Jamal e Mustafa

Total Pages: 118

Page 92 of 118

74: آقا و مولیٰ کا وجود کافروں کے لیے بھی دافع بلا ہے۔
(پارہ نمبر: 10، سورۃ  الانفال، آیت نمبر:33)

75: آپ کے وسیلے سے اہل کتاب فتح حاصل کرتے تھے۔
(پارہ نمبر: 1، سورۃ البقرۃ ، آیت نمبر:89)

76: مغفر ت کے لیے حضور  کا وسیلہ ضروری ہے۔
(پارہ نمبر: 6، سورۃ النساء ، آیت نمبر:64)

77: حضورِ اکرم  کے چاہنے سے مغفرت ملتی ہے۔
(پارہ نمبر: 6، سورۃ النساء ، آیت نمبر:64)

78: آقا ﷺ  کے سبب آپ کے اگلے پچھلے غلاموں کی مغفرت ہوتی ہے۔
(پارہ نمبر:26، سورۃ محمد، آیت نمبر:19، پارہ نمبر: 26، سورۃ  الفتح، آیت نمبر:2)

79: اللّٰہ تعالیٰ اور رسول مومنوں کے مدد گار ہیں۔
(پارہ نمبر: 6، سورۃ  المائدۃ، آیت نمبر:55)

80: آپ کی حفاظت اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے ذمۂ کرم پر لی۔
(پارہ نمبر: 6، سورۃ  المائدۃ، آیت نمبر:67)

81: آپ کو وہ سب کچھ سکھا دیا جو آپ نہیں جانتے تھے۔
(پارہ نمبر: 6، سورۃ النساء ، آیت نمبر:113)

82: حضور کو علوم غیبیہ سکھا دیے گئے۔
(پارہ نمبر: 4، سورۃ  آل عمران ، آیت نمبر:179، پارہ نمبر: 12، سورۃ الھود ، آیت نمبر:49، پارہ نمبر: 12، سورۃ یوسف، آیت نمبر:102، پارہ نمبر: 29، سورۃ الجن، آیت نمبر:27)

83: حضورِ انور غیب بتانے میں بخیل نہیں ہیں۔
(پارہ نمبر: 30، سورۃ التکویر، آیت نمبر:26)

84: نورِ مجسم سید عالم کسی کے شاگرد نہیں ہیں۔
(پارہ نمبر: 9، سورۃ الاعراف، آیت نمبر:157)

85: آپ کو اللّٰہ تعالیٰ نے پڑھایا، آپ بھولتے نہیں۔
(
پارہ نمبر: 30، سورۃ الاعلی، آیت نمبر:6)

86: اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب کو قرآن سکھایا۔
(پارہ نمبر: 27، سورۃ الرحمن، آیت نمبر:2)

87: اور اس قرآن پاک میں ہرشے کا بیان ہے۔
(پارہ نمبر: 14، سورۃ  النحل، آیت نمبر:89)

88: آپ  کو بے شمار خوبیاں عطا فرمائی گئیں۔
(پارہ نمبر: 30، سورۃ الکوثر، آیت نمبر:1)

89: آپ کے لیے کبھی نہ ختم ہونے والا اجر ہے۔
(پارہ نمبر: 29، سورۃ القلم، آیت نمبر:3)

90: آپ ﷺ  پر اللّٰہ تعالیٰ کا فضل عظیم ہے۔
(پارہ نمبر: 6، سورۃ النساء ، آیت نمبر:113)

91: اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کا سینہ اقدس کشادہ فرمایا۔
(پارہ نمبر: 30، سورۃ الم نشرح، آیت نمبر:1)

92: اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب  کو غنی فرما دیا۔
(پارہ نمبر: 30، سورۃ الضحی، آیت نمبر:8)

93: آپ کو مومنوں کے لیے رؤف و رحیم بنا دیا ہے۔
(پارہ نمبر: 24، سورۃ  التوبۃ، آیت نمبر: 128)

94: مومنوں کے مشقت میں پڑنے کی حضور کو خبر ہوتی ہے۔
(پارہ نمبر: 24، سورۃ  التوبۃ، آیت نمبر: 128)

