Jamal e Mustafa

Total Pages: 118

Page 83 of 118

18...نشست مبارک:

نبی کریم ﷺ    زمین پر بیٹھنا پسند فرماتے تھے۔

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ:

آقا ﷺ    نماز فجر کے بعد طلوع آفتاب تک چار زانو مبارک اُٹھا کر پنڈلیوں کو ملا کر بیٹھتے، کبھی چادر مبارک لپیٹ لیتے اور کبھی بغیر چادر کے تشریف رکھتے۔
(سنن ابو داؤد،کتاب الادب، باب فی الرجل یجلس متربعا، 4/345،حدیث:4850)

 

حضرت ابو سعید خدری رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ:

حضور  مسجد میں اس طرح تشریف فرما ہوتے کہ زانو مبارک کھڑے کرکے دونوں ہاتھوں سے گھٹنوں کو گھیر کر ایک ہاتھ سے دوسرے کو پکڑ لیتے۔ (شمائل ترمذی،ص117)

 

حضرت قیلہ بنت مخرمہ رضی اللّٰہ عنہا فرماتی ہیں کہ:

میں نے آپ کو مسجد میں بغلوں میں ہاتھ دبائے ہوئے دوزانو بیٹھے دیکھا۔ آپ کو اس عاجزی سے بیٹھا دیکھ کر میں رعب و خوف سے کانپ گئی۔

 

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ:

میں نے آقا و مولیٰ کو تکیہ پر ٹیک لگائے ہوئے دیکھا۔
(شمائل ترمذی ، ص118)

 

حضور کا ارشاد ہے،

جب کوئی شخص سایہ میں ہو اور پھر سایہ سمٹ جائے اور وہ کچھ سایہ اور کچھ دھوپ میں ہوجائے تو اسے چاہیے کہ وہاں سے اٹھ جائے۔ (سنن ابی داؤد،ج 12، ص446،حدیث نمبر:4184)

 

ابو رفاعہ رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ:

میں بارگاہ نبوی میں حاضر ہوا تو میں نے دیکھا کہ آقا ﷺ  ایک کرسی پر تشریف فرما تھے جو کھجور کی جالی سے بنی ہوئی تھی۔ (الوفا، ابواب آلاتِ بیتہ، ص376)

 

سیدہ عائشہ رضی اللّٰہ عنہا فرماتی ہیں کہ:

رسول معظم ﷺ   ہر وقت اور ہر لمحہ اللّٰہ تعالیٰ کا ذکر کرتے تھے۔ آپ کا اٹھنا، لیٹنا، کھڑا ہونا، چلنا، آنا جانا، کھانا پینا، بولنا اور خاموش رہنا غرض یہ کہ ہر وقت آپ کے قلب اطہر میں اللّٰہ تعالیٰ ہی کی یاد رہتی تھی۔ (مسند ابی یعلی،ج 8،ص335،حدیث نمبر:4937)

 

آپ نے اپنے امتیوں کو یہی تعلیم دی ہے کہ وہ یادِ الٰہی سے غافل نہ ہوں۔

حدیث پاک میں ارشاد گرامی ہے،

جو لوگ کسی جگہ بیٹھے اور بغیر اللّٰہ تعالیٰ کے ذکر اور بغیر حضور ﷺ    پر درود پڑھے اُٹھ گئے انہوں نے اپنا نقصان کیا، اگر اللّٰہ تعالیٰ چاہے تو انہیں اس پر عذاب دے اور چاہے تو بخش دے۔
  (ترمذی،ج 11،ص235، ج3302، مستدرک، ج1،ص735، حدیث نمبر:2017)

Share:
keyboard_arrow_up