180: قرآن کریم نے حضرت خلیل علیہ السلام سے تمنائے وصال نقل کی، ’’میں اپنے رب کی طرف جانے والا ہوں‘‘۔
(پارہ نمبر: 23، سورۃ الصافات، آیت نمبر:99) جبکہ حبیب ﷺ کو خود بلا کر عطائے دولت کی خبر دی۔ ’’پاک ہے وہ جولے گیا اپنے بندے کو‘‘۔
(پارہ نمبر: 15، سورۃ بنی اسرائیل، آیت نمبر:1)
181: حضرت خلیل علیہ السلام سے آرزوئے ہدایت نقل فرمائی،
’’تاکہ وہ مجھے راہ دے‘‘۔ (پارہ نمبر: 23، سورۃ الصافات، آیت نمبر:99)
لیکن حبیب سے خود ارشاد فرمایا، ’’اور تمہیں سیدھی راہ دکھا دے‘‘۔
(پارہ نمبر: 26، سورۃ الفتح ، آیت نمبر:39)
182: حضرت ابراھیم علیہ السلام کے لیے فرمایا، کیا تمہارے پاس ابراہیم کے معزز مہمانوں کی خبر آئی‘‘۔ (پارہ نمبر: 26، سورۃ الذاریات، آیت نمبر:26) یعنی فرشتے ان کے مہمان بنے۔ جبکہ حبیبِ مکرم ﷺ کے لیے فرمایا،’’اور ان فوجوں سے اس کی مدد کی جو تم نے نہ دیکھیں‘‘۔
(پارہ نمبر: 26، سورۃ الذاریات، آیت نمبر:26) یعنی فرشتے ان کے سپاہی بنے۔
183: حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں فرمایا کہ انہوں نے اللّٰہ تعالیٰ کی رضا چاہی۔
ارشاد ہوا، ’’اے رب! تیری طرف جلدی کر کے حاضر ہوا تاکہ تو راضی ہو‘‘۔ (پارہ نمبر: 16، سورۃ الطہ، آیت نمبر: 84)
جبکہ حبیب علیہ السلام کے لیے فرمایا کہ:
اللّٰہ تعالیٰ ان کی رضا چاہتا ہے۔ ارشاد ہوا، ’’عنقریب تمہارا رب تمہیں اتنا دے گاکہ تم راضی ہوجاؤ گے‘‘۔
(پارہ نمبر: 30، سورۃ الضحی، آیت نمبر5)
184: حضرت موسیٰ علیہ السلام کا فرعون کے خوف سے مصر سے تشریف لے جانا بلفظ فرار نقل فرمایا۔ (پارہ نمبر: 26، سورۃ الشعراء، آیت نمبر:21)
جبکہ حبیب ﷺ کا ہجرت فرمانا احسن عبارات سے بیان فرمایا۔
(پارہ نمبر: 10، سورۃ الانفال، آیت نمبر:30)
185: حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کوہِ طور پر کلام کیا اور اسے ظاہر فرمادیا۔ (پارہ نمبر: 16، سورۃ الطہ، آیت نمبر: 13)
جبکہ حبیب سے آسمانوں سے بھی اوپر کلام فرمایا اور کسی پر بھی ظاہر نہ فرمایا۔
(پارہ نمبر: 27، سورۃ النجم، آیت نمبر:10)
186: حضرت داؤد علیہ السلام سے فرمایا گیا،
’’خواہش کی پیروی نہ کرنا کہ تجھے بہکا دے خدا کی راہ سے ‘‘۔
(پارہ نمبر: 23، سورۃ ص، آیت نمبر:26)
جبکہ حبیب ﷺ کے بارے میں قسم کے ساتھ ارشاد فرمایا،
’’اور وہ کوئی بات اپنی خواہش سے نہیں کرتے، وہ تو نہیں مگر وحی جو انہیں کی جاتی ہے‘‘۔
(پارہ نمبر: 27، سورۃ النجم، آیت نمبر:2،3)
187: حضرت نوح و ھود علیہما السلام سے دعا نقل فرمائی،
’’الٰہی میری مدد فرما بدلے اس کا کہ انہوں نے مجھے جھٹلایا‘‘۔
(پارہ نمبر: 18، سورۃ المومنون، آیت نمبر:26)
جبکہ آقائے دوجہاں شفیع عاصیاں ﷺ سے خود ارشاد ہوا،
’’اللّٰہ تیری مدد فرمائے گا، زبردست مدد‘‘۔
(پارہ نمبر: 26، سورۃ الفتح ، آیت نمبر:3)
188: حضرت نوح و حضرت خلیل علیہما السلام سے نقل فرمایا کہ: انہوں نے اپنی امتو ں کے لیے دعائے مغفرت کی۔
(پارہ نمبر: 29، سورۃ نوح، آیت نمبر:28، پارہ نمبر: 13، سورۃ ابراہیم، آیت نمبر:41)
جبکہ حبیب ﷺ کو خود حکم دیا کہ اپنی امت کے لیے مغفرت مانگو۔
(پارہ نمبر: 26، سورۃ محمد، آیت نمبر:19)
189: ابراہیم علیہ السلام کے لیے ارشاد ہوا کہ:
انہوں نے پچھلوں میں اپنا ذکر جمیل باقی رکھنے کی دعا فرمائی، ’’اور میری سچی ناموری رکھ پچھلوں میں‘‘۔
(پارہ نمبر: 26، سورۃ الشعراء، آیت نمبر:84)
جبکہ حبیب ﷺ سے خود فرمایا،
’’ اور ہم نے تمہارے لیے تمہارا ذکر بلند کر دیا ہے‘‘۔ (الم نشرح:4) اور اس سے بھی اعلیٰ وار فع مثردہ ملا کہ آپ کو مقام محمود پر فائز کیا جائے گا جہاں اولین و آخرین جمع ہوں گے اور آپ کی حمد و ثنا کا شور ہر زبا ن پر ہو گا۔
(پارہ نمبر: 15، سورۃ بنی اسرائیل، آیت نمبر:79)
190: خلیل علیہ السلا م کے بارے میں فرمایا کہ:
انہوں نے لوط علیہ السلام کی قوم سے عذاب دور کرانے کی بڑی کوشش کی مگر حکم ہوا، ’’اے ابراہیم! اس خیال میں نہ پڑ‘‘۔
(پارہ نمبر: 11، سورۃ ھود، آیت نمبر:74)عرض کی، اس بستی میں لو ط (علیہ السلام)جو ہے۔حکم ہوا ،ہمیں خوب معلوم ہے جو وہاں ہے۔
جبکہ حبیب ﷺ سے ارشاد ہوا،
’’اللّٰہ ان کافروں پر بھی عذاب نہ کرے گا جب تک اے رحمتِ عالم! تو ان میں تشریف فرما ہے‘‘۔
(پارہ نمبر: 10، سورۃ الانفال، آیت نمبر:33)
191:حضرت خلیل علیہ السلام سے نقل فرمایا،
’’الٰہی !میری دعا قبول فرما‘‘۔ (پارہ نمبر: 13، سورۃ ابراہیم، آیت نمبر:40)
جبکہ حبیب ﷺ اور ان کے غلاموں کو ارشاد ہوا،
’’تمہارا رب فرماتا ہے، مجھ سے دعا مانگو میں قبول کروں گا‘‘۔
(پارہ نمبر: 24، سورۃ المومن، آیت نمبر:60)

