Jamal e Mustafa

Total Pages: 118

Page 82 of 118

آقا و مولیٰ ﷺ   کی احتیاط چار خوبیوں کی جامع تھی۔

اول: نیک باتیں اختیار کرنا تاکہ لوگ آپ کی پیروی کریں،

دوم: بری باتوں سے دور رہنا تاکہ لوگ ان سے باز رہیں،

سوم: ان امور کا اختیار کرنا جو امت کیلئے دنیا و آخرت دونوں میں فائدہ مند ہوں،

چہارم: ہر اس چیز کی کوشش کرنا جس کا امت کو فائدہ ہو۔
(کتاب الشفاء، ج1،ص161)

 

امام حسین رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد بزرگوار سے دریافت کیا کہ حضور ﷺ   کا جو وقت اپنے گھر مبارک میں گزرتا تھا آپ اس میں کیا کیا کرتے تھے؟ حضرت علی کرم اللّٰہ وجہہ نے فرمایا،

’’سید عالم ﷺ    اپنے گھر کے وقت کو تین حصوں میں تقسیم فرماتے،

ایک حصہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے،

ایک حصہ گھر والوں کے لیے

اورایک حصہ اپنی ذات کے لیے۔

پھر اپنا ذاتی حصہ اپنے اور لوگوں کے درمیان تقسیم فرماتے اور (اپنے فیوض و برکات) خاص صحابہ کرام کے ذریعے عام لوگوں تک پہنچا دیتے اوران سے نصیحت و ہدایت کی کوئی بات پوشیدہ نہ رکھتے۔

امت کے لیے مخصوص وقت میں خاص صحابہ کرام کو گھر میں آنے کی اجازت عطا فرماتے اور ان کی دینی فضیلت کے لحاظ سے ان پر وقت تقسیم فرماتے۔

ان میں سے کسی کی ایک دینی ضرورت ہوتی کسی کی دو یا زائد، آپ ان کی ضروریات پوری فرماتے اور اُن کو اُن کی اپنی اور امت کی اصلاح سے متعلق کاموں میں مشغول فرماتے۔

آپ ان سے ان کے مسائل دریافت فرماتے اور مناسبِ حال ہدایات ارشاد فرماتے اور یہ بھی فرماتے کہ جو حاضر ہیں انہیں چاہیے کہ دوسروں تک یہ باتیں پہنچا دیں، نیز یہ بھی فرماتے کہ جو لوگ (مثلاً عورتیں، بیمار، ضعیف وغیرہ)مجھ تک اپنی حاجتیں نہیں پہنچا سکتے تم ان کی حاجتیں مجھ تک پہنچا دیا کرو کیونکہ جو شخص کسی ایسے آدمی کی حاجت اختیار والے تک پہنچاتا ہے اللّٰہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن پل صراط پر ثابت قدم رکھے گا۔

بارگاہ نبوی ایسی ہی باتوں کا ذکر ہوتا تھا اور دوسری فضول و بے فائدہ باتیں نہیں ہوتی تھیں۔ لوگ آپ کے پاس علم وفضل کی طلب میں آتے اورحصول علم کے علاوہ کچھ نہ کچھ کھا کر جاتے اور بھلائی کے رہبر بن کر جاتے۔

امام حسین رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں،

پھر میں نے دریافت کیا کہ حضور ﷺ   کا جو وقت گھر سے باہر گزرتا تھا اس میں آپ کیا کیا کرتے تھے؟

سیدنا علی کرم اللّٰہ وجہہ نے فرمایا،

’’آقا و مولیٰ ﷺ    اکثرخاموش رہتے اور اپنی زبان مبارک کو مفید و ضروری کلام کے لیے ہی استعمال فرماتے، صحابہ کرام کو باہم محبت سکھاتے اور ان کو جدا نہ ہونے دیتے۔ آپ ہر قوم کے بزرگ کی عزت کرتے اور اُسے ان پر حاکم مقرر فرماتے۔ آپ لو گوں کو عذاب سے ڈراتے اور ان سے احتراز کرتے لیکن اس کے با وجود ہر ایک سے خندہ پیشانی اور خوش اخلاقی سے پیش آتے۔ اپنے صحابہ کرام کی خبر گیری کرتے اور ان سے لوگوں کے حالات بھی دریافت فرماتے۔

