Jamal e Mustafa

Total Pages: 118

Page 87 of 118

حضرت جابر رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ:

حضور عیدین اور جمعہ میں سرخ دھاری دار چادر اور تہبند زیب تن فرمایا کرتے تھے۔ (کنز  العمال،ج 7، ص121)

 

آپ نیا لباس پہن کر دو رکعت نفل ادا فرماتے اور عموماً نیا لباس جمعہ کو پہننا شروع فرماتے۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان عید پر بچوں کو نئے رنگین کپڑے اور بچیوں کو زیورات پہناتے۔
(کما فی المشکوٰۃ، ج2،ص486،حدیث نمبر:4342)

 

نبی کریم کو لباس میں سب سے زیادہ کرتا پسند تھا۔
(شمائل ترمذی،ص67)

اس کرتے میں سینے کے مقام پر جیب تھی۔ (مدارج النبوۃ، ج1، ص551)

 

حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ:

حضور کو کپڑوں میں یمنی منقش چادر بہت پسند تھی۔
(
بخاری، ج 18، ص127، حدیث نمبر:5365، مسلم، ج3، ص1648، حدیث نمبر:2079)

 

آپ نے دو سبز چادریں بھی اوڑھی ہیں۔ (شمائل ترمذی ،ص71)

 

آپ صبح کے وقت باہر تشریف لے جاتے ہو ئے کالی چادر اوڑھا کرتے۔(مدارج النبوۃ، ج1، ص550)

 

آقا و مولیٰ ﷺ   کو سفید رنگ بہت پسند تھا۔آپ کا ارشادِگرامی ہے، تم سفید کپڑے ضرور پہنو کہ یہ بہترین لباس ہے۔ زندگی کی حالت میں بھی سفید کپڑے پہنو اور مردوں کو بھی سفید کپڑوں میں دفن کرو۔ (شمائل ترمذی ،ص75)

 

حضرت حذیفہ رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور آقا کریم  نے میری یا اپنی پنڈلی کا گوشت پکڑ کر فرمایا،

یہ تہبند کی جگہ ہے اگر یہ نہیں تو کچھ نیچے تک اور اگر یہ بھی نہیں تو تہبند کو ٹخنوں پر ہر گز نہیں ہونا چاہیے۔
(شمائل ترمذی ،ص111)

 

آقا و مولیٰ ﷺ   کا ارشاد ہے،

جو شخص نیا لباس پہن کر یہ دعا پڑھے اور پرانا کپڑا راہِ خدا میں دے دے تو وہ اللّٰہ تعالیٰ کی حفاظت میں رہتا ہے۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ کَسَانِیْ مَا اُوَارِیْ بِہٖ عَوْرَتِیْ وَاَتَجَمَّلُ بِہٖ فِیْ حَیَاتِیْ

’’اللّٰہ تعالیٰ کا شکر ہے جس نے مجھے یہ لباس پہنایا جس سے میں اپنا ستر چھپاتا ہوں اور زندگی میں اس سے خوبصورتی حاصل کرتا ہوں‘‘۔
(مشکوٰۃ،ج 2، ص492، حدیث نمبر:4374)

 

فتاویٰ عالمگیری میں ہے کہ:

’’پاجامہ (شلوار) پہننا سنت ہے کیونکہ اس میں بہت زیادہ ستر پوشی ہے‘‘۔

 

صدر الشر یعہ مولانا امجد علی قادری فرماتے ہیں،

اس کو سنت اس لیے کہا گیا ہے کہ حضور اقدس نے اسے پسند فرمایا اور صحابہ کرام رضی اللّٰہ عنہم نے پہنا۔ خود حضور اقدس تہبند پہنا کرتے تھے، آپ سے پا جامہ یا شلوار پہننا ثابت نہیں۔(بہار شریعت،حصہ شانزدہم ،ص420)

 

شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ نے بعض محدثین کا یہ قول نقل کیا ہے کہ:

حضور    نے اسے پہنا اور آپ کی اجازت سے صحابہ کرام نے بھی پہنا۔ (مدارج النبوۃ، ج1،ص555)

 

حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ عنہما فرماتے ہیں کہ:

آقا و مولیٰ ﷺ    کے پاس تین ٹوپیاں تھیں۔ ایک سفید رنگ والی مصری ٹوپی، دوسری یمنی چادروں کے کپڑے سے بنی ہوئی اور تیسری کانوں والی ٹوپی، جس کو آپ سفر میں پہنا کرتے تھے۔
(شرف المصطفی، ج3، ص318 دار البشائر الاسلامیہ)

 

آپ کی ٹوپی سر اقدس سے چمٹی ہوئی ہوتی یعنی بلند نہ تھی۔ آپ اس پر عمامہ شریف باندھا کرتے۔ (مدارج النبوۃ،ج 1،ص552)

 

آپ کا چھوٹا عمامہ سات ہاتھ اور بڑا عمامہ بارہ ہاتھ کا تھا۔ ایک ہاتھ سے مراد بیچ کی انگلی سے لے کر کہنی تک کا فاصلہ ہے۔

حضورِ اکرم جب عمامہ مبارک باندھتے تو دونوں کندھوں کے درمیان شملہ لٹکاتے۔ (شمائل ترمذی، ص107)

 

فتح مکہ کے دن آپ کے سر اقدس پر سیاہ عمامہ تھا اور آپ نے اس کے ایک سرے کو دونوں شانوں کے درمیان لٹکایا ہوا تھا۔
(مسلم ، ج2، ص990،حدیث نمبر:1359)

 

آپ کسی شخص کو اُس و قت تک کسی شہر کا حاکم مقرر نہیں فرماتے تھے جب تک اس کے عمامہ نہ بندھوا دیتے، اس عمامہ کا شملہ دائیں شانے پر کان کی طرف ڈالا جاتا۔ آپ کا ارشاد گرامی ہے، عمامہ مسلمان اور کافر کے درمیان امتیازی فرق ہے۔
(
المواہب اللدنیہ، ج2، ص154)

Share:
keyboard_arrow_up