Jamal e Mustafa

Total Pages: 118

Page 91 of 118

36: آپ کے میلاد پر اللّٰہ تعالیٰ نے خوشی منانے کا حکم دیا۔
(پارہ نمبر: 11، سورۃ  یونس، آیت نمبر:58)

37: آقا و مولیٰ شریعت کے احکام کے شارح ہیں۔
(پارہ نمبر: 14، سورۃ  النحل، آیت نمبر:44)

38: آپ پاک چیزیں حلال اور گندی چیزیں حرام فرماتے ہیں۔
(پارہ نمبر: 9، سورۃ الاعراف، آیت نمبر:157)

39: آپ بوجھ اور گلے کے پھندے سے نجات دلاتے ہیں۔
(پارہ نمبر: 9، سورۃ الاعراف، آیت نمبر:157)

40: آپ اندھیروں سے اجالے کی طرف لے جاتے ہیں۔
(پارہ نمبر: 13، سورۃ ابراھیم، آیت نمبر:1)

41: آپ لوگوں کو سیدھی راہ کی ہدایت دیتے ہیں۔
(پارہ نمبر: 13، سورۃ ابراھیم، آیت نمبر:1)

42: حضور اکرم لوگوں کو کتاب و حکمت سکھاتے ہیں۔
(پارہ نمبر: 1، سورۃ  البقرۃ، آیت نمبر: 151)

43: آپ لوگوں کو پاک کرتے ہیں۔
(پارہ نمبر: 1، سورۃ  البقرۃ، آیت نمبر: 151) ، (پارہ نمبر: 25، سورۃ   الشوری ، آیت نمبر:52)

44: آقا کریم کو حلال و حرام کا اختیار دیا گیا۔
(پارہ نمبر: 9، سورۃ الاعراف، آیت نمبر:157)

45: آقا و مولیٰ کے فیصلے کے بعد کسی کا کوئی اختیار باقی نہیں رہتا۔
(پارہ نمبر: 22، سورۃ الاحزاب ، آیت نمبر: 36)

46: پہلے حضور کی بارگاہ میں کچھ عرض کرنے سے قبل صدقہ ضروری تھا۔
(پارہ نمبر: 28، سورۃ المجادلۃ ، آیت نمبر: 12)

47: اللّٰہ تعالیٰ نے حضور کو نرم دل اور مہربان بنایا ہے۔
(پارہ نمبر: 4، سورۃ  آل عمران ، آیت نمبر:159)

48: رب تعالیٰ نے آپ کو مشقت اٹھانے سے منع فرما دیا۔
(پارہ نمبر: 16، سورۃ   طہ، آیت نمبر: 2)

49: آپ پر اُتارا گیا قرآن بے مثل ہے۔
(پارہ نمبر: 1، سورۃ  البقرۃ، آیت نمبر: 128)

50: آپ کی ازواج مطہرات بھی بے مثل ہیں۔
(پارہ نمبر: 22، سورۃ الاحزاب ، آیت نمبر: 32)

51: حضور کی ازواج مومنوں کی مائیں ہیں۔
(پارہ نمبر: 22، سورۃ النور، آیت نمبر: 11)

52: آپ کی زوجہ مطہرہ کی پاکی اللّٰہ تعالیٰ نے بیان فرمائی۔
پارہ نمبر: 18، سورۃ النور، آیت نمبر:12)

53: نزول قرآن سے قبل بھی آپ کی زوجہ مطہرہ کے متعلق بدگمانی حرام ہے۔
(پارہ نمبر: 18، سورۃ النور، آیت نمبر:18)

54: نبی کریم کے آبا ء واجداد مومن ہیں۔
(پارہ نمبر: 26، سورۃ الشعراء، آیت نمبر:219)

55: رسولِ معظم کے اہل بیت اطہار پاک ہیں۔
(پارہ نمبر: 22، سورۃ الاحزاب ، آیت نمبر: 33)

56: سرکارِ دو عالم کے صحابہ کرام علیہم الرضوان سے اللّٰہ تعالیٰ راضی ہے۔
(پارہ نمبر: 24، سورۃ  التوبۃ، آیت نمبر: 100)

57: محشر میں آپ کو اور مومنوں کو رسوا نہ کیا جائے گا۔
(پارہ نمبر: 28، سورۃ   التحریم، آیت نمبر:7)

