74: آقا و مولیٰ ﷺ کا وجود کافروں کے لیے بھی دافع بلا ہے۔
(پارہ نمبر: 10، سورۃ الانفال، آیت نمبر:33)
75: آپ کے وسیلے سے اہل کتاب فتح حاصل کرتے تھے۔
(پارہ نمبر: 1، سورۃ البقرۃ ، آیت نمبر:89)
76: مغفر ت کے لیے حضور ﷺ کا وسیلہ ضروری ہے۔
(پارہ نمبر: 6، سورۃ النساء ، آیت نمبر:64)
77: حضورِ اکرم ﷺ کے چاہنے سے مغفرت ملتی ہے۔
(پارہ نمبر: 6، سورۃ النساء ، آیت نمبر:64)
78: آقا ﷺ کے سبب آپ کے اگلے پچھلے غلاموں کی مغفرت ہوتی ہے۔
(پارہ نمبر:26، سورۃ محمد، آیت نمبر:19، پارہ نمبر: 26، سورۃ الفتح، آیت نمبر:2)
79: اللّٰہ تعالیٰ اور رسول ﷺ مومنوں کے مدد گار ہیں۔
(پارہ نمبر: 6، سورۃ المائدۃ، آیت نمبر:55)
80: آپ کی حفاظت اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے ذمۂ کرم پر لی۔
(پارہ نمبر: 6، سورۃ المائدۃ، آیت نمبر:67)
81: آپ ﷺ کو وہ سب کچھ سکھا دیا جو آپ نہیں جانتے تھے۔
(پارہ نمبر: 6، سورۃ النساء ، آیت نمبر:113)
82: حضور ﷺ کو علوم غیبیہ سکھا دیے گئے۔
(پارہ نمبر: 4، سورۃ آل عمران ، آیت نمبر:179، پارہ نمبر: 12، سورۃ الھود ، آیت نمبر:49، پارہ نمبر: 12، سورۃ یوسف، آیت نمبر:102، پارہ نمبر: 29، سورۃ الجن، آیت نمبر:27)
83: حضورِ انور ﷺ غیب بتانے میں بخیل نہیں ہیں۔
(پارہ نمبر: 30، سورۃ التکویر، آیت نمبر:26)
84: نورِ مجسم سید عالم ﷺ کسی کے شاگرد نہیں ہیں۔
(پارہ نمبر: 9، سورۃ الاعراف، آیت نمبر:157)
85: آپ ﷺ کو اللّٰہ تعالیٰ نے پڑھایا، آپ بھولتے نہیں۔
(پارہ نمبر: 30، سورۃ الاعلی، آیت نمبر:6)
86: اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کو قرآن سکھایا۔
(پارہ نمبر: 27، سورۃ الرحمن، آیت نمبر:2)
87: اور اس قرآن پاک میں ہرشے کا بیان ہے۔
(پارہ نمبر: 14، سورۃ النحل، آیت نمبر:89)
88: آپ ﷺ کو بے شمار خوبیاں عطا فرمائی گئیں۔
(پارہ نمبر: 30، سورۃ الکوثر، آیت نمبر:1)
89: آپ کے لیے کبھی نہ ختم ہونے والا اجر ہے۔
(پارہ نمبر: 29، سورۃ القلم، آیت نمبر:3)
90: آپ ﷺ پر اللّٰہ تعالیٰ کا فضل عظیم ہے۔
(پارہ نمبر: 6، سورۃ النساء ، آیت نمبر:113)
91: اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کا سینہ اقدس کشادہ فرمایا۔
(پارہ نمبر: 30، سورۃ الم نشرح، آیت نمبر:1)
92: اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کو غنی فرما دیا۔
(پارہ نمبر: 30، سورۃ الضحی، آیت نمبر:8)
93: آپ کو مومنوں کے لیے رؤف و رحیم بنا دیا ہے۔
(پارہ نمبر: 24، سورۃ التوبۃ، آیت نمبر: 128)
94: مومنوں کے مشقت میں پڑنے کی حضور ﷺ کو خبر ہوتی ہے۔
(پارہ نمبر: 24، سورۃ التوبۃ، آیت نمبر: 128)
95: رحمت عالم ﷺ تمام امت کے نگہبان و گواہ ہیں۔
