Jamal e Mustafa

Total Pages: 120

Page 87 of 120
حضرت جابررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور عیدین اور جمعہ میں سرخ دھاری دار چادر اور تہبند زیب تن فرمایا کرتے تھے۔()
آپ نیا لباس پہن کر دو رکعت نفل ادا فرماتے اور عموماًنیا لباس جمعہ کو پہننا شروع فرماتے۔ صحابہ کرام علیہم الر ضوان عید پر بچوں کو نئے رنگین کپڑے اوربچیوں کو زیورات پہناتے۔()
نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکو لباس میں سب سے زیادہ کرتا پسند تھا۔()
اس کرتے میں سینے کے مقام پر جیب تھی۔()
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو کپڑوں میں یمنی منقش چادر بہت پسند تھی۔ ()
آپ نے دو سبز چادریں بھی اوڑھی ہیں۔()
آپ صبح کے وقت باہر تشریف لے جاتے ہو ئے کا لی چادر اوڑھا کرتے۔()
آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکو سفید رنگ بہت پسند تھا۔آپ کا ارشادِگرامی ہے ، تم سفید کپڑے ضرور پہنو کہ یہ بہترین لباس ہے۔ زندگی کی حالت میں بھی سفید کپڑے پہنو اور مردوں کو بھی سفید کپڑوں میں دفن کرو۔()
حضرت حذیفہرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورآقا کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے میری یا اپنی پنڈلی کا گوشت پکڑ کر فرمایا، یہ تہبند کی جگہ ہے اگر یہ نہیں تو کچھ نیچے تک اور اگر یہ بھی نہیں توتہبند کو ٹخنوں پر ہرگز نہیں ہو نا چاہیے۔()
آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا ارشاد ہے، جو شخص نیا لباس پہن کر یہ دعا پڑھے اور پرانا کپڑا راہِ خدا میں دے دے تو وہ اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں رہتا ہے۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ کَسَانِیْ مَا اُوَارِیْ بِہٖ عَوْرَتِیْ وَاَتَجَمَّلُ بِہٖ فِیْ حَیَاتِیْ
’’اللہ تعالیٰ کا شکر ہے جس نے مجھے یہ لباس پہنایا جس سے میں اپنا ستر چھپاتا ہوں اور زندگی میں اس سے خوبصورتی حاصل کرتا ہوں‘‘۔()
فتاویٰ عالمگیری میں ہے کہ’’پا جامہ(شلوار)پہننا سنت ہے کیو نکہ اس میں بہت زیادہ ستر پوشی ہے‘‘۔صدرالشر یعہ مولانا امجد علی قادری فرماتے ہیں، اس کو سنت اس لیے کہا گیا ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے اسے پسند فرمایا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پہنا۔خود حضور اقدس صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم تہبند پہنا کرتے تھے، آپ سے پا جامہ یا شلوار پہننا ثابت نہیں۔()
شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ نے بعض محدثین کا یہ قول نقل کیا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے اسے پہنا اور آپ کی اجازت سے صحابہ کرام نے بھی پہنا۔()
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے پاس تین ٹو پیاں تھیں۔ ایک سفید رنگ والی مصری ٹو پی، دوسری یمنی چادروں کے کپڑے سے بنی ہوئی اور تیسری کانوں والی ٹوپی، جس کو آپ سفر میں پہنا کرتے تھے۔()
آپ کی ٹوپی سرا قدس سے چمٹی ہوئی ہوتی یعنی بلند نہ تھی۔ آپ اس پر عمامہ شریف باندھا کرتے۔()
آپ کا چھوٹا عمامہ سا ت ہاتھ اور بڑا عمامہ بارہ ہاتھ کا تھا۔ ایک ہاتھ سے مراد بیچ کی انگلی سے لے کر کہنی تک کا فاصلہ ہے۔
حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمجب عمامہ مبارک باندھتے تو دونوں کندھوں کے درمیان شملہ لٹکاتے۔() فتح مکہ کے دن آپ کے سر اقدس پر سیاہ عمامہ تھا اور آپ نے اس کے ایک سرے کو دونوں شانو ں کے درمیان لٹکایا ہواتھا۔()
آپ کسی شخص کو اُس و قت تک کسی شہر کا حاکم مقرر نہیں فرماتے تھے جب تک اس کے عمامہ نہ بندھو ادیتے ، اس عمامہ کا شملہ دائیں شانے پر کان کی طرف ڈالا جاتا۔ آپ کا ارشاد گرامی ہے، عمامہ مسلمان اور کافر کے درمیان امتیازی فرق ہے۔()
Share:
keyboard_arrow_up