آپ کے گھر کو ئی مہمان آتا تو اس کی بے حد تو اضع فرماتے، بار بار کھانے کو پوچھتے اور جب کھانا پیش فرماتے تو اصرار کے ساتھ کھلاتے۔()
رحمت عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلماکثر وبیشتر جنگل کی طرف نکل جاتے۔ کئی صحابہ کرام بھی آپ کے ساتھ ہوتے، وہاں آپ اور صحابہ کھاتے پیتے بھی اورلکڑیاں بھی جمع کرتے۔()
آپ اچھے اشعار کو پسند فرماتے تھے۔ آپ فرماتے کہ یہ شعر کا فروں کو تیر سے بھی زیادہ تیز لگتے ہیں۔(ترمذی)آپ حضرت حسان رضی اللہ عنہکے لیے مسجد میں منبر بچھاتے جس پر بیٹھ کر وہ حضورصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے فضائل و کمالات بیان فرماتے۔()
حضرت جابر بن سمرہرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی مبارک مجلس میں سو سے زائد مرتبہ بیٹھا۔ آپ کے سامنے صحابہ کرام شعر پڑھتے، زمانہ جاہلیت کی باتیں ایک دوسرے کو سناتے، آپ خاموش رہتے اور کبھی کبھی ان کے ساتھ مسکرا دیتے۔()
آقاومولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم حرام اور ناجائز باتوں کے علاوہ کسی بات پر اپنے اصحاب کو نہیں جھڑکتے تھے۔کوئی صحابی تین روز تک مجلس میں نہ آتا تولوگوں سے اس کے بارے میں دریافت فرماتے اور عذر معلوم ہونے پر اس کے لیے دعا فرماتے۔()
حضر ت امام حسین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے ماموں حضرت ہند بن ابی ہالہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا،’’رسول معظم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمہر وقت متفکر رہتے تھے اور آپ کو آرام و سکون سے کوئی واسطہ نہیں تھا آپ زیادہ ترخاموش رہتے اور بلاضرورت گفتگو نہ فرماتے۔ کلام کی ابتدا اور انتہا میں زیادہ وضاحت فرماتے، جامع کلمات کے ساتھ مفصل کلام فرماتے لیکن نہ کوئی لفظ ضرورت سے زائد ہو تا اور نہ کوئی کم۔ آپ نہ تو سخت طبیعت تھے اور نہ ہی دوسروں کو حقیر سمجھنے والے۔
حضورصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنعمت کی قدر فرماتے اگر چہ تھو ڑی ہی ہواور کسی نعمت کو برا نہیں سمجھتے تھے۔ کھانے پینے کی چیزوں کی نہ تو برائی کرتے اور نہ تعریف۔ آپ دنیا اور اس کے مال و متاع کی وجہ سے غضب ناک نہیں ہوتے تھے البتہ جب کہیں حق بات سے تجاوز کیا جاتا تو آپ کا غصہ اس وقت تک دور نہیں ہوتا تھا جب تک اس کا انتقام نہ لے لیتے۔ آپ اپنی ذات کے لیے نہ ناراض ہوتے اور نہ انتقام لیتے۔
آقاومولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم پورے ہاتھ سے اشارہ فرماتے اور جب تعجب فرماتے تو ہاتھ مبارک کو اوپر نیچے کرتے، اور جب گفتگو فرماتے تو دائیں ہتھیلی بائیں ہاتھ کے انگوٹھے کے پیٹ پر مارتے۔ جب آپ ناراض ہوتے تو چہرۂ انور کو پھیر لیتے اور کنارہ کش ہو جاتے، اور جب خوش ہوتے تو نگاہیں جھکالیتے۔ آپ کی ہنسی عموماًمسکراہٹ ہی ہوتی تھی اور آپ کے اولوں کی طرح سفید وچمکدار دندان مبارک ظاہر ہو جاتے تھے‘‘۔()
ایک اور روایت میں آپ کا ارشاد ہے کہ رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی خاموشی کے چار اسباب تھے :
اول:اندازہ
دوم:تفکر
سوم:حلم
چہارم:احتیاط
آپ کا اندازہ اس لیے تھا کہ سب حاضرین پر نظر رہے اور آپ ہر ایک کی بات پوری تو جہ سے سماعت فرمائیں۔
آپ کا تفکراس لیے تھا کہ آپ فنا ہو نے والی اورباقی رہنے والی چیزوں کی حقیقت سے آشنا تھے اور ان کے بارے میں سوچاکرتے تھے۔
آپ کا حلم صبرآمیز تھا اس لیے آپ کبھی بھی اپنی ذات کی خاطر غصہ نہ کرتے تھے۔
آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی احتیاط چار خوبیوں کی جامع تھی۔
اول:نیک باتیں اختیار کرنا تاکہ لوگ آپ کی پیروی کریں،
Page 81 of 120

