21...آدابِ استراحت:
مالکِ کونین ﷺ کا بستر مبارک چمڑے کا تھا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔(بخاری، مسلم)
(بخاری، ج20،ص91،حدیث نمبر:5975، مسلم، ج1،ص42،حدیث نمبر:13)
کبھی آپ چٹائی پر آرام فرماتے اور کبھی ٹاٹ پر استراحت فرماتے جسے دوہرا کر کے بچھایا گیا ہوتا۔
(شمائل ترمذی،ص269)
آپ کا تکیہ مبارک ٹاٹ کا تھا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔ بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ اگر آپ کے لیے بستر بچھادیا جاتا تو اس پر آرام فرماتے ورنہ زمین پر ہی استراحت فرما لیتے۔ (مدارج النبوۃ،ج 1،ص562) (مدارج)
آپ نے چارپائی پر بھی آرام فرمایاہے۔ (مدارج النبوۃ،ج 1،ص563)
حضور ﷺ سونے سے پہلے وضو فرماتے تھے اور اپنے اہلِ بیت سے گھریلو اُمور یا دینی معاملات کے متعلق گفتگو فرماتے تھے۔ آپ سو نے سے پہلے دوسرا تہبند پہنتے اور کرتا مبارک اتار دیتے پھر بستر کو کسی کپڑے سے جھاڑ کر آرام فرماتے۔ آپ رات کے ابتدائی حصہ میں آرام فرماتے اور پھر بیدار ہو کر مسواک و وضو کر کے عبادت فرماتے۔ (زاد المعاد، ج1، ص126)
آقا و مولیٰ ﷺ کی نیند اعتدال کے مطابق تھی۔ آپ نہ تو ضرورت سے زائد سو تے اور نہ ہی ضرورت سے زائد بیدار رہتے، بلکہ قیام بھی فرماتے اور نیند بھی فرماتے جیسے کہ نوافل و عبادت میں حضور ﷺ کی عادت مبارکہ تھی۔ آپ کبھی رات میں آرام فرماتے پھر بیدار ہوکر نماز ادا فرماتے پھر سوجاتے، اسی طرح آپ چند بار سوتے اور بیدار ہو تے۔ (مدارج النبوۃ،ج 1،ص567)
مواہبُ الدنیہ میں ہے کہ:
حضور ﷺ نماز عشاء سے فارغ ہو کر اول شب میں سوجاتے تھے پھر نصف شب کو بیدار ہو کر مسواک و وضو کے بعد عبادت فرماتے۔ آپ دائیں کروٹ پر سوتے اور جب تک آنکھ نہ لگ جاتی اللّٰہ تعالیٰ کا ذکر کرتے رہتے۔ آپ کبھی اتنا کھانا تناول نہ فرماتے کہ سستی کا غلبہ ہو۔ آپ ازواج مطہرات کو حکم فرماتے کہ وہ سونے سے پہلے 33بار الحمد للّٰہ ، 33بار سبحان اللّٰہ اور 33بار اللّٰہ اکبر پڑھیں۔ (بخاری،ج 10، ج354،حدیث نمبر:2881)
آقا کریم ﷺ ہر را ت سو نے سے قبل سرمہ لگاتے تھے، تین بار دائیں اور تین بار بائیں آنکھ میں۔ پھر آپ بستر مبارک پر دائیں ہتھیلی کو دائیں رخسار مبارک کے نیچے رکھتے۔
(ابن ماجہ ،ج 10،ص322، حدیث نمبر:3490، شمائل ترمذی،ص64)
آقا و مولیٰ ﷺ ہر رات کو سورۂ اخلاص، سورۃ الفلق، اور سورۃ الناس پڑھ کر اپنے دونوں ہاتھوں میں پھونک مارتے اور پھر انہیں اپنے جسم اطہرپر جہاں تک ممکن ہوتا پھیر تے اور ابتدا سر اقدس، چہرۂ انور اور جسم اطہر کے سامنے والے حصہ سے فرماتے اور تین بار یہ عمل فرماتے۔ (بخاری، ج15،ص423،حدیث نمبر:4630)
سیدِ عالم ﷺ ہر رات سونے سے قبل سورہ الم سجدہ اور سورہ الملک تلاوت فرماتے تھے۔
(مسند احمد، ج29،ص181،حدیث نمبر:14132، ترمذی، ج10،ص128،حدیث نمبر:2817،)
حضور ﷺ جب حالتِ جنابت میں سونے کا ارادہ فرماتے تو استنجا و طہارت کے بعد وضو کر کے سو جاتے۔ (بخاری،ج 1، ص476،حدیث نمبر:277)
آپ پیٹ کے بل یعنی اوندھا لیٹنے والے کو سخت ناپسند فرماتے تھے۔
ایک بار آپ نے ارشاد فرمایا کہ:
اس طرح لیٹنا جہنمیوں کا طریقہ ہے یعنی اس طرح کافر لیٹتے ہیں یا جہنم میں جہنمی اس طرح لیٹیں گے۔
(سنن ابن ماجہ،ج 11، ص140،حدیث نمبر:3713)
آپ کا ارشادِ گرامی ہے،
جو عصر کے بعد سوئے اور اس کی عقل جاتی رہے تو وہ اپنے آپ ہی کو ملامت کرے۔
(بہار شریعت، حصہ دہم، ص438)
رحمت عالم ﷺ نے اس چھت پر سونے سے منع فرمایا ہے جس پر کوئی روک یا منڈیر نہ ہو۔
(ترمذی،ج 10،ص76،حدیث نمبر:2781)
جب گرمیوں کا موسم شروع ہو تا تو حضور ﷺ جمعہ کی رات سے ہی چھت پر آرام فرمانا شروع کرتے اور جب سردیاں شروع ہوتیں تو جمعہ کی رات سے ہی چھت پر سونا ترک فرما کے مکان میں آرام فرماتے۔
نور مجسم ﷺ اگر فجر سے کچھ دیر قبل آرام فرماتے تو دایاں بازو کھڑا کر کے اس کی ہتھیلی پر سر مبارک رکھ لیتے اور آرام فرماتے تاکہ نماز کے لیے بیدار ہو نے میں آسانی ہو۔ (مدارج النبوۃ، ج1،ص567)
حضور ﷺ جب نیند فرماتے تو آپ کے سانس کی آواز سنائی دیا کرتی تھی۔ (شمائل ترمذی،ص219)
نبی کریم ﷺ جب بستر پر تشریف لے جاتے تو یہ دعا مانگتے،
اَللّٰھُمَّ بِاسْمِکَ اَمُوْتُ وَاَحْیَا
’’الٰہی !ہم تیرے ہی نام سے جیتے ہیں اور ہمیں تیرے ہی نام پہ موت آئے‘‘۔
آپ ﷺ جب بیدار ہو تے تو فرماتے،
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَحْیَانَا بَعْدَ مَا اَمَاتَنَا وَاِلَیْہِ النُّشُوْر
’’تمام تعریفیں اللّٰہ تعالیٰ کے لیے ہیں جس نے ہمیں مارنےیعنی نیندکے بعد زندہ کیا اور ہمیں اسی طرف جانا ہے‘‘۔
(شمائل ترمذی،ص218)

