36: آپ ﷺ کے میلاد پر اللّٰہ تعالیٰ نے خوشی منانے کا حکم دیا۔
(پارہ نمبر: 11، سورۃ یونس، آیت نمبر:58)
37: آقا و مولیٰ ﷺ شریعت کے احکام کے شارح ہیں۔
(پارہ نمبر: 14، سورۃ النحل، آیت نمبر:44)
38: آپ پاک چیزیں حلال اور گندی چیزیں حرام فرماتے ہیں۔
(پارہ نمبر: 9، سورۃ الاعراف، آیت نمبر:157)
39: آپ بوجھ اور گلے کے پھندے سے نجات دلاتے ہیں۔
(پارہ نمبر: 9، سورۃ الاعراف، آیت نمبر:157)
40: آپ اندھیروں سے اجالے کی طرف لے جاتے ہیں۔
(پارہ نمبر: 13، سورۃ ابراھیم، آیت نمبر:1)
41: آپ ﷺ لوگوں کو سیدھی راہ کی ہدایت دیتے ہیں۔
(پارہ نمبر: 13، سورۃ ابراھیم، آیت نمبر:1)
42: حضور اکرم ﷺلوگوں کو کتاب و حکمت سکھاتے ہیں۔
(پارہ نمبر: 1، سورۃ البقرۃ، آیت نمبر: 151)
43: آپ ﷺ لوگوں کو پاک کرتے ہیں۔
(پارہ نمبر: 1، سورۃ البقرۃ، آیت نمبر: 151) ، (پارہ نمبر: 25، سورۃ الشوری ، آیت نمبر:52)
44: آقا کریم ﷺ کو حلال و حرام کا اختیار دیا گیا۔
(پارہ نمبر: 9، سورۃ الاعراف، آیت نمبر:157)
45: آقا و مولیٰ ﷺکے فیصلے کے بعد کسی کا کوئی اختیار باقی نہیں رہتا۔
(پارہ نمبر: 22، سورۃ الاحزاب ، آیت نمبر: 36)
46: پہلے حضور ﷺکی بارگاہ میں کچھ عرض کرنے سے قبل صدقہ ضروری تھا۔
(پارہ نمبر: 28، سورۃ المجادلۃ ، آیت نمبر: 12)
47: اللّٰہ تعالیٰ نے حضور ﷺکو نرم دل اور مہربان بنایا ہے۔
(پارہ نمبر: 4، سورۃ آل عمران ، آیت نمبر:159)
48: رب تعالیٰ نے آپ کو مشقت اٹھانے سے منع فرما دیا۔
(پارہ نمبر: 16، سورۃ طہ، آیت نمبر: 2)
49: آپ ﷺ پر اُتارا گیا قرآن بے مثل ہے۔
(پارہ نمبر: 1، سورۃ البقرۃ، آیت نمبر: 128)
50: آپ ﷺ کی ازواج مطہرات بھی بے مثل ہیں۔
(پارہ نمبر: 22، سورۃ الاحزاب ، آیت نمبر: 32)
51: حضور ﷺ کی ازواج مومنوں کی مائیں ہیں۔
(پارہ نمبر: 22، سورۃ النور، آیت نمبر: 11)
52: آپ ﷺ کی زوجہ مطہرہ کی پاکی اللّٰہ تعالیٰ نے بیان فرمائی۔
پارہ نمبر: 18، سورۃ النور، آیت نمبر:12)
53: نزول قرآن سے قبل بھی آپ کی زوجہ مطہرہ کے متعلق بدگمانی حرام ہے۔
(پارہ نمبر: 18، سورۃ النور، آیت نمبر:18)
54: نبی کریم ﷺ کے آبا ء واجداد مومن ہیں۔
(پارہ نمبر: 26، سورۃ الشعراء، آیت نمبر:219)
55: رسولِ معظم ﷺ کے اہل بیت اطہار پاک ہیں۔
(پارہ نمبر: 22، سورۃ الاحزاب ، آیت نمبر: 33)
56: سرکارِ دو عالم ﷺ کے صحابہ کرام علیہم الرضوان سے اللّٰہ تعالیٰ راضی ہے۔
(پارہ نمبر: 24، سورۃ التوبۃ، آیت نمبر: 100)
57: محشر میں آپ ﷺ کو اور مومنوں کو رسوا نہ کیا جائے گا۔
(پارہ نمبر: 28، سورۃ التحریم، آیت نمبر:7)
58: حضور ﷺ کو کفار کے جھٹلانے سے جو صدمہ ہوا اسے دور فرمایا گیا۔