آپ ہمیشہ اچھی بات کی تعریف اور تائید فرماتے اور بری بات کی برائی ظاہر فرماتے اور اس کی تردیدفرماتے۔

آپ ہمیشہ میانہ روی اختیار فرماتے اور صحابہ کرام سے بے خبر نہ رہتے کہ کہیں وہ غافل یا سست نہ ہوجائیں۔آپ ہر حال میں مستعد رہتے اور حق سے کوتاہی نہ کرتے اور نہ ہی حق سے تجاوز فرماتے۔

جو لوگ آپ کی خدمت اقدس میں حاضر رہتے وہ سب لوگوں سے بہتر ہوتے۔ سب سے افضل آپ کے نزدیک وہ ہوتا جو لوگوں کا زیادہ خیر خواہ ہوتا، اور آپ کے نزدیک وہ شخص بڑے مرتبہ والاہوتا جو لوگوں کی مدد اور غم خواری کرتا اور ان سے اچھا برتاؤ کرتا۔

 امام حسین رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں پھر میں نے اپنے والد گرامی سے آقا و مولیٰ ﷺ    کی مجلس مبارک کا حال پوچھا تو انہوں نے فرمایا، 

’’حضور ﷺ    اٹھتے بیٹھتے اللّٰہ تعالیٰ کا ذکر فرماتے تھے۔آپ جب مجلس میں تشریف لے جاتے تو جہاں مجلس ختم ہوتی وہاں تشریف رکھتے اور اسی بات کا حکم بھی فرماتے۔ ہر بیٹھنے والے کو اس کا حق دیتے اور سب سے اس طرح پیش آتے کہ کو ئی یہ نہ سمجھتا کہ کوئی دوسرا اس سے زیادہ باعزت ہے۔

آپ کی خوش مزاجی اور حسن اخلاق سب کے لیے تھا چنانچہ آپ لوگوں کے لیے باپ کی طرح تھے اور تمام لوگوں کے حقوق آپ کے نزدیک برابر تھے۔

رحمت عالم ﷺ    کی مبارک مجلس حلم، حیا، صبر اور امانت کی مجلس ہوتی تھی۔ نہ تو وہاں آوازیں بلند ہوتیں اور نہ ہی کسی کی عزت پرعیب لگایا جاتا۔ اس مبارک مجلس کی غلطیاں (اگر بالفرض کسی سے سر زد ہوجائیں) پھیلائی نہیں جاتی تھیں۔

اہلِ مجلس آپس میں برابر ہوتے تھے،صرف تقویٰ کی وجہ سے ایک دوسرے پر فضیلت رکھتے تھے۔ اہلِ مجلس تواضع و عاجزی کرتے، بڑوں کی عزت اور چھوٹوں پر رحم کرتے، حاجت مندوں پر ایثار کرتے اور مسافروں کے حقوق کا خیال رکھتے تھے۔ (شمائل ترمذی،ج190)

 

اب آخر میں آقائے دوجہاں، شفیع عاصیاں، مونس بیکساں ﷺ    کے معطر و منور اُسوۂ حسنہ سے چند آداب پیش کیے جارہے ہیں۔ اُسوۂ حسنہ کی روشنی میں آدابِ زندگی کی تفصیل اور متعلقہ ضروری فقہی مسائل جاننے کے لیے صدرالشریعہ علامہ مولانا امجد علی اعظمی قدس سرہٗ کی معروف کتاب ’’بہارِ شریعت‘‘ کے سولھویں حصے کا مطالعہ فرمائیں۔

Share:
keyboard_arrow_up