116: گستاخی کا کلمہ بغیر تو ہین کی نیت کے بھی کفر ہے۔
(پارہ نمبر: 1، سورۃ البقرۃ ، آیت نمبر:104)
117: حضور کا ادب کرنے والوں کو تقویٰ اور مغفرت نصیب ہوتی ہے۔
(پارہ نمبر: 26، سورۃ الحجرات، آیت نمبر:3)
118: حضور کی شان میں ادنیٰ سی بے ادبی سے نیکیاں برباد ہو جاتی ہیں۔
(پارہ نمبر: 26، سورۃ الحجرات، آیت نمبر:2)
119: آقا و مولیٰ ﷺ کی حاکمیت کو تسلیم نہ کرنا کفر ہے۔
(پارہ نمبر: 6، سورۃ النساء ، آیت نمبر:65)
120: حضورِ اکرم ﷺ کی مخالفت کرنے والا دوزخی ہے۔
(پارہ نمبر: 6، سورۃ النساء ، آیت نمبر:115)
121: سرکارِ دو عالم ﷺ کی تعظیم و توقیر تمام عبادات پر مقدم ہے۔
(پارہ نمبر: 26، سورۃ الفتح، آیت نمبر:9)
122: بارگاہِ رسالت کا گستاخ ہدایت سے محروم رہتا ہے۔
(پارہ نمبر: 26، سورۃ الحجرات، آیت نمبر:13)
123: اللّٰہ عزوجل نے اپنے حبیب کے گستاخ کے دس عیب بیان فرمائے۔
(پارہ نمبر: 29، سورۃ القلم، آیت نمبر:16،8)
124: حضورِ اکرم ﷺ کی بارگاہ کا گستاخ ولد الحرام ہوتا ہے۔
(پارہ نمبر: 29، سورۃ القلم، آیت نمبر:13)
125: بارگاہ نبوت کے گستاخ کا منہ خنزیر کی مثل ہوجاتا ہے۔
(پارہ نمبر: 29، سورۃ القلم، آیت نمبر:16)
126: آپ کے گستاخ کی مذمت کرنا اللّٰہ تعالیٰ کی سنت ہے۔
(پارہ نمبر: 29، سورۃ القلم، آیت نمبر:8، پارہ نمبر: 30، سورۃ اللہب، آیت نمبر:1)
127: حضور ﷺ کے گستاخ کی مغفرت نہیں ہوسکتی۔
(پارہ نمبر: 18، سورۃ المومنون، آیت نمبر:6)
128: ایمان والے گستاخِ رسول سے دوستی نہیں کرسکتے۔
(پارہ نمبر: 28، سورۃ المجادلہ، آیت نمبر:22)
129: گستاخِ رسول دنیا و آخرت میں مردود و ملعون ہوجاتاہے۔
(پارہ نمبر: 30، سورۃ اللہب، آیت نمبر:1)
130: حضور ﷺ سے منہ موڑنا منافقوں کی علامت ہے۔
(پارہ نمبر: 18، سورۃ الفرقان ، آیت نمبر:9)
131: منافقوں کا اقرارِ رسالت کرنا بیکار ہے۔
(پارہ نمبر: 18، سورۃ المومنون، آیت نمبر:1)
132: اللّٰہ تعالیٰ اپنے حبیب ﷺ کی رضا چاہتا ہے۔
(پارہ نمبر: 30، سورۃ الضحی، آیت نمبر:5)
133: اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کی رضا کے لیے آپ کا ذکر بلند فرمایا۔
(پارہ نمبر: 30، سورۃ الم نشرح، آیت نمبر:3)
134: اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کی خوشی کے لیے قبلہ تبدیل فرمایا۔
(پارہ نمبر: 1، سورۃ البقرۃ ، آیت نمبر:144)
135: اللّٰہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی رسالت پر قسم ارشاد فرمائی۔
(پارہ نمبر:22، سورۃ یسن، آیت نمبر:2)
136: اللّٰہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی جان کی قسم ارشاد فرمائی۔
(پارہ نمبر: 13، سورۃ الحجر، آیت نمبر:،72)
137: اللّٰہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی گفتگو کی قسم ارشاد فرمائی۔
(پارہ نمبر: 25، سورۃ الزخرف، آیت نمبر:88)
138: اللّٰہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے شہر کی قسم ارشاد فرمائی۔
(پارہ نمبر: 30، سورۃ العصر، آیت نمبر:1)
139: اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کے زمانہ کی قسم ارشاد فرمائی۔
(پارہ نمبر: 30، سورۃ البلد، آیت نمبر:1)
140: آپ کے چہرۂ اقدس اور زلف عنبریں کی قسم ارشاد فرمائی۔
(پارہ نمبر: 30، سورۃ الضحی، آیت نمبر:1)
141: اللّٰہ تعالیٰ کی نعمتیں حضور ﷺ تقسیم فرماتے ہیں۔
(پارہ نمبر: 24، سورۃ التوبۃ، آیت نمبر: 59)
142: آپ کو مال غنیمت تقسیم فرمانے کا مکمل اختیار ہے۔
(پارہ نمبر: 28، سورۃ الحشر، آیت نمبر: 7)
143: مال غنیمت میں اللّٰہ تعالیٰ کا حصہ حضور ﷺ ہی کا حصہ ہے۔
(پارہ نمبر: 24، سورۃ التوبۃ، آیت نمبر: 41)
144: حضور ﷺ کا غنی کرنا رب تعالیٰ ہی کا غنی فرمانا ہے۔
(پارہ نمبر: 24، سورۃ التوبۃ، آیت نمبر: 72)
145: حضور ﷺ کا بلانا اللّٰہ تعالیٰ ہی کا بلانا ہے۔
(پارہ نمبر: 10، سورۃ الانفال، آیت نمبر:24)
146: حضور کی بیعت اللّٰہ تعالیٰ ہی کی بیعت ہے۔
(پارہ نمبر: 26، سورۃ الفتح ، آیت نمبر:10)
147: حضور ﷺ کا کلام فرمانا اللّٰہ تعالیٰ ہی کا کلا م فرمانا ہے۔
(پارہ نمبر: 27، سورۃ النجم، آیت نمبر:3)
148: آپ ﷺ کا حرام کیا ہوا اللّٰہ تعالیٰ ہی کا حرام کیا ہوا ہے۔
(پارہ نمبر: 24، سورۃ التوبۃ، آیت نمبر: 28)
149: حضور نبی کریم ﷺ کی غلامی اللّٰہ تعالیٰ ہی کی غلامی ہے۔
(پارہ نمبر: 6، سورۃ النساء ، آیت نمبر:80)
150: حضورِ اکرم ﷺ کی نافرمانی اللّٰہ تعالیٰ ہی کی نافرمانی ہے۔
(پارہ نمبر: 22، سورۃ الاحزاب ، آیت نمبر:36)
151: حضور ﷺ کی رضا مندی اللّٰہ تعالیٰ ہی کی رضا مندی ہے۔
(پارہ نمبر: 24، سورۃ التوبۃ، آیت نمبر: 62)
152: حضور ﷺ سبقت کرنا اللّٰہ تعالیٰ ہی سے سبقت کرنا ہے۔
(پارہ نمبر: 26، سورۃ الحجرات، آیت نمبر:1)
153: حضور ﷺ کا خاک پھینکنا اللّٰہ تعالیٰ ہی کا خاک پھینکنا ہے۔
(پارہ نمبر: 10، سورۃ الانفال، آیت نمبر:17)
154: حضور ﷺ کا مذاق اڑانا اللّٰہ تعالیٰ ہی کا مذاق اڑانا ہے۔
(پارہ نمبر: 24، سورۃ التوبۃ، آیت نمبر: 65)
155: حضور ﷺ کو اذیت دینا اللّٰہ تعالیٰ کو اذیت دینا ہے۔
(پارہ نمبر: 22، سورۃ الاحزاب ، آیت نمبر:57)
156: حضور ﷺ سے جھوٹ بولنا اللّٰہ تعالیٰ سے جھوٹ بولنا ہے۔
(پارہ نمبر: 24، سورۃ التوبۃ، آیت نمبر: 91)

