19...آداب طعام و نوش:
سرکار دوعالم ﷺ زمین پر تشریف رکھتے اور زمین پر ہی دسترخوان بچھا کر کھانا تناول فرماتے۔
سیدنا انس رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ:
آقا و مولیٰ ﷺ نے نہ تو میز پر رکھ کر کھانا کھایا، نہ چھوٹی پیالی میں کھایا اور نہ ہی آپ کے لیے چپاتی پکائی گئی۔
(کنز العمال، ج12، ص641)
حضور ﷺ اکثر تین انگلیوں سے کھانا تناول فرماتے اور بعض دفعہ پانچوں انگلیوں سے بھی، طعام کے بعد آپ انگلیاں چاٹ لیا کرتے تھے۔ (مسلم ، ج10، ص327،حدیث نمبر:3791)
نبی کریم رؤف ورحیم ﷺ نے انگلیوں اور برتن کو چاٹنے کا حکم دیا اور فرمایا،
تمہیں معلوم نہیں کہ کھانے کے کس حصہ میں برکت ہے۔
(مسلم ، ج10، ص328،حدیث نمبر:3792)
آقا کریم ﷺ نے کھانے اور پانی میں پھونک مارنے سے منع فرمایا ہے۔
(بخاری،16،ص470،حدیث نمبر4957 مسلم ، ج10،ص298، حدیث نمبر:3767)
آپ نے بائیں ہاتھ سے کھانے پینے اور لین دین کرنے سے منع فرمایا اور دایاں ہاتھ استعمال کرنے کا حکم دیا۔ (ابن ماجہ، ج9،ص480،حدیث نمبر:3257)
دستر خوان پر لقمہ گر جائے تو اسے کھانے کا حکم دیا۔
(کنز العمال، ج15،ص252، حدیث نمبر:40824)
نیز فرمایا، جو دستر خوان پر گری ہوئی چیز اٹھا کر کھاتا ہے، اس کی اولاد خوبصورت پیدا ہوتی ہے اور وہ محتاجی سے محفوظ رہتا ہے۔ (کنز العمال، ج15،ص252، حدیث نمبر:40823)
آقا و مولیٰ ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے،
کھانے کو ٹھنڈا کرکے کھایا کرو کہ گرم کھانے میں برکت نہیں ہے۔
(سنن ابی داؤد، ج9،ص168،حدیث نمبر:2897)
اور بسم اللّٰہ پڑھ کر دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور برتن کے اس جانب سے کھاؤ جو تمہارے قریب ہے۔ (بخاری، مسلم)
(بخاری،ج 16،ص470،حدیث نمبر:4957، مسلم، ج10، ص232،حدیث نمبر:3284)
یہ بھی ارشاد فرمایا،
جب کوئی کھانا کھائے اور بسم اللّٰہ پڑھنا بھول جائے توجب یاد آئے یہ کہے:
بِسْمِ اللّٰہِ اَوَّلَہٗ وَاٰخِرَہٗ۔
’’ اللّٰہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتا ہوں اس کھانے کے اول و آخر میں‘‘۔
آپ جب کھانے سے فارغ ہوتے تو یہ دعا پڑھتے،(شمائل ترمذی،ص157،حدیث نمبر:189)
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْن
’’تمام تعریفیں اللّٰہ کے لیے جس نے ہمیں کھلایا اور پلایا اور مسلمان بنایا‘‘ ۔
(شمائل ترمذی،ص191)
آقا و مولیٰ ﷺ کا ارشاد ہے،
جب دستر خوان پر لوگ کھا رہے ہوں اور تم میں سے کسی کا پیٹ بھر جائے تو اسے چاہیے کہ دوسروں کے فارغ ہونے تک دستر خوان سے نہ اُٹھے کیونکہ ایک آدمی کے جلدی اُٹھ جانے سے اس کے ساتھی کو شرمندگی ہوتی ہے۔
آپ نے ایک بار یہ بھی فرمایا،
روٹی چھوٹی پکایا کرو البتہ تعداد میں زیادہ کر دیا کرو، اللّٰہ تعالیٰ اس میں برکت عطا فرمائے گا۔
(مشکوٰۃ، ج2،ص466،حدیث نمبر:4254)
حضور ﷺ ٹیک لگا کر کھانا نہیں کھاتے تھے۔ (بخاری،ج 17،ص3،حدیث نمبر:4979)
یا آپ پیٹھ مبارک کے بل بیٹھتے اور دونوں گھٹنے مبارک کھڑے کرکے کھانا تناول فرماتے اور یا دایاں پاؤں کھڑا کرکے بائیں پاؤں پر تشریف فرما ہوتے۔
کھانے کے آداب و سنن یہ ہیں کہ کھانے سے پہلے اور بعد میں دونوں ہاتھ گٹوں تک دھوئیں البتہ کھانے سے پہلے ہاتھ دھو کر نہ پونچھیں جبکہ کھانے کے بعد ہاتھ دھو کر رو مال یا تو لیے سے پو نچھ لیے جائیں۔ (بہار شریعت، حصہ شانزدہم ،ص379)
رحمت عالم ﷺ کسی خاص غذا کا تکلف نہ فرماتے تھے اگر چہ بعض غذائیں آپ کو مرغوب تھیں۔ آپ شکم سیر ہو کر کھانا تناول نہیں فرماتے تھے۔
آپ کا ارشادِ گرامی ہے،
دنیا میں شکم سیر لوگ آخرت میں بھوک والے ہیں‘‘۔
(کنز العمال، ج3،ص214، حدیث نمبر:6217)
حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ:
آقا ومولیٰ ﷺ کے کاشانۂ اقدس میں صبح کے کھانے میں یا رات کے کھانے میں روٹی اور گوشت دونوں چیزیں جمع نہیں ہوتی تھیں، ان دونوں کا اہتمام آپ صرف مہمانوں کی خاطر فرماتے۔
(شمائل ترمذی، ص320)

