آپ کھانے کے فوراً بعد پانی نوش نہ فرماتے تھے۔ آپ کو ٹھنڈا اور میٹھا پانی بہت پسند تھا۔ (شمائل ترمذی، ص169)
آپ را ت بھر رکھے ہو ئے پانی کو تازہ پانی کے مقابلے میں پسند فرماتے۔ (بخاری، ج17،ص324،حدیث نمبر:5180)
آپ ﷺ کے مشروبات میں دودھ، شہد، ستو، نبیذ (ایسا پانی جس میں کچھ دیر کھجوریں بھگو کر رکھی جائیں) اور ٹھنڈا پانی شامل ہیں۔
آقا ﷺ شہد کو پانی میں ملا کر صبح نہار منہ نوش فرماتے پھر کچھ دیر ٹھہر کر ناشتہ تناول فرماتے۔
(مسلم ،ج 2، ص953،حدیث نمبر:1316)
سید عالم ﷺ آب زم زم اور وضو کے بچے ہوئے پانی کے سوا پانی ہمیشہ بیٹھ کر نوش فرماتے اور پینے کے دوران تین مرتبہ سانس لیا کرتے۔ (شمائل ترمذی،ص172)
آقا ﷺ ہر سانس میں منہ اقدس سے پیالے کو الگ کر کے سانس لیتے اور پیالے میں پھونکنے سے منع فرماتے۔
(سنن ترمذی ،ج 7،ص101، حدیث نمبر:1810)
آپ جب دہن اقدس سے پیالے کو قریب لاتے تو بسم اللّٰہ پڑھتے اور جب پیالے کو منہ مبارک سے ہٹاتے الحمدللّٰہ فرماتے (ترمذی) آپ کھڑے ہو کر پینے سے منع فرماتے تھے۔ (بخاری، ج17، ص331، حدیث نمبر:5184)
حضور ﷺ جب کوئی مشروب پیتے تو پہلے اپنے دائیں طرف والے کو عطا فرماتے۔
حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ عنہما فرماتے ہیں کہ:
میں اور خالدبن ولید رضی اللّٰہ عنہ حضرت میمونہ رضی اللّٰہ عنہا کے گھر گئے۔ وہاں نور مجسم ﷺ نے دودھ کے برتن میں سے کچھ پی کر مجھ سے ارشاد فرمایا، اب پینے کا حق تیرا ہے (کہ تو دائیں جانب ہے) اگر تو خوشی سے چاہے تو خالد کو ترجیح دیدے (کہ وہ عمر میں بڑے ہیں) میں نے عرض کی، میں آپ کے بچے ہوئے دودھ پر کسی کو ترجیح نہیں دے سکتا پھر میں نے وہ پی لیا۔
(بخاری ،ج16، ص493،حدیث نمبر:4972)
آپ نے فرمایا، جس کو اللّٰہ تعالیٰ کچھ کھلائے، اسے یہ دعا پڑھنی چاہیے،
اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْہِ وَاَطْعِمْْنَا خَیْرًا مِّنْہُ
’’اے اللّٰہ ! تو ہمیں اس میں برکت عطا فرما اور اس سے بہتر کھانا عطا فرما‘‘۔
اور جسے اللّٰہ تعالیٰ دودھ پلائے، اسے چاہیے کہ وہ یہ دعا پڑھے،
اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْہِ وَزِدْنَامِنْہُ
’’اے اللّٰہ !ہمیں اس میں برکت عطا فرما اور ہمارے رزق میں زیادتی فرما‘‘۔
پھر آپ نے فرمایا،
دودھ کے سوا اور کو ئی چیز ایسی نہیں ہے جو کھانے اور پینے دونوں کا کام دے سکے۔ (شمائل ترمذی، ص170)
20...لباس مبارک:
حضور ﷺ جو لباس میسر ہوتا زیب تن فرماتے، عمدہ و نفیس لباس کی خواہش نہ فرماتے، بس حسبِ ضرورت لباس پر اکتفا فرماتے۔ اکثر آپ کا لباس چادر، کرتا اور ازار (تہبند) ہو تا جو کہ سخت اور موٹے کپڑے کے ہو تے اور آپ اونی کپڑے بھی پہنتے۔
آپ کا ارشاد ہے:
’’اللّٰہ تعالیٰ کو مومن کی تمام خوبیوں میں لباس کا صاف وپاکیزہ ہونا اور کم پر راضی ہو نا بہت پسند ہے‘‘۔ آپ کی چادر مبارک میں کئی پیوند لگے ہوتے تھے۔ آپ گندے اور میلے کپڑوں کو مکروہ و ناپسند فرماتے تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ،ج 8،ص188)
سرکارِ دو عالم ﷺ وفود کے لیے عمدہ لباس پہنتے اور جمعہ و عیدین کے لیے بھی آرائش فرماتے اور اس کے لیے ایک لباس علیحدہ سے محفوظ رکھتے تھے۔
علماء فرماتے ہیں کہ:
اس قسم کا لباس پہننا اور ان چیزوں میں بڑائی دکھانا جو دین حق کی برتری اور غلبہ کے لیے ہوں، در حقیقت یہ دشمنوں کو جلانے اور ان پر رعب جمانے کے لیے ہے۔
حضرت اسماء رضی اللّٰہ عنہا نے حضورﷺ کے جبہ مبارک کی زیارت کرائی جس میں بٹن اور تکمے ریشم کے تھے۔
آپ نے فرمایا،
اس لباس کو پہن کر آقا ﷺ دشمنوں سے ملاقات کیا کرتے تھے۔
(ابن ماجہ ،ج 8،ص334، حدیث نمبر:2809)

