کوشش کی مگر حکم ہوا،’’اے ابراہیم! اس خیال میں نہ پڑ‘‘۔()عرض کی، اس بستی میں لو ط (علیہ السلام)جو ہے۔حکم ہوا ،ہمیں خوب معلوم ہے جو وہاں ہے۔
جبکہ حبیب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمسے ارشاد ہوا،’’اللہ ان کافروں پر بھی عذاب نہ کرے گا جب تک اے رحمتِ عالم !تو ان میں تشریف فرماہے‘‘۔()
191:حضرت خلیل علیہ السلام سے نقل فرمایا،’’الٰہی !میری دعا قبول فرما‘‘۔()
Share:
keyboard_arrow_up