95: رحمت عالم تمام امت کے نگہبان و گواہ ہیں۔
(
پارہ نمبر: 1، سورۃ البقرۃ ، آیت نمبر:148، پارہ نمبر: 17، سورۃ الحج ، آیت نمبر:78)

96: حضور مومنوں کے ان کی جانوں سے زیادہ مالک ہیں۔
(پارہ نمبر: 22، سورۃ الاحزاب ، آیت نمبر: 6)

97: حضور ﷺ  مومنوں کے ان کی جانوں سے زیادہ قریب ہیں۔
(پارہ نمبر: 22، سورۃ الاحزاب ، آیت نمبر: 6)

98: حضور ﷺ  اللّٰہ تعالیٰ کا ذکر ہیں اور ذکر الٰہی سے سکون ملتا ہے۔
(پارہ نمبر: 28، سورۃ الطلاق، آیت نمبر:10، پارہ نمبر: 13، سورۃ  الرعد، آیت نمبر:،28)

99: آقا کریم کو اللّٰہ عزوجل نے معراج کرائی۔
(پارہ نمبر: 15، سورۃ  بنی اسرائیل، آیت نمبر:1)

100: معراج میں جو چاہا، اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کو وحی فرمائی۔
(پارہ نمبر: 27، سورۃ النجم، آیت نمبر:10)

101: آپ کو اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے دیدار سے مشرف فرمایا۔
(پارہ نمبر: 27، سورۃ النجم، آیت نمبر:17)

102: اور آپ نے اپنے رب کی بہت بڑی نشانیاں دیکھیں۔
(پارہ نمبر: 27، سورۃ النجم، آیت نمبر:18)

103: آپ کی انگلی کے اشارے سے چاند دو ٹکڑے ہوا۔
(پارہ نمبر: 27، سورۃ القمر، آیت نمبر:1)

104: آپکو مقام محمود عطا کیا جائے گا۔
(پارہ نمبر: 15، سورۃ  بنی اسرائیل، آیت نمبر:79)

105: آپ ﷺ  کے لیے ہرا گلا لمحہ پہلے سے بہتر ہے۔
(پارہ نمبر: 30، سورۃ الضحی، آیت نمبر:4)

106: اللّٰہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنے حبیبِ مکرم رسولِ معظم ﷺ  کی بارگاہ کے آداب سکھائے۔
(پارہ نمبر: 22، سورۃ الاحزاب ، آیت نمبر: 33، پارہ نمبر: 26، سورۃ الحجرات، آیت نمبر:1،5)

107: آپ کی دعوت قبول کرنے سے زندگی ملتی ہے۔
(پارہ نمبر: 10، سورۃ  الانفال، آیت نمبر:24)

108: بارگاہ رسالت میں آواز بلند کرنا بے ادبی ہے۔
(پارہ نمبر: 26، سورۃ الحجرات، آیت نمبر:2)

109: حضور کو عام لوگوں کی طرح پکارنا گستاخی ہے۔
(پارہ نمبر: 22، سورۃ النور، آیت نمبر: 63)

110: آپ ﷺ  کے بلانے پر فوراً حاضر ہونا ضروری ہے۔
(پارہ نمبر: 10، سورۃ  الانفال، آیت نمبر:42)

111:حضور ﷺ  کی بارگاہ سے رخصت ہو نے کے لیے اجازت ضروری ہے۔
(پارہ نمبر: 22، سورۃ النور، آیت نمبر: 62)

112: دعوت ختم ہونے پر وہاں سے جلد رخصت ہونا چاہیے۔
(پارہ نمبر: 22، سورۃ الاحزاب ، آیت نمبر: 53)

113: حضور آقا و مولیٰ کی تعظیم و تو قیر واجب ہے۔
(پارہ نمبر: 26، سورۃ  الفتح، آیت نمبر:9)

114: حضور نبی کریم کی بارگاہ میں گستاخی کفر ہے۔
(پارہ نمبر: 24، سورۃ  التوبۃ، آیت نمبر: 74)

115: حضور ﷺ  کو اپنی مثل بشر کہنا کافروں کا طریقہ ہے۔
(پارہ نمبر: 17، سورۃ الانبیاء، آیت نمبر:3)

Share:
keyboard_arrow_up