اس حدیث مبارکہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کا شانۂ نبوت میں صبح اور شام دو وقت کھانا کھایا جاتا اور اس میں بھی بقدرِ ضرورت کھانا جو میسر ہوتا کھالیا جاتا ورنہ کھجوروں اورپانی پر قناعت کی جاتی، اس بارے میں زہد و قناعت کے عنوان کے تحت گفتگو ہوچکی ہے۔آپ کھانے کو کبھی عیب نہ لگاتے، اگر خواہش ہوتی تو کھالیتے ورنہ چھوڑدیتے۔() (بخاری، مسلم)
آپ کے کاشانۂ اقدس میں بغیر چھنے ہوئے جو کے آٹے کی روٹی پکتی اور کبھی کبھی آپ نے گندم کی روٹی بھی تناول فرمائی ہے۔بسااوقات آپ مجلس میں بیٹھے ہوئے ہوتے اور صرف پانی پی کرہی گزار ہ کرلیتے۔آپ کی عادت مبارکہ تھی کہ حلال کھانے سے کبھی پر ہیز نہیں فرماتے تھے۔()
آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا محبوب ترین کھانا سبزیاں تھیں اور سبزیوں میں آپ لوکی یا کدوکو بے حد پسند فرماتے تھے۔()
حضرت انسرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے آقاومولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو دیکھا کہ آپ سالن کے پیالے میں سے کدو تلاش کررہے ہیں۔پس اس دن سے میں کدو کو بہت زیادہ پسندکرتا ہوں۔()
حضور اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا ارشاد ہے، سر کہ بہترین سالن ہے۔() آپ حلوا اورشہد پسند فرماتے تھے۔(بخاری)آپ گڑکی شکر کو بھی پسند فرماتے اور اسے صدقہ میں دیتے تھے۔
حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو گوشت بھی مرغوب تھا۔آپ کا ارشاد ِگرامی ہے، ’’دنیاوی کھانوں کا سردار گوشت ہے اور اس کے بعد چاول‘‘۔()
حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے لیے سالن پکایا۔آپ بکری کی دستی کا گوشت پسند فرماتے تھے۔ میں نے آپ کودستی پیش کی۔ ارشاد فرمایا، مجھے اور دستی دو۔میں نے دوسری دستی پیش کی۔ فرمایا، مجھے اور دستی دو۔میں نے عرض کی، یارسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم! بکری کے دو ہی بازو ہوتے ہیں۔
ارشاد فرمایا، مجھے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے، اگر تو خاموش رہتا توجب تک میں تجھے کہتا رہتا اس دیگچی سے دستیاں نکلتی رہتیں۔()
نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکھانوں میں ثرید کو بھی پسند فرماتے تھے جوکہ رو ٹی تو ڑکر گوشت کے شوربے میں بھگو کر بنایا جاتا ہے اور کھجور، مکھن اور رو ٹی سے بھی بنایا جاتا ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکا ارشاد مبارک ہے،’’عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت تمام عورتوں پر ایسی ہے جیسے ثرید کی فضیلت تمام کھانوں پر‘‘۔()
نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے مرغی کا گوشت بھی تناول فرمایاہے۔()
حضرت سلمیٰ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ امام حسن، ابن عباس اور ابن جعفر رضی اللہ عنہم میرے پاس آئے اور فرمایا،ہمارے لیے وہی کھانا پکاؤ جو آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکو پسند تھا۔ میں نے کہا ،میرے بیٹو! آج تمہیں وہ کھانا پسند نہ آئے گا(ایسا کھانا تنگی ہی میں پسند ہوتا ہے)۔ انہوں نے فرمایا، ہمیں ضرور پسند آئے گا۔ چنانچہ میں نے تھوڑ ے سے جو پیس کر ہانڈی میں ڈالے اور زیتون کا تیل ملا کر کچھ مر چیں اور دوسرے مصالحے ڈالے پھر انہیں پکا کر لے آئی اور کہا، یہ وہ کھا نا ہے جسے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم پسند فرماتے تھے۔()
کھجور کے ساتھ تربوز یا خربوزہ یا ککڑی ملا کر کھانا اور انگور کھانا آپ کو مرغوب تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ہر موسم کا پھل تناول فرماتے اور اپنے شہر کے کسی پھل سے پر ہیز نہیں فرماتے تھے۔ امام قسطلانی فرماتے ہیں، انسان کی صحت کا یہ ایک بڑا سبب ہے کہ وہ اپنے علاقے کے تمام پھل کھائے اور جس موسم کو وہ پائے ،اس کے پھلوں سے پرہیز نہ کرے کیو نکہ اللہ تعالیٰ نے ہر علاقے کی آب و ہوا کے مطابق پھل پیدا فرمائے ہیں۔()
Page 85 of 120

