آپ کے گھر کوئی مہمان آتا تو اس کی بے حد تواضع فرماتے،باربار کھانے کو پوچھتے اور جب کھانا پیش فرماتے تو اصرار کے ساتھ کھلاتے۔ (سنن ابی داؤد،ج 1، ص179، حدیث نمبر:123)
رحمت عالم ﷺ اکثر و بیشتر جنگل کی طرف نکل جاتے۔ کئی صحابہ کرام بھی آپ کے ساتھ ہوتے، وہاں آپ اور صحابہ کھاتے پیتے بھی اور لکڑیاں بھی جمع کرتے۔ (کتاب الشفاء، ج2، ص297)
آپ اچھے اشعار کو پسند فرماتے تھے۔ آپ فرماتے کہ یہ شعر کافروں کو تیر سے بھی زیادہ تیز لگتے ہیں۔ (ترمذی)
آپ حضرت حسان رضی اللّٰہ عنہ کے لیے مسجد میں منبر بچھاتے جس پر بیٹھ کر وہ حضور ﷺ کے فضائل و کمالات بیان فرماتے۔
(سنن ابی داؤد،ج 13،ص202،حدیث نمبر:4361)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ:
میں حضور ﷺ کی مبارک مجلس میں سو سے زائد مرتبہ بیٹھا۔ آپ کے سامنے صحابہ کرام شعر پڑھتے، زمانہ جاہلیت کی باتیں ایک دوسرے کو سناتے، آپ خاموش رہتے اور کبھی کبھی ان کے ساتھ مسکرا دیتے۔ (شمائل ترمذی،ص204)
آقا و مولیٰ ﷺ حرام اور ناجائز باتوں کے علاوہ کسی بات پر اپنے اصحاب کو نہیں جھڑکتے تھے۔کوئی صحابی تین روز تک مجلس میں نہ آتا تو لوگوں سے اس کے بارے میں دریافت فرماتے اور عذر معلوم ہونے پر اس کے لیے دعا فرماتے۔ (السیرۃ الحلبیہ، ج3، ص 473)
حضرت امام حسین رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے ماموں حضرت ہند بن ابی ہالہ رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا،
’’رسول معظم ﷺ ہر وقت متفکر رہتے تھے اور آپ کو آرام و سکون سے کوئی واسطہ نہیں تھا آپ زیادہ تر خاموش رہتے اور بلا ضرورت گفتگو نہ فرماتے۔
کلام کی ابتدا اور انتہا میں زیادہ وضاحت فرماتے، جامع کلمات کے ساتھ مفصل کلام فرماتے لیکن نہ کوئی لفظ ضرورت سے زائد ہوتا اور نہ کوئی کم۔ آپ نہ تو سخت طبیعت تھے اور نہ ہی دوسروں کو حقیر سمجھنے والے۔
حضور ﷺ نعمت کی قدر فرماتے اگر چہ تھوڑی ہی ہو اور کسی نعمت کو برا نہیں سمجھتے تھے۔
کھانے پینے کی چیزوں کی نہ تو برائی کرتے اور نہ تعریف۔ آپ دنیا اور اس کے مال و متاع کی وجہ سے غضب ناک نہیں ہوتے تھے البتہ جب کہیں حق بات سے تجاوز کیا جاتا تو آپ کا غصہ اس وقت تک دور نہیں ہوتا تھا جب تک اس کا انتقام نہ لے لیتے۔ آپ اپنی ذات کے لیے نہ ناراض ہوتے اور نہ انتقام لیتے۔
آقا و مولیٰ ﷺ پورے ہاتھ سے اشارہ فرماتے اور جب تعجب فرماتے تو ہاتھ مبارک کو اوپر نیچے کرتے، اور جب گفتگو فرماتے تو دائیں ہتھیلی بائیں ہاتھ کے انگوٹھے کے پیٹ پر مارتے۔
جب آپ ناراض ہوتے تو چہرۂ انور کو پھیر لیتے اور کنارہ کش ہوجاتے، اور جب خوش ہوتے تو نگاہیں جھکا لیتے۔ آپ کی ہنسی عموماً مسکراہٹ ہی ہوتی تھی اور آپ کے اولوں کی طرح سفید و چمکدار دندان مبارک ظاہر ہو جاتے تھے‘‘۔
(شمائل ترمذی،ص36،35)
ایک اور روایت میں آپ کا ارشاد ہے کہ:
رحمتِ عالم ﷺ کی خاموشی کے چار اسباب تھے:
اول: اندازہ
دوم: تفکر
سوم:حلم
چہارم: احتیاط
آپ کا اندازہ اس لیے تھا کہ سب حاضرین پر نظر رہے اور آپ ہر ایک کی بات پوری تو جہ سے سماعت فرمائیں۔ آپ