باب پنجم
خصائصِ مصطفیٰ ﷺ
قرآن کی روشنی میں
خصائصِ مصطفیٰ ﷺ قرآن کی روشنی میں:
1: سیدنا محمد ﷺ اللّٰہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔
(پارہ نمبر: 26، سورۃ الفتح ، آیت نمبر:29)
2: سیدنا محمد ﷺ مصطفیٰ ہیں۔
(پارہ نمبر: 4، سورۃ آل عمران ، آیت نمبر:33)
3: سیدنا محمدﷺمجتبیٰ ہیں۔
(پارہ نمبر: 4، سورۃ آل عمران ، آیت نمبر:179)
4: سیدنا محمد ﷺ مرتضیٰ ہیں۔
(پارہ نمبر: 29، سورۃ الجن، آیت نمبر: 27)
5: سیدنا محمد ﷺ عبدِ کامل ہیں۔
(پارہ نمبر: 15، سورۃ بنی اسرائیل، آیت نمبر:1)
6: سیدنا محمد ﷺ نبی اُمّی ہیں۔
(پارہ نمبر: 9، سورۃ الاعراف، آیت نمبر:157)
7: سیدنا محمد ﷺ نور ہیں۔
(پارہ نمبر: 6، سورۃ المائدۃ، آیت نمبر:15)
8: سیدنا محمد ﷺ برھان ہیں۔
(پارہ نمبر: 6، سورۃ النساء ، آیت نمبر:174)
9: سیدنا محمد ﷺ خاتم النبین ہیں۔
(پارہ نمبر: 22، سورۃ الاحزاب ، آیت نمبر: 40)
10: سیدنا محمد ﷺ شھید(گواہ)ہیں۔
(پارہ نمبر: 1، سورۃ البقرۃ ، آیت نمبر:6)
11: سیدنا محمد ﷺ کا اسم گرامی احمد بھی ہے۔
(پارہ نمبر: 28، سورۃ الصف، آیت نمبر:4)
12: سیدنا محمد ﷺ شاھد (حاضر و ناظر)ہیں۔
(پارہ نمبر: 22، سورۃ الاحزاب ، آیت نمبر: 45 ، (پارہ نمبر: 26، سورۃ الفتح ، آیت نمبر:8)، (پارہ نمبر: 29، سورۃ المزمل، آیت نمبر:8)
13: سیدنا محمد ﷺ بشیر اور مبشر (خوشخبری دینے والے) ہیں۔
(پارہ نمبر: 1، سورۃ البقرۃ ، آیت نمبر:119) ، (پارہ نمبر: 26، سورۃ الفتح ، آیت نمبر:8)
14: سیدنا محمد ﷺ جہانوں کے لیے نذیر (ڈر سنانے والے)ہیں۔
(پارہ نمبر: 19، سورۃ الفرقان، آیت نمبر:1)
15: سیدنا محمدﷺ سراج منیر(چمکا دینے والے آفتاب)ہیں۔
(پارہ نمبر: 22، سورۃ الاحزاب ، آیت نمبر: 45)
16: سیدنا محمدﷺداعی اِلی اللّٰہ(اللّٰہ تعالیٰ کی طرف بلانے والے) ہیں۔
(پارہ نمبر: 22، سورۃ الاحزاب ، آیت نمبر: 45)
17: سیدنا محمد ﷺ کو سارے جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا گیا۔
(پارہ نمبر:17، سورۃ الانبیاء، آیت نمبر: 107)
18: اللّٰہ نے اپنے اسمائے حسنیٰ رؤف و رحیم اپنے حبیب ﷺ کو عطا فرمائے۔
(پارہ نمبر: 22، سورۃ یس، آیت نمبر: 1)
19: رسول معظم ﷺ کو یٰس(اے سردار یا اے انسان کا مل)کہہ کر خطاب فرمایا۔
(پارہ نمبر: 24، سورۃ التوبۃ، آیت نمبر: 24)
20: جانِ کائنات ﷺ کو طٰہٰ(اے پاکیزہ راہنما)کہہ کر بھی خطاب فرمایا۔
(پارہ نمبر: 16، سورۃ طہ، آیت نمبر: 1)
21: حضور ﷺ کو یا ایھا المزمل(اے چادرلپیٹنے والے)کہہ کر خطاب فرمایا۔
(پارہ نمبر: 29، سورۃ المزمل، آیت نمبر: 1)
22: آپ کو یا ایھا المدثر (اے کمبل اوڑھنے والے)کہہ کر خطاب فرمایا گیا۔
(پارہ نمبر: 29، سورۃ مدثر، آیت نمبر: 1)
23: رسولِ معظم حضورِ اکرم ﷺ سب سے پہلے مسلمان ہیں۔
(پارہ نمبر: 7، سورۃ الانعام ، آیت نمبر:163)
24: نبی کریم ﷺ کی زندگی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے۔
(پارہ نمبر: 22، سورۃ الاحزاب ، آیت نمبر: 21)
25: آقا و مولیٰ رحمتِ عالم ﷺ کے اخلاق عظیم ہیں۔
(پارہ نمبر: 29، سورۃ القلم ، آیت نمبر: 4)
26: اللّٰہ تعالیٰ پر ایمان لانے کے لیے آپ پر ایمان لازم ہے۔
(پارہ نمبر: 6، سورۃ النساء ، آیت نمبر:32)
27: خدا کا محبوب بننے کے لیے آپ کی اتباع ضروری ہے۔
(پارہ نمبر: 4، سورۃ آل عمران ، آیت نمبر:31)
28: اللّٰہ تعالیٰ آپ ﷺ کی رسالت کا گواہ ہے۔
(پارہ نمبر: 26، سورۃ الفتح ، آیت نمبر:27)
29: اللّٰہ تعالیٰ اور تمام فرشتے بھی آپ ﷺ کے گواہ ہیں۔
(پارہ نمبر: 6، سورۃ النساء ، آیت نمبر:166)
30: حضورِ اکرم ﷺ باذنِ الٰہی شریعت کے مالک ہیں۔
(پارہ نمبر: 28، سورۃ الحشر ، آیت نمبر:7)
31: آقا کریم ﷺ مومنوں پر اللّٰہ تعالیٰ کا احسان عظیم ہیں۔
(پارہ نمبر: 4، سورۃ آل عمران ، آیت نمبر:162)
32: آپ ﷺ سچے دین اور ہدایت کے ساتھ مبعوث فرمائے گئے۔
(پارہ نمبر: 26، سورۃ الفتح ، آیت نمبر:100)
33: اللّٰہ تعالیٰ اپنی معرفت آپ ﷺ کے وسیلے سے عطا فرماتا ہے۔
(پارہ نمبر: 30، سورۃ الاخلاص ، آیت نمبر:1)
34: آپ کی بعثت کے لیے سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے دعا فرمائی۔
(پارہ نمبر: 1، سورۃ البقرۃ، آیت نمبر: 129)
35: حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے آپ ﷺ کی آمد کی بشارت دی۔
(پارہ نمبر: 28، سورۃ الصف، آیت نمبر:6)

