Jamal e Mustafa

Total Pages: 118

Page 85 of 118

اس حدیث مبارکہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ:

کا شانۂ نبوت میں صبح اور شام دو وقت کھانا کھایا جاتا اور اس میں بھی بقدرِ ضرورت کھانا جو میسر ہوتا کھا لیا جاتا ورنہ کھجوروں اور پانی پر قناعت کی جاتی، اس بارے میں زہد و قناعت کے عنوان کے تحت گفتگو ہوچکی ہے۔ آپ کھانے کو کبھی عیب نہ لگاتے، اگر خواہش ہوتی تو کھالیتے ورنہ چھوڑدیتے۔
(
بخاری، ج11، ص398، حدیث نمبر:3299، مسلم، ج3،ص1632) (بخاری، مسلم)

 

آپ کے کاشانۂ اقدس میں بغیر چھنے ہوئے جو کے آٹے کی روٹی پکتی اور کبھی کبھی آپ نے گندم کی روٹی بھی تناول فرمائی ہے۔بسا اوقات آپ مجلس میں بیٹھے ہوئے ہوتے اور صرف پانی پی کرہی گزارہ کر لیتے۔ آپ کی عادت مبارکہ تھی کہ حلال کھانے سے کبھی پرہیز نہیں فرماتے تھے۔ (ترمذی،ج 8، ص367، حدیث نمبر:2287)

 

آپ کا محبوب ترین کھانا سبزیاں تھیں اور سبزیوں میں آپ لوکی یا کدو کو بے حد پسند فرماتے تھے۔
(بخاری،ج 17،ص57،حدیث نمبر:5013)

 

حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ:

میں نے آقا و مولیٰ کو دیکھا کہ آپ سالن کے پیالے میں سے کدو تلاش کر رہے ہیں۔ پس اس دن سے میں کدو کو بہت زیادہ پسندکرتا ہوں۔ (بخاری،ج 17،ص57،حدیث نمبر:5013، مسلم ،ج 2، ص924، حدیث نمبر:1268)

 

حضور اکرم کا ارشاد ہے،

سرکہ بہترین سالن ہے۔ (شمائل ترمذی ،ص131)

 

آپ حلوا اورشہد پسند فرماتے تھے۔ (بخاری) آپ گڑ کی شکر کو بھی پسند فرماتے اور اسے صدقہ میں دیتے تھے۔ حضورِ اکرم  کو گوشت بھی مرغوب تھا۔

آپ کا ارشاد ِگرامی ہے،

’’دنیاوی کھانوں کا سردار گوشت ہے اور اس کے بعد چاول‘‘۔
(کنز العمال، ج15، ص291، حدیث نمبر:41054)

 

حضرت ابو عبیدہ رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ:

میں نے حضور ﷺ   کے لیے سالن پکایا۔ آپ بکری کی دستی کا گوشت پسند فرماتے تھے۔ میں نے آپ کو دستی پیش کی۔ ارشاد فرمایا، مجھے اور دستی دو۔ میں نے دوسری دستی پیش کی۔ فرمایا، مجھے اور دستی دو۔ میں نے عرض کی، یا رسول اللّٰہ ﷺ  ! بکری کے دو ہی بازو ہوتے ہیں۔

ارشاد فرمایا، مجھے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے، اگر تو خاموش رہتا تو جب تک میں تجھے کہتا رہتا اس دیگچی سے دستیاں نکلتی رہتیں۔(شمائل ترمذی،ص141)

 

نبی کریم ﷺ   کھانوں میں ثرید کو بھی پسند فرماتے تھے جوکہ روٹی توڑ کر گوشت کے شوربے میں بھگو کر بنایا جاتا ہے اور کھجور، مکھن اور روٹی سے بھی بنایا جاتا ہے۔

آپ ﷺ  کا ارشاد مبارک ہے،

’’عائشہ رضی اللّٰہ عنہا کی فضیلت تمام عورتوں پر ایسی ہے جیسے ثرید کی فضیلت تمام کھانوں پر‘‘۔
(
سنن ترمذی،ج 7،ص15،حدیث نمبر:1757، سنن ابی داؤد، ج10، ص240،حدیث نمبر:3289)

 

نبی کریم ﷺ    نے مرغی کا گوشت بھی تناول فرمایا ہے۔
(شمائل ترمذی،ص133)

 

حضرت سلمیٰ رضی اللّٰہ عنہا فرماتی ہیں کہ:

امام حسن، ابن عباس اور ابن جعفر رضی اللّٰہ عنہم میرے پاس آئے اور فرمایا، ہمارے لیے وہی کھانا پکاؤ جو آقا ﷺ    کو پسند تھا۔ میں نے کہا، میرے بیٹو! آج تمہیں وہ کھانا پسند نہ آئے گا(ایسا کھانا تنگی ہی میں پسند ہوتا ہے)۔

انہوں نے فرمایا،

ہمیں ضرور پسند آئے گا۔ چنانچہ میں نے تھوڑے سے جو  پیس کر ہانڈی میں ڈالے اور زیتون کا تیل ملا کر کچھ مر چیں اور دوسرے مصالحے ڈالے پھر انہیں پکا کر لے آئی اور کہا، یہ وہ کھانا ہے جسے آقا ﷺ     پسند فرماتے تھے۔ (شمائل ترمذی،ص148)

 

کھجور کے ساتھ تربوز یا خربوزہ یا ککڑی ملا کر کھانا اور انگور کھانا آپ کو مرغوب تھا۔

حضور ہر موسم کا پھل تناول فرماتے اور اپنے شہر کے کسی پھل سے پرہیز نہیں فرماتے تھے۔

امام قسطلانی فرماتے ہیں،

انسان کی صحت کا یہ ایک بڑا سبب ہے کہ وہ اپنے علاقے کے تمام پھل کھائے اور جس موسم کو وہ پائے، اس کے پھلوں سے پرہیز نہ کرے کیو نکہ اللّٰہ تعالیٰ نے ہر علاقے کی آب و ہوا کے مطابق پھل پیدا فرمائے ہیں۔ (کنز العمال، ج7،ص110،حدیث نمبر:18217)

Share:
keyboard_arrow_up