19...آداب طعام و نوش:
سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمزمین پر تشریف رکھتے اور زمین پر ہی دستر خوان بچھاکر کھانا تناول فرماتے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے نہ تو میز پر رکھ کر کھانا کھایا، نہ چھوٹی پیالی میں کھایا اور نہ ہی آپ کے لیے چپاتی پکائی گئی۔()
حضورصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلماکثر تین انگلیوں سے کھانا تناول فرماتے اور بعض دفعہ پانچوں انگلیوں سے بھی، طعام کے بعد آپ انگلیا ں چاٹ لیا کرتے تھے۔()
نبی کریم رؤف و رحیم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے انگلیوں اور برتن کو چاٹنے کا حکم دیا اور فرمایا، تمہیں معلوم نہیں کہ کھانے کے کس حصہ میں برکت ہے۔()
آقا کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے کھانے اور پانی میں پھو نک مارنے سے منع فرمایاہے۔()
آپ نے بائیں ہاتھ سے کھانے پینے اور لین دین کرنے سے منع فرمایااور دایاں ہاتھ استعمال کرنے کا حکم دیا۔() دستر خوان پر لقمہ گر جائے تو اسے کھانے کا حکم دیا۔()
نیز فرمایا، جو دستر خوان پر گری ہوئی چیز اٹھا کرکھاتا ہے، اس کی اولاد خوبصورت پیدا ہوتی ہے اور وہ محتاجی سے محفوظ رہتا ہے۔()
آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کاارشاد ِگرامی ہے، کھانے کو ٹھنڈا کرکے کھایا کرو کہ گرم کھانے میں برکت نہیں ہے۔()
اور بسم اللہ پڑھ کر دائیں ہاتھ سے کھاؤاور برتن کے اس جانب سے کھاؤ جو تمہارے قریب ہے۔() (بخاری، مسلم)
یہ بھی ارشاد فرمایا، جب کوئی کھانا کھائے اور بسم اللہ پڑھنا بھول جائے توجب یا د آئے یہ کہے:
بِسْمِ اللّٰہِ اَوَّلَہٗ وَاٰخِرَہٗ۔
’’اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتا ہوں اس کھانے کے اول وآخر میں‘‘۔
آپ جب کھانے سے فارغ ہوتے تو یہ دعا پڑھتے،()
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْن
’’تمام تعریفیں اللہ کے لیے جس نے ہمیں کھلایا اور پلایا اور مسلمان بنایا‘‘۔()
آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکا ارشاد ہے، جب دستر خوان پر لوگ کھارہے ہوں اور تم میں سے کسی کا پیٹ بھر جائے تو اسے چاہیے کہ دوسروں کے فارغ ہونے تک دستر خوان سے نہ اُٹھے کیونکہ ایک آدمی کے جلدی اُٹھ جانے سے اس کے ساتھی کو شرمندگی ہوتی ہے۔
آپ نے ایک بار یہ بھی فرمایا، روٹی چھوٹی پکایا کرو البتہ تعداد میں زیادہ کر دیا کرو، اللہ تعا لیٰ اس میں برکت عطا فرمائے گا۔()
حضورصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ٹیک لگا کر کھانا نہیں کھاتے تھے۔() یا آپ پیٹھ مبارک کے بل بیٹھتے اور دونوں گھٹنے مبارک کھڑے کرکے کھانا تناول فرماتے اور یاد ایاں پاؤں کھڑا کرکے بائیں پاؤں پر تشریف فرماہوتے۔
کھانے کے آداب و سنن یہ ہیں کہ کھانے سے پہلے اور بعد میں دو نوں ہاتھ گٹو ں تک دھوئیں البتہ کھانے سے پہلے ہاتھ دھو کر نہ پونچھیں جبکہ کھانے کے بعد ہاتھ دھو کر رو مال یا تو لیے سے پو نچھ لیے جائیں۔()
رحمت عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکسی خاص غذا کا تکلف نہ فرماتے تھے اگر چہ بعض غذا ئیں آپ کو مرغوب تھیں۔آپ شکم سیر ہو کر کھانا تناول نہیں فرماتے تھے۔آپ کا ارشادِ گرامی ہے، دنیا میں شکم سیر لوگ آخرت میں بھوک والے ہیں‘‘۔()
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آقا ومولیٰصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے کاشانۂ اقدس میں صبح کے کھانے میں یارات کے کھانے میں روٹی اور گوشت دونوں چیزیں جمع نہیں ہوتی تھیں، ان دونوں کا اہتمام آپ صرف مہمانوں کی خاطر فرماتے۔()
Page 84 of 120

