157: اللّٰہ تعالیٰ سے اس کے رسول ﷺ کو جدا کرنا کفر ہے۔
(پارہ نمبر: 6، سورۃ النساء ، آیت نمبر:64)
158: تمام مسلمان آقا و مولیٰ ﷺ کے بندے اور غلام ہیں۔
(پارہ نمبر: 23، سورۃ الزمر، آیت نمبر:53)
159: آقا و مولیٰ ﷺ کسی نمازی کو بلائیں تو اسے نماز میں آنا لازم ہے اور اس کی نماز باطل نہیں ہوگی۔
(پارہ نمبر: 10، سورۃ الانفال، آیت نمبر:24)
160: اللّٰہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو انبیاء و رسل پر درجوں بلندی عطا فرمائی۔
(پارہ نمبر: 1، سورۃ البقرۃ ، آیت نمبر:235)
161: تمام انبیاء سے حضور پر ایمان لانے اور مدد کرنے کا عہد لیا گیا۔
(پارہ نمبر: 4، سورۃ آل عمران ، آیت نمبر:7)
162: اللّٰہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کے ذکر کو تمام انبیاء کے ذکر پر مقدم رکھا۔
(پارہ نمبر: 22، سورۃ الاحزاب ، آیت نمبر:150)
163: اللّٰہ تعالیٰ نے دیگر انبیاء کرام کو ناموں سے پکارا اور حضور نبی کریم ﷺ کو القاب سے خطاب فرمایا۔
(پارہ نمبر: 6، سورۃ المائدۃ، آیت نمبر:67، پارہ نمبر: 22، سورۃ الاحزاب ، آیت نمبر:45، پارہ نمبر: 29، سورۃ المزمل، آیت نمبر:1، پارہ نمبر: 29، سورۃ المدثر، آیت نمبر:4)
164: قرآن حکیم میں چار جگہ رسول کریم ﷺ کا اسم گرامی صفت رسالت کے ساتھ بیان فرمایا گیا ہے۔
(پارہ نمبر: 4، سورۃ آل عمران ، آیت نمبر:144، پارہ نمبر: 22، سورۃ الاحزاب ، آیت نمبر:40، پارہ نمبر: 26، سورۃ الفتح ، آیت نمبر:39، پارہ نمبر:26، سورۃ محمد، آیت نمبر:4)
165: سرکارِ دو عالم ﷺ کے اطمینانِ قلب کے لیے سابقہ انبیاء کرام کے احوال آپ پر وحی فرمائے گئے۔
(پارہ نمبر: 12، سورۃ الھود ، آیت نمبر:120)
166: احسان کے بدلے میں زیادتی چاہنا آپ ﷺ کے لیے جائز نہ تھا۔
(پارہ نمبر: 29، سورۃ المدثر، آیت نمبر:6)
167: آقا و مولیٰ نبی کریم ﷺ کے لیے شعر کہنا زیبا نہ تھا۔
(پارہ نمبر: 22، سورۃ یس، آیت نمبر:39)
168: آپ ﷺ کے لیے بیک وقت چار سے زائد نکاح جائز تھے۔
(پارہ نمبر: 22، سورۃ الاحزاب ، آیت نمبر:38)
169: حضور کے لیے ازواج مطہرات کے اوقات کی عدم تقسیم جائز تھی۔
(پارہ نمبر: 22، سورۃ الاحزاب ، آیت نمبر:51)
170: آپ کے وصال ظاہری کے بعد ازواج مطہرات کو اپنے گھروں میں رہنا لازم ہے، وہ حج و عمرہ کے لیے بھی نہیں نکل سکتیں۔
(پارہ نمبر: 22، سورۃ الاحزاب ، آیت نمبر:33)
171: آپ جس مرد کا جس عورت سے چاہیں، اس سے اور اس کے والدین سے پوچھے بغیر نکاح فرما سکتے ہیں۔
(پارہ نمبر: 22، سورۃ الاحزاب ، آیت نمبر:36) کفارکے اعتراضات کے جوابات انبیاءِ سابقین علیہم السلام خود دیتے تھے مگر حبیبِ کبریا ﷺ پر اعتراضات کے جوابات خود اللّٰہ تعالیٰ نے دیے۔
172: کافر بولے،’’ تم رسول نہیں ہو‘‘۔ باری تعالیٰ نے فرمایا،’’ تو بے شک رسولوں میں سے ہے‘‘۔
(پارہ نمبر:22، سورۃ یس، آیت نمبر:3)
173: کافروں نے شاعری کا عیب لگایا تو ارشادِ باری تعا لیٰ ہوا، ’’اور ہم نے ان کو شعر کہنا نہ سکھایا‘‘۔
(پارہ نمبر:23، سورۃ یس، آیت نمبر:69)
174: ولید بن مغیرہ ملعون نے آپ کو مجنوں کہا تو رب تعالیٰ نے جواب دیا، ’’آپ ہر گز مجنوں نہیں‘‘۔
(پارہ نمبر: 29، سورۃ القلم، آیت نمبر:3)
175: ابن اُبی ملعون نے کہا، ہم عزت والے ذلیل لوگوں کو نکال دیں گے۔ ارشاد ہوا، ’’عزت تو خدا ، رسول اور مومنوں ہی کے لیے ہے‘‘۔
(پارہ نمبر: 28، سورۃ المنافقون، آیت نمبر:7)
176: عاص بن وائل ملعون نے آپ کے صاحبزدے کے انتقال پر طعنہ دیا تو باری تعالیٰ نے فرمایا،
’’تمہارے دشمن کا ناپاک نام ہمیشہ نفرت سے لیا جائے گا‘‘۔
(پارہ نمبر: 30، سورۃ الکوثر، آیت نمبر:3)
177: کافر بولے، اُن کو اُن کے رب نے چھوڑ دیا ہے۔ ارشاد ہوا، ’’تمہیں تمہارے رب نے نہ چھوڑا، اور نہ مکروہ جانا‘‘۔
(پارہ نمبر: 30، سورۃ الضحی، آیت نمبر:3)
178: ابولہب شقی نے دعوتِ اسلام دینے پر گستا خانہ جملے کہے تو رب تعالیٰ نے اس کی مذمت میں پوری سورۂ لہب نازل فرمائی۔
(پارہ نمبر: 30، سورۃ اللہب، آیت نمبر:1،4)
مجد دِ دین و ملت اعلیٰ حضرت امام رضا محدث بریلوی علیہ رحمۃ القوی نے ’’ تجلی الیقین بان سیدنا نبینا المرسلین‘‘میں امامُ الا نبیاء سیدُ المر سلین ﷺ کی عظمت و رفعت اور اعلیٰ شان میں قرآن حکیم کی بیس آیات بیان فرمائیں جو درج ذیل ہیں:
179: حضرت ابراھیم علیہ السلام نے بارگاہِ الٰہی میں عرض کی، ’’مجھے رسوا نہ کرنا جس دن لوگ اُٹھائے جائیں گے‘‘۔
(پارہ نمبر: 26، سورۃ الشعراء، آیت نمبر:87) اور حبیبِ مکرم ﷺ کے لیے اللّٰہ تعالیٰ نے خود ارشاد فرمایا، ’’جس دن اللّٰہ رسوا نہ کرے گا نبی اور اس کے ساتھ والے مسلمانوں کو ‘‘۔
(پارہ نمبر: 26، سورۃ الشعراء، آیت نمبر:87)
حضورﷺ کے صدقہ میں صحابہ کرام بھی اس بشارتِ عظمیٰ سے مشرف ہوئے۔

