Jamal e Mustafa

Total Pages: 120

Page 86 of 120
آپ کھانے کے فوراًبعد پانی نوش نہ فرماتے تھے۔ آپ کو ٹھنڈا اور میٹھا پانی بہت پسند تھا۔()
آپ را ت بھر رکھے ہو ئے پانی کو تازہ پانی کے مقابلے میں پسند فرماتے۔() آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے مشرو بات میں دودھ، شہد، ستو،نبیذ (ایسا پانی جس میں کچھ دیر کھجوریں بھگو کررکھی جائیں) اور ٹھنڈا پانی شامل ہیں۔
آقاصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمشہدکوپانی میں ملاکرصبح نہارمنہ نوش فرماتے پھر کچھ دیر ٹھہر کر ناشتہ تناول فرماتے۔()
سید عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم آب زمزم اور وضو کے بچے ہوئے پانی کے سوا پانی ہمیشہ بیٹھ کر نوش فرماتے اور پینے کے دوران تین مرتبہ سانس لیا کرتے۔()
آقاصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمہر سانس میں منہ اقدس سے پیالے کو الگ کرکے سانس لیتے اور پیالے میں پھونکنے سے منع فرماتے۔()
آپ جب دہن اقدس سے پیا لے کو قریب لاتے تو بسم اللہ پڑھتے اور جب پیالے کو منہ مبارک سے ہٹا تے الحمد للہ فرماتے (ترمذی) آپ کھڑے ہو کر پینے سے منع فرماتے تھے۔()
حضورصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم جب کو ئی مشروب پیتے تو پہلے اپنے دائیں طرف والے کو عطا فرماتے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں اور خالدبن ولیدرضی اللہ عنہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر گئے۔ وہا ں نور مجسم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے دودھ کے برتن میں سے کچھ پی کر مجھ سے ارشاد فرمایا،ا ب پینے کا حق تیرا ہے (کہ تو دائیں جانب ہے) اگر توخوشی سے چاہے تو خالد کو ترجیح دیدے (کہ وہ عمر میں بڑے ہیں)میں نے عرض کی، میں آپ کے بچے ہوئے دودھ پر کسی کو ترجیح نہیں دے سکتا پھر میں نے وہ پی لیا۔()
آپ نے فرمایا، جس کو اللہ تعالیٰ کچھ کھلائے، اسے یہ دعا پڑھنی چاہیے،
اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْہِ وَاَطْعِمْْنَا خَیْرًا مِّنْہُ
’’اے اللہ !تو ہمیں اس میں برکت عطا فرما اور اس سے بہتر کھا نا عطافرما‘‘۔
اور جسے اللہ تعالیٰ دودھ پلائے، اسے چاہیے کہ وہ یہ دعا پڑھے،
اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْہِ وَزِدْنَامِنْہُ
’’اے اللہ !ہمیں اس میں برکت عطا فرما اور ہمارے رزق میں زیادتی فرما‘‘۔
پھر آپ نے فرمایا، دودھ کے سوا اور کو ئی چیز ایسی نہیں ہے جو کھانے اور پینے دونوں کا کا م دے سکے۔()
20...لباس مبارک:
حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم جو لباس میسر ہوتا زیب تن فرماتے، عمدہ و نفیس لبا س کی خواہش نہ فرماتے، بس حسبِ ضرور ت لباس پر اکتفافرماتے۔ اکثر آپ کا لباس چادر، کرتا اور ازار (تہبند) ہو تا جو کہ سخت اورموٹے کپڑے کے ہو تے اورآپ اونی کپڑے بھی پہنتے۔
آپ کا ارشاد ہے’’اللہ تعالیٰ کو مومن کی تمام خوبیوں میں لباس کا صاف و پاکیز ہ ہونا اور کم پر راضی ہو نا بہت پسند ہے‘‘۔آپ کی چادر مبارک میں کئی پیوند لگے ہوتے تھے۔ آپ گندے اور میلے کپڑوں کو مکروہ وناپسند فرماتے تھے۔()
سر کا رِ دو عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمو فو د کے لیے عمدہ لباس پہنتے اور جمعہ و عیدین کے لیے بھی آرائش فرماتے اوراس کے لیے ایک لباس علیحدہ سے محفوظ رکھتے تھے۔علماء فرماتے ہیں کہ اس قسم کا لباس پہننا اور ان چیزوں میں بڑائی دکھانا جو دین حق کی برتری اور غلبہ کے لیے ہوں، درحقیقت یہ دشمنوں کو جلانے اور ان پر رعب جمانے کے لیے ہے۔
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے حضور اکے جبہ مبارک کی زیارت کرائی جس میں بٹن اور تکمے ریشم کے تھے۔ آپ نے فرمایا، اس لباس کو پہن کر آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم دشمنوں سے ملاقات کیا کرتے تھے۔()
Share:
keyboard_arrow_up