’’حضورصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلماٹھتے بیٹھتے اللہ تعالیٰ کا ذکر فرماتے تھے۔آپ جب مجلس میں تشریف لے جاتے تو جہاں مجلس ختم ہوتی وہاں تشریف رکھتے اور اسی بات کا حکم بھی فرماتے۔ہر بیٹھنے والے کو اس کاحق دیتے اور سب سے اس طرح پیش آتے کہ کو ئی یہ نہ سمجھتا کہ کوئی دوسرا اس سے زیادہ باعزت ہے۔
آپ کی خوش مزاجی اور حسن اخلاق سب کے لیے تھا چنانچہ آپ لوگوں کے لیے باپ کی طرح تھے اور تمام لوگوں کے حقوق آپ کے نزدیک برابرتھے۔
رحمت عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی مبارک مجلس حلم، حیا، صبر اورامانت کی مجلس ہوتی تھی۔ نہ تو وہاں آوازیں بلند ہوتیں اور نہ ہی کسی کی عزت پرعیب لگایا جاتا۔ اس مبارک مجلس کی غلطیاں (اگر بالفر ض کسی سے سر زدہوجائیں) پھیلائی نہیں جاتی تھیں۔ اہلِ مجلس آپس میں برابر ہوتے تھے،صرف تقویٰ کی وجہ سے ایک دوسرے پر فضیلت رکھتے تھے۔
اہلِ مجلس تواضع و عاجزی کرتے، بڑوں کی عزت اور چھوٹو ں پررحم کرتے، حاجت مندوں پر ایثار کرتے اور مسافر وں کے حقوق کا خیال رکھتے تھے۔()
اب آخر میں آقائے دوجہاں ،شفیع عاصیاں ،مونس بیکسا ں صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے معطر ومنور اُسوۂ حسنہ سے چند آداب پیش کیے جارہے ہیں۔ اُسوۂ حسنہ کی روشنی میں آدابِ زندگی کی تفصیل اورمتعلقہ ضروری فقہی مسائل جاننے کے لیے صدرالشریعہ علامہ مولاناامجد علی اعظمی قدس سرہٗ کی معروف کتاب ’’بہار ِ شریعت‘‘ کے سولھویں حصے کا مطالعہ فرمائیں۔
18...نشست مبارک:
نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم زمین پر بیٹھنا پسند فرماتے تھے۔ حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نماز فجر کے بعد طلوع آفتاب تک چار زانومبارک اُٹھا کر پنڈلیوں کو ملا کر بیٹھتے، کبھی چادر مبارک لپیٹ لیتے اورکبھی بغیر چادر کے تشریف رکھتے۔()
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلممسجد میں اس طرح تشریف فرما ہوتے کہ زانو مبارک کھڑے کرکے دونوں ہاتھوں سے گھٹنوں کو گھیر کر ایک ہاتھ سے دوسرے کو پکڑ لیتے۔()
حضرت قیلہ بنت مخرمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے آپ کو مسجد میں بغلوں میں ہاتھ دبائے ہوئے دوز انو بیٹھے دیکھا۔آپ کو اس عاجزی سے بیٹھا دیکھ کر میں رعب و خوف سے کانپ گئی۔ حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکو تکیہ پر ٹیک لگائے ہوئے دیکھا۔()
حضورصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکا ارشاد ہے، جب کوئی شخص سایہ میں ہواور پھر سایہ سمٹ جائے اور وہ کچھ سایہ اور کچھ دھوپ میں ہوجائے تو اسے چاہیے کہ وہاں سے اٹھ جائے۔()
ابورفاعہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں بارگاہ نبوی میں حاضر ہواتو میں نے دیکھا کہ آقاصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمایک کرسی پر تشریف فرماتھے جو کھجور کی جالی سے بنی ہوئی تھی۔()
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول معظم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمہر وقت اور ہر لمحہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے تھے۔ آپ کا اٹھنا، لیٹنا، کھڑا ہونا، چلنا، آناجانا، کھاناپینا، بولنا اور خاموش رہنا غرض یہ کہ ہر وقت آپ کے قلب اطہر میں اللہ تعالیٰ ہی کی یاد رہتی تھی۔()
آپ نے اپنے امتیوں کو یہی تعلیم دی ہے کہ وہ یادِ الٰہی سے غافل نہ ہوں۔ حدیث پاک میں ارشاد گرامی ہے، جو لوگ کسی جگہ بیٹھے اور بغیر اللہ تعالیٰ کے ذکر اور بغیر حضورصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمپر درود پڑھے اُٹھ گئے انہوں نے اپنا نقصان کیا، اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو انہیں اس پر عذا ب دے اور چاہے تو بخش دے۔()
Page 83 of 120