58: حضور ﷺ  کو کفار کے جھٹلانے سے جو صدمہ ہوا اسے دور فرمایا گیا۔
(پارہ نمبر: 7، سورۃ الانعام ، آیت نمبر:33)

59: اللّٰہ تعالیٰ نے کفار کے طعنوں کے جواب میں نبی کریم کی دلجوئی فرمائی۔
(پارہ نمبر: 26، سورۃ الشعراء، آیت نمبر:3، پارہ نمبر: 15، سورۃ الکہف، آیت نمبر:6، پارہ نمبر: 13، سورۃ  الحجر، آیت نمبر:97، پارہ نمبر: 27، سورۃ الذریت ، آیت نمبر:56)

60: رحمت عالم ﷺ  کا مذاق اڑانے والوں کے لیے اللّٰہ تعالیٰ کافی ہے۔
(پارہ نمبر: 13، سورۃ  الحجر، آیت نمبر:95)

61: اللّٰہ تعالیٰ نے آپ ﷺ   کے لیے روشن فتح فرمادی۔
(خزئن العرفان، پارہ نمبر: 26، سورۃ  الفتح، آیت نمبر:1)

62: آپ کی بعثت اس لیے ہے کہ دین حق سب ادیان پر غالب ہو۔
(خزئن العرفان، پارہ نمبر: 26، سورۃ  الفتح، آیت نمبر:28)

63: اہل کتاب آپ کے رسول ہونے کو اپنی اولاد کی طرح پہچانتے تھے۔
(پارہ،  سورۃ الانعام ، آیت نمبر:20)
64: اللّٰہ تعالیٰ نے دین کے معاملے میں آپ کی امت پر کوئی تنگی نہیں رکھی۔
(پارہ نمبر: 17، سورۃ الحج ، آیت نمبر:78-پارہ نمبر: 6، سورۃ  المائدۃ، آیت نمبر:6- پارہ نمبر: 1، سورۃ البقرۃ،  آیت نمبر:185)

65: آپ کی امت کو تمام انبیاء کرام علیہم السلام پر ایمان لانے کا اعزاز ملا۔
(پارہ نمبر: 1، سورۃ البقرۃ ، آیت نمبر:285)

66: آپ کی امت سابقہ امتوں پر گواہ ہوگی اور حضور ﷺ  ان پر گواہ ہوں گے۔
(پارہ نمبر: 1، سورۃ البقرۃ ، آیت نمبر:163)

67: آپ کی امت کے لیے دین کا مل اور نعمت کو پورا فرما دیا گیا۔
(پارہ نمبر: 6، سورۃ  المائدۃ، آیت نمبر:3)

68: اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کے دین کی حفاظت اپنے ذمۂ کرم پر لی ہے۔
(پارہ نمبر: 13، سورۃ  الحجر، آیت نمبر:9)

69: حضورِ اقدس ﷺ  تمام گناہوں اور خطاؤں سے معصوم ہیں۔
(پارہ نمبر: 13، سورۃ  الحجر، آیت نمبر:95)

70: اللّٰہ تعالیٰ نے رسولِ معظم ﷺ  کا اسم گرامی اپنے نام کے ساتھ ذکر فرمایا اور آپ ﷺ  کی اطاعت فرض کی۔
(پارہ نمبر: 27، سورۃ النجم، آیت نمبر:3-   پارہ نمبر:26، سورۃ محمد، آیت نمبر:33)

71: اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کریم ﷺ  کی دلجوئی کی خاطر قسمیں ارشاد فرمائیں۔
(پارہ نمبر: 27، سورۃ النجم، آیت نمبر:1، پارہ نمبر: 30، سورۃ الضحی، آیت نمبر13، پارہ نمبر: 22، سورۃ یس، آیت نمبر1، پارہ نمبر: 26، سورۃ ق، آیت نمبر1)

72: حضور نبی کریم ﷺ  اللّٰہ تعالیٰ کی نگہد اشت میں ہیں۔
(پارہ نمبر:27، سورۃ الطور، آیت نمبر:48)

73: آپ کی ظاہری بھول سے پہلے ہی آپ کو معافی کا مثردہ سنا دیا۔
(پارہ نمبر: 24، سورۃ  التوبۃ، آیت نمبر: 63)

Share:
keyboard_arrow_up