Jamal e Mustafa

Total Pages: 120

Page 88 of 120
حضور اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلماکثر سرمبارک کو تیل لگاتے اور داڑھی اقدس میں کنگھی فرماتے اور آپ اکثر عمامہ مبارک کے نیچے ایک چھو ٹا سارو مال رکھتے جو کہ تیل سے بھیگ جا تا (مگر عمامہ مبارک تیل سے آلو دہ نہ ہوتا)۔ ()
شیخ عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہٗ نے مدارج النبوۃ میں لباس مبارک کے بیان میں نعلین مبارک، موزے اور انگوٹھی مبارک کا بھی ذکر فرمایا ہے اس بارے میں بھی چند باتیں پیشِ خدمت ہیں۔
حضرت انسرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے نعلین مبارک میں دوتسمے تھے۔ ()
تسمہ سے مراد وہ درمیانی تسمہ ہے جس میں انگلی یا انگوٹھا ڈالتے تھے۔ آپ کے نعلین پاک میں ایک بار یک تلا ہوتا تھا، پچھلے حصہ میں ایک ایڑی ہوتی تھی اور اگلی جانب زبان کی طرح کچھ حصہ انگلیوں کے لیے آگے کو نکلا ہوتا تھا۔
آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے رنگے ہوئے چمڑے کے جوتے استعمال فرمائے ہیں۔ (الوفا) آپ نے نجاشی رحمۃ اللہ علیہ کے بھیجے ہوئے سیاہ موزے پہنے ہیں۔()
آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمجب نعلین مبارک پہنتے تو پہلے دایاں پہنتے اورجب اتارتے تو پہلے بایاں اتارتے۔ حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ہمیں کبھی کبھی ننگے پاؤں رہنے کا حکم دیا ہے۔()
آپ نے پیوند لگے ہوئے نعلین شریف بھی پہنے ہیں۔
مدارج النبوۃ میں ہے کہ بعض علماء نے نعلین شریف کے فضائل و بر کات پر رسائل تحر یر کیے ہیں اور مواہب الدنیہ میں مجرب عمل لکھا ہے کہ مقام درد پر نعلین شریف کا نقشہ رکھنے سے درد دُور ہو جاتا ہے، اسے پاس رکھنے سے لوٹ مار سے حفاظت ہوتی ہے، شیطان کے مکرو فریب سے پناہ ملتی ہے، وضع حمل میں آسانی ہوتی ہے، حاسدوں کے شر سے نقصان نہیں پہنچتا اور سفر طے کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔ اس کی تعریف اور فضائل میں کئی قصیدے لکھے گئے ہیں۔()
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے جب قیصر و کسریٰ اورنجاشی کو خطوط لکھنے کا ارادہ فرمایا تو کسی نے عرض کی کہ وہ لوگ بغیر مہر کے خط قبول نہیں کرتے۔پھر آپ نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی جس پر تین سطروں میں محمد رسول اللہ نقش تھا۔()
حضورصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے چاندی کی انگوٹھی دائیں ہاتھ میں پہنی، اس کا نگینہ حبشی سا خت کا تھا اور آپ نگینہ ہتھیلی کی جانب رکھتے تھے۔بعض روایات میں بائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہننا وارد ہوا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے سونے کی انگوٹھی پہننے سے منع فرمایاہے۔()
عام لوگوں کے لیے انگو ٹھی پہننے میں اختلاف ہے۔ بعض اسے مباح جبکہ بعض اسے مکر وہ بتاتے ہیں۔بہار شریعت میں دُرمختار اور ردُ المحتار کے حوالے سے مرقوم ہے کہ ’’مرد کو زیور پہننا مطلقاًحرام ہے، صر ف چاندی کی ایک انگوٹھی جائز ہے جو وزن میں ایک مثقال یعنی ساڑھے چار ماشہ سے(ایک رتی)کم ہو(اور صرف ایک نگینہ والی ہو)‘‘۔ ()
21...آدابِ استر احت:
مالکِ کو نین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا بستر مبارک چمڑے کا تھا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔ () (بخاری، مسلم)
کبھی آپ چٹائی پر آرام فرماتے اور کبھی ٹا ٹ پر استر احت فرماتے جسے دوہرا کر کے بچھایا گیا ہوتا۔ ()
آپ کا تکیہ مبارک ٹاٹ کا تھا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔ بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ اگر آپ کے لیے بستر بچھادیا جاتا تو اس پر آرام فرماتے ورنہ زمین پر ہی استر احت فرمالیتے۔() (مدارج)آپ نے چارپائی پر بھی آرام فرمایاہے۔()
Share:
keyboard_arrow_up