157: اللہ تعا لیٰ سے اس کے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو جدا کرنا کفر ہے۔()
158: تمام مسلمان آقاومولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے بندے اور غلام ہیں۔()
159: آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کسی نمازی کو بلا ئیں تو اسے نماز میں آنا لازم ہے اوراس کی نمازباطل نہیں ہوگی۔()
160: اللہ تعا لیٰ نے حضورصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکو انبیاء ورسل پر درجوں بلندی عطا فرمائی۔()
161: تمام انبیاء سے حضورپر ایمان لانے اور مدد کرنے کا عہد لیا گیا۔()
162: اللہ تعا لیٰ نے حضو رصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے ذکر کو تمام انبیاء کے ذکر پر مقدم رکھا۔()
163: اللہ تعالیٰ نے دیگر انبیا ء کرام کو ناموں سے پکارا اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو القاب سے خطاب فرمایا۔()
164: قرآن حکیم میں چار جگہ رسول کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا اسم گرامی صفت رسالت کے ساتھ بیا ن فرمایا گیا ہے۔()
165:سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے اطمینانِ قلب کے لیے سابقہ انبیاء کرام کے احوال آپ پر وحی فرمائے گئے۔()
166: احسا ن کے بدلے میں زیادتی چاہنا آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے لیے جائزنہ تھا۔()
167: آقاومولیٰ نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے لیے شعر کہنا زیبانہ تھا۔()
168: آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے لیے بیک وقت چار سے زائد نکاح جائز تھے۔()
169:حضورکے لیے ازواج مطہرات کے اوقات کی عدم تقسیم جائز تھی۔()
170: آپ کے وصال ظاہری کے بعد ازواج مطہرات کو اپنے گھروں میں رہنا لازم ہے، وہ حج و عمرہ کے لیے بھی نہیں نکل سکتیں۔()
171: آپ جس مرد کا جس عورت سے چاہیں، اس سے اور اس کے والدین سے پوچھے بغیر نکاح فرماسکتے ہیں۔()
کفارکے اعتراضات کے جوابات انبیاءِ سابقین علیہم السلام خود دیتے تھے مگر حبیبِ کبریاصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم پر اعتراضات کے جوابات خود اللہ تعا لیٰ نے دیے۔
172: کافر بولے،’’ تم رسول نہیں ہو‘‘۔ باری تعالیٰ نے فرمایا،’’ تو بے شک رسولوں میں سے ہے‘‘۔()
173: کافروں نے شاعری کا عیب لگایاتو ارشادِ باری تعا لیٰ ہوا، ’’اور ہم نے ان کو شعر کہنا نہ سکھایا‘‘۔()
174: ولیدبن مغیرہ ملعون نے آپ کو مجنوں کہا تورب تعا لیٰ نے جواب دیا، ’’آپ ہر گز مجنوں نہیں‘‘۔()
175: ابن اُبی ملعون نے کہا، ہم عزت والے ذلیل لوگوں کو نکال دیں گے۔ ارشاد ہوا،’’عزت تو خدا ، رسول اورمومنوں ہی کے لیے ہے‘‘۔()
176: عاص بن وائل ملعون نے آپ کے صاحبزدے کے انتقال پر طعنہ دیا تو باری تعا لیٰ نے فرمایا،’’تمہارے دشمن کا ناپاک نام ہمیشہ نفرت سے لیا جائے گا‘‘۔()
177: کافر بولے ، اُن کو اُن کے رب نے چھوڑ دیاہے۔ ارشاد ہوا، ’’تمہیں تمہارے رب نے نہ چھوڑا،اور نہ مکر وہ جانا‘‘۔()
178: ابولہب شقی نے دعوتِ اسلام دینے پر گستا خانہ جملے کہے تو رب تعا لیٰ نے اس کی مذمت میں پوری سورۂ لہب نازل فرمائی۔()
مجد دِ دین و ملت اعلیٰ حضرت امام رضا محدث بریلوی علیہ رحمۃ القوی نے ’’تجلی الیقین بان سیدنا نبیناالمرسلین‘‘میں امامُ الا نبیاء سیدُ المر سلین اکی عظمت و رفعت اوراعلیٰ شان میں قرآن حکیم کی بیس آیات بیان فرمائیں جو درج ذیل ہیں:
179: حضرت ابراھیم علیہ السلام نے بارگاہِ الٰہی میں عرض کی، ’’مجھے رسوانہ کرنا جس دن لوگ اُٹھائے جائیں گے‘‘۔()
اور حبیبِ مکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے لیے اللہ تعا لیٰ نے خود ارشاد فرمایا،’’جس دن اللہ رسوانہ کرے گا نبی اور اس کے ساتھ والے مسلمانوں کو ‘‘۔() حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے صدقہ میں صحابہ کرام بھی اس بشارتِ عظمیٰ سے مشرف ہوئے۔
Page 94 of 120

