Jamal e Mustafa

Total Pages: 120

Page 82 of 120
دوم:بری باتوں سے دور رہنا تاکہ لوگ ان سے باز رہیں،
سوم:ان امور کا اختیار کرنا جو امت کیلئے دنیاوآخرت دونوں میں فائدہ مند ہوں،
چہارم:ہراس چیز کی کوشش کرنا جس کا امت کو فائدہ ہو۔()
امام حسینرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد بزرگوار سے دریافت کیا کہ حضورصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا جو وقت اپنے گھر مبارک میں گزرتا تھاآپ اس میں کیا کیاکرتے تھے؟
حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا،
’’سید عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلماپنے گھر کے وقت کو تین حصوں میں تقسیم فرماتے، ایک حصہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے، ایک حصہ گھر والوں کے لیے اورایک حصہ اپنی ذات کے لیے۔پھر اپنا ذاتی حصہ اپنے اور لوگوں کے درمیان تقسیم فرماتے اور (اپنے فیوض وبرکات)خاص صحابہ کرام کے ذریعے عام لوگوں تک پہنچا دیتے اوران سے نصیحت و ہدایت کی کوئی بات پوشیدہ نہ رکھتے۔
امت کے لیے مخصوص وقت میں خاص صحابہ کرام کو گھر میں آنے کی اجازت عطافرماتے اور ان کی دینی فضیلت کے لحاظ سے ان پر وقت تقسیم فرماتے۔ان میں سے کسی کی ایک دینی ضرورت ہوتی کسی کی دو یا زائد، آپ ان کی ضروریات پوری فرماتے اور اُن کو اُن کی اپنی اور امت کی اصلاح سے متعلق کا موں میں مشغول فرماتے۔
آپ ان سے ان کے مسائل دریافت فرماتے اورمناسبِ حال ہدایات ارشاد فرماتے اور یہ بھی فرماتے کہ جو حاضر ہیں انہیں چاہیے کہ دوسروں تک یہ باتیں پہنچا دیں، نیز یہ بھی فرماتے کہ جو لوگ(مثلاًعورتیں، بیمار، ضعیف وغیرہ)مجھ تک اپنی حاجتیں نہیں پہنچا سکتے تم ان کی حاجتیں مجھ تک پہنچا دیا کرو کیو نکہ جو شخص کسی ایسے آدمی کی حاجت اختیار والے تک پہنچا تا ہے اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن پل صراط پر ثابت قدم رکھے گا۔
بارگاہ نبوی ایسی ہی باتوں کا ذکر ہوتا تھا اور دوسری فضول و بے فائدہ باتیں نہیں ہوتی تھیں۔ لوگ آپ کے پاس علم وفضل کی طلب میں آتے اورحصول علم کے علاوہ کچھ نہ کچھ کھا کر جاتے اور بھلائی کے رہبر بن کر جاتے۔
امام حسینرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، پھر میں نے دریافت کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا جو وقت گھرسے باہر گزرتا تھا اس میں آپ کیا کیا کرتے تھے؟سیدنا علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا،
’’آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلماکثرخاموش رہتے اور اپنی زبان مبارک کو مفید و ضروری کلام کے لیے ہی استعمال فرماتے، صحابہ کرام کو باہم محبت سکھاتے اور ان کو جدا نہ ہونے دیتے۔ آپ ہر قوم کے بزرگ کی عزت کرتے اور اُسے ان پر حاکم مقر ر فرماتے۔
آپ لو گوں کو عذاب سے ڈراتے اور ان سے احتراز کرتے لیکن اس کے باوجود ہر ایک سے خندہ پیشانی اور خوش اخلاقی سے پیش آتے۔ اپنے صحابہ کرام کی خبر گیری کرتے اور ان سے لوگوں کے حالات بھی دریافت فرماتے۔
آپ ہمیشہ اچھی بات کی تعریف اور تائید فرماتے اور بری بات کی برائی ظاہر فرماتے اور اس کی تردیدفرماتے۔آپ ہمیشہ میانہ روی اختیار فرماتے اور صحابہ کرام سے بے خبر نہ رہتے کہ کہیں وہ غافل یاسست نہ ہوجائیں۔آپ ہر حال میں مستعد رہتے اور حق سے کوتاہی نہ کرتے اور نہ ہی حق سے تجاوز فرماتے۔
جو لوگ آپ کی خدمت اقدس میں حاضر رہتے وہ سب لوگوں سے بہتر ہوتے۔ سب سے افضل آپ کے نزدیک وہ ہوتا جو لوگوں کا زیادہ خیر خواہ ہوتا، اور آپ کے نزدیک وہ شخص بڑے مرتبہ والاہوتاجو لوگوں کی مدد اور غم خواری کرتا اور ان سے اچھا برتاؤکرتا۔
امام حسین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، پھر میں نے اپنے والد گرامی سے آقاومولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی مجلس مبارک کا حال پوچھا تو انہوں نے فرمایا،
Share:
keyboard_arrow_up