حضور اکرم ﷺ اکثر سر مبارک کو تیل لگاتے اور داڑھی اقدس میں کنگھی فرماتے اور آپ اکثر عمامہ مبارک کے نیچے ایک چھوٹا سا رومال رکھتے جو کہ تیل سے بھیگ جاتا (مگر عمامہ مبارک تیل سے آلودہ نہ ہوتا)۔
(شمائل ترمذی، ص51)
شیخ عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہٗ نے مدارج النبوۃ میں لباس مبارک کے بیان میں نعلین مبارک، موزے اور انگوٹھی مبارک کا بھی ذکر فرمایا ہے اس بارے میں بھی چند باتیں پیشِ خدمت ہیں۔
حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ:
حضور ﷺ کے نعلین مبارک میں دو تسمے تھے۔
(بخاری،ج 10،ص348،حدیث نمبر:2876)
تسمہ سے مراد وہ درمیانی تسمہ ہے جس میں انگلی یا انگوٹھا ڈالتے تھے۔ آپ کے نعلین پاک میں ایک باریک تلا ہوتا تھا، پچھلے حصہ میں ایک ایڑی ہوتی تھی اور اگلی جانب زبان کی طرح کچھ حصہ انگلیوں کے لیے آگے کو نکلا ہوتا تھا۔آپ ﷺ نے رنگے ہوئے چمڑے کے جوتے استعمال فرمائے ہیں۔ (الوفا) آپ نے نجاشی رحمۃ اللّٰہ علیہ کے بھیجے ہوئے سیاہ موزے پہنے ہیں۔ (شمائل ترمذی،ص80)
آقا و مولیٰ ﷺ جب نعلین مبارک پہنتے تو پہلے دایاں پہنتے اور جب اتارتے تو پہلے بایاں اتارتے۔
حضرت فضالہ بن عبید رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ:
حضور ﷺ نے ہمیں کبھی کبھی ننگے پاؤں رہنے کا حکم دیا ہے۔
(سنن ابی داؤد، ج2،ص290ِ، حدیث نمبر:557)
آپ نے پیوند لگے ہوئے نعلین شریف بھی پہنے ہیں۔ مدارج النبوۃ میں ہے کہ بعض علماء نے نعلین شریف کے فضائل و برکات پر رسائل تحریر کیے ہیں اور مواہب الدنیہ میں مجرب عمل لکھا ہے کہ:
مقام درد پر نعلین شریف کا نقشہ رکھنے سے درد دُور ہوجاتا ہے، اسے پاس رکھنے سے لوٹ مار سے حفاظت ہوتی ہے، شیطان کے مکر و فریب سے پناہ ملتی ہے، وضع حمل میں آسانی ہوتی ہے، حاسدوں کے شر سے نقصان نہیں پہنچتا اور سفر طے کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔ اس کی تعریف اور فضائل میں کئی قصیدے لکھے گئے ہیں۔ (مدارج النبوۃ، ج1، ص563)
حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ:
حضور ﷺ نے جب قیصر و کسریٰ اور نجاشی کو خطوط لکھنے کا ارادہ فرمایا تو کسی نے عرض کی کہ وہ لوگ بغیر مہر کے خط قبول نہیں کرتے۔ پھر آپ نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی جس پر تین سطروں میں محمد رسول اللّٰہ نقش تھا۔
(بخاری ،ج 18،ص22،حدیث نمبر:5427)
حضور ﷺ نے چاندی کی انگوٹھی دائیں ہاتھ میں پہنی، اس کا نگینہ حبشی ساخت کا تھا اور آپ نگینہ ہتھیلی کی جانب رکھتے تھے۔ بعض روایات میں بائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہننا وارد ہوا ہے۔ حضور ﷺ نے سونے کی انگوٹھی پہننے سے منع فرمایاہے۔
(بخاری، ج4،ص460،حدیث نمبر:1163، مسلم ، ج3،ص1635،حدیث نمبر:2066)
عام لوگوں کے لیے انگو ٹھی پہننے میں اختلاف ہے۔ بعض اسے مباح جبکہ بعض اسے مکروہ بتاتے ہیں۔
بہار شریعت میں دُرمختار اور ردُ المحتار کے حوالے سے مرقوم ہے کہ
’’مرد کو زیور پہننا مطلقاً حرام ہے،صرف چاندی کی ایک انگوٹھی جائز ہے جو وزن میں ایک مثقال یعنی ساڑھے چار ماشہ سے(ایک رتی)کم ہو(اور صرف ایک نگینہ والی ہو)‘‘۔ (مدارج النبوۃ، ج1،ص560)