(پارہ نمبر: 7، سورۃ الانعام ، آیت نمبر:33)
59: اللّٰہ تعالیٰ نے کفار کے طعنوں کے جواب میں نبی کریم ﷺ کی دلجوئی فرمائی۔
(پارہ نمبر: 26، سورۃ الشعراء، آیت نمبر:3، پارہ نمبر: 15، سورۃ الکہف، آیت نمبر:6، پارہ نمبر: 13، سورۃ الحجر، آیت نمبر:97، پارہ نمبر: 27، سورۃ الذریت ، آیت نمبر:56)
60: رحمت عالم ﷺ کا مذاق اڑانے والوں کے لیے اللّٰہ تعالیٰ کافی ہے۔
(پارہ نمبر: 13، سورۃ الحجر، آیت نمبر:95)
61: اللّٰہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے لیے روشن فتح فرمادی۔
(خزئن العرفان، پارہ نمبر: 26، سورۃ الفتح، آیت نمبر:1)
62: آپ کی بعثت اس لیے ہے کہ دین حق سب ادیان پر غالب ہو۔
(خزئن العرفان، پارہ نمبر: 26، سورۃ الفتح، آیت نمبر:28)
63: اہل کتاب آپ کے رسول ہونے کو اپنی اولاد کی طرح پہچانتے تھے۔
(پارہ، سورۃ الانعام ، آیت نمبر:20)
64: اللّٰہ تعالیٰ نے دین کے معاملے میں آپ کی امت پر کوئی تنگی نہیں رکھی۔
(پارہ نمبر: 17، سورۃ الحج ، آیت نمبر:78-پارہ نمبر: 6، سورۃ المائدۃ، آیت نمبر:6- پارہ نمبر: 1، سورۃ البقرۃ، آیت نمبر:185)
65: آپ کی امت کو تمام انبیاء کرام علیہم السلام پر ایمان لانے کا اعزاز ملا۔
(پارہ نمبر: 1، سورۃ البقرۃ ، آیت نمبر:285)
66: آپ کی امت سابقہ امتوں پر گواہ ہوگی اور حضور ﷺ ان پر گواہ ہوں گے۔
(پارہ نمبر: 1، سورۃ البقرۃ ، آیت نمبر:163)
67: آپ کی امت کے لیے دین کا مل اور نعمت کو پورا فرما دیا گیا۔
(پارہ نمبر: 6، سورۃ المائدۃ، آیت نمبر:3)
68: اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کے دین کی حفاظت اپنے ذمۂ کرم پر لی ہے۔
(پارہ نمبر: 13، سورۃ الحجر، آیت نمبر:9)
69: حضورِ اقدس ﷺ تمام گناہوں اور خطاؤں سے معصوم ہیں۔
(پارہ نمبر: 13، سورۃ الحجر، آیت نمبر:95)
70: اللّٰہ تعالیٰ نے رسولِ معظم ﷺ کا اسم گرامی اپنے نام کے ساتھ ذکر فرمایا اور آپ ﷺ کی اطاعت فرض کی۔
(پارہ نمبر: 27، سورۃ النجم، آیت نمبر:3- پارہ نمبر:26، سورۃ محمد، آیت نمبر:33)
71: اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کریم ﷺ کی دلجوئی کی خاطر قسمیں ارشاد فرمائیں۔
(پارہ نمبر: 27، سورۃ النجم، آیت نمبر:1، پارہ نمبر: 30، سورۃ الضحی، آیت نمبر13، پارہ نمبر: 22، سورۃ یس، آیت نمبر1، پارہ نمبر: 26، سورۃ ق، آیت نمبر1)
72: حضور نبی کریم ﷺ اللّٰہ تعالیٰ کی نگہد اشت میں ہیں۔
(پارہ نمبر:27، سورۃ الطور، آیت نمبر:48)
73: آپ کی ظاہری بھول سے پہلے ہی آپ کو معافی کا مثردہ سنا دیا۔
(پارہ نمبر: 24، سورۃ التوبۃ، آیت نمبر: 63)