(پارہ نمبر: 1، سورۃ البقرۃ ، آیت نمبر:148، پارہ نمبر: 17، سورۃ الحج ، آیت نمبر:78)
96: حضور ﷺ مومنوں کے ان کی جانوں سے زیادہ مالک ہیں۔
(پارہ نمبر: 22، سورۃ الاحزاب ، آیت نمبر: 6)
97: حضور ﷺ مومنوں کے ان کی جانوں سے زیادہ قریب ہیں۔
(پارہ نمبر: 22، سورۃ الاحزاب ، آیت نمبر: 6)
98: حضور ﷺ اللّٰہ تعالیٰ کا ذکر ہیں اور ذکر الٰہی سے سکون ملتا ہے۔
(پارہ نمبر: 28، سورۃ الطلاق، آیت نمبر:10، پارہ نمبر: 13، سورۃ الرعد، آیت نمبر:،28)
99: آقا کریم ﷺ کو اللّٰہ عزوجل نے معراج کرائی۔
(پارہ نمبر: 15، سورۃ بنی اسرائیل، آیت نمبر:1)
100: معراج میں جو چاہا، اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کو وحی فرمائی۔
(پارہ نمبر: 27، سورۃ النجم، آیت نمبر:10)
101: آپ کو اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے دیدار سے مشرف فرمایا۔
(پارہ نمبر: 27، سورۃ النجم، آیت نمبر:17)
102: اور آپ نے اپنے رب کی بہت بڑی نشانیاں دیکھیں۔
(پارہ نمبر: 27، سورۃ النجم، آیت نمبر:18)
103: آپ ﷺ کی انگلی کے اشارے سے چاند دو ٹکڑے ہوا۔
(پارہ نمبر: 27، سورۃ القمر، آیت نمبر:1)
104: آپﷺ کو مقام محمود عطا کیا جائے گا۔
(پارہ نمبر: 15، سورۃ بنی اسرائیل، آیت نمبر:79)
105: آپ ﷺ کے لیے ہرا گلا لمحہ پہلے سے بہتر ہے۔
(پارہ نمبر: 30، سورۃ الضحی، آیت نمبر:4)
106: اللّٰہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنے حبیبِ مکرم رسولِ معظم ﷺ کی بارگاہ کے آداب سکھائے۔
(پارہ نمبر: 22، سورۃ الاحزاب ، آیت نمبر: 33، پارہ نمبر: 26، سورۃ الحجرات، آیت نمبر:1،5)
107: آپ ﷺ کی دعوت قبول کرنے سے زندگی ملتی ہے۔
(پارہ نمبر: 10، سورۃ الانفال، آیت نمبر:24)
108: بارگاہ رسالت میں آواز بلند کرنا بے ادبی ہے۔
(پارہ نمبر: 26، سورۃ الحجرات، آیت نمبر:2)
109: حضور ﷺ کو عام لوگوں کی طرح پکارنا گستاخی ہے۔
(پارہ نمبر: 22، سورۃ النور، آیت نمبر: 63)
110: آپ ﷺ کے بلانے پر فوراً حاضر ہونا ضروری ہے۔
(پارہ نمبر: 10، سورۃ الانفال، آیت نمبر:42)
111:حضور ﷺ کی بارگاہ سے رخصت ہو نے کے لیے اجازت ضروری ہے۔
(پارہ نمبر: 22، سورۃ النور، آیت نمبر: 62)
112: دعوت ختم ہونے پر وہاں سے جلد رخصت ہونا چاہیے۔
(پارہ نمبر: 22، سورۃ الاحزاب ، آیت نمبر: 53)
113: حضور آقا و مولیٰ ﷺ کی تعظیم و تو قیر واجب ہے۔
(پارہ نمبر: 26، سورۃ الفتح، آیت نمبر:9)
114: حضور نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں گستاخی کفر ہے۔
(پارہ نمبر: 24، سورۃ التوبۃ، آیت نمبر: 74)
115: حضور ﷺ کو اپنی مثل بشر کہنا کافروں کا طریقہ ہے۔
(پارہ نمبر: 17، سورۃ الانبیاء، آیت نمبر:3)

