حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سونے سے پہلے وضو فرماتے تھے اور اپنے اہلِ بیت سے گھریلو اُمور یا دینی معاملات کے متعلق گفتگو فرماتے تھے۔ آپ سو نے سے پہلے دوسرا تہبند پہنتے اور کرتا مبارک اتار دیتے پھر بستر کو کسی کپڑے سے جھاڑ کرآرام فرماتے۔ آپ را ت کے ابتدائی حصہ میں آرام فرماتے اور پھر بیدار ہو کر مسواک وو ضو کرکے عبادت فرماتے۔()
آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی نیند اعتدال کے مطابق تھی۔آپ نہ تو ضرورت سے زائد سو تے اور نہ ہی ضرورت سے زائد بیدار رہتے، بلکہ قیام بھی فرماتے اور نیند بھی فرماتے جیسے کہ نوافل و عبادت میں حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی عادت مبارکہ تھی۔ آپ کبھی رات میں آرام فرماتے پھر بیدار ہو کر نماز ادا فرماتے پھر سو جاتے، اسی طرح آپ چند بارسوتے اور بیدار ہو تے۔()
مواہبُ الدنیہ میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نماز عشاء سے فارغ ہو کر اول شب میں سو جاتے تھے پھر نصف شب کو بیدا ر ہو کر مسواک و وضو کے بعد عبادت فرماتے۔ آپ دائیں کروٹ پر سوتے اور جب تک آنکھ نہ لگ جاتی اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے رہتے۔ آپ کبھی اتناکھانا تناول نہ فرماتے کہ سستی کا غلبہ ہو۔ آپ ازواج مطہرات کو حکم فرماتے کہ وہ سونے سے پہلے 33بار الحمد للہ ، 33بار سبحان اللہ اور 33بار اللہ اکبر پڑھیں۔()
آقا کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمہر را ت سو نے سے قبل سر مہ لگاتے تھے، تین بار دائیں اور تین بار بائیں آنکھ میں۔ پھر آپ بستر مبارک پر دائیں ہتھیلی کو دائیں رخسار مبارک کے نیچے رکھتے۔ ()
آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمہر رات کو سورۂ اخلاص، سورۃ الفلق، اور سورۃ الناس پڑھ کر اپنے دونوں ہاتھوں میں پھو نک مارتے اور پھر انہیں اپنے جسم اطہر پر جہاں تک ممکن ہو تا پھیر تے اور ابتدا سرا قدس، چہرۂ انور اورجسم اطہر کے سامنے والے حصہ سے فرماتے اور تین بار یہ عمل فرماتے۔()
سیدِ عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ہر رات سونے سے قبل سورہ الم سجدہ اورسورہ الملک تلاوت فرماتے تھے۔()
حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم جب حالتِ جنابت میں سونے کا ارادہ فرماتے تو استنجا و طہارت کے بعد وضو کرکے سو جاتے۔()
آپ پیٹ کے بل یعنی اوندھا لیٹنے والے کو سخت نا پسند فرماتے تھے۔ ایک بار آپ نے ارشاد فرمایا کہ اس طرح لیٹنا جہنمیوں کا طریقہ ہے یعنی اس طرح کا فر لیٹتے ہیں یا جہنم میں جہنمی اس طرح لیٹیں گے۔()
آپ کا ارشادِ گرامی ہے، جو عصر کے بعد سوئے اور اس کی عقل جاتی رہے تو وہ اپنے آپ ہی کو ملامت کرے۔()
رحمت عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے اس چھت پر سونے سے منع فرمایا ہے جس پر کوئی روک یا منڈیر نہ ہو۔()
جب گرمیوں کا موسم شروع ہو تا تو حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمجمعہ کی رات سے ہی چھت پر آرام فرمانا شروع کرتے اور جب سردیاں شروع ہوتیں تو جمعہ کی رات سے ہی چھت پر سونا ترک فرماکے مکان میں آرام فرماتے۔
نورمجسم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اگر فجر سے کچھ دیر قبل آرام فرماتے تو دایاں بازو کھڑا کرکے اس کی ہتھیلی پر سر مبارک رکھ لیتے اور آرام فرماتے تاکہ نماز کے لیے بیدار ہو نے میں آسانی ہو۔()
حضورصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمجب نیند فرماتے تو آپ کے سانس کی آواز سنائی دیا کرتی تھی۔()
نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمجب بستر پر تشریف لے جاتے تو یہ دعا مانگتے،
اَللّٰھُمَّ بِاسْمِکَ اَمُوْتُ وَاَحْیَا
’’الٰہی !ہم تیرے ہی نام سے جیتے ہیں اور ہمیں تیرے ہی نام پہ موت آئے‘‘۔
Page 89 of 120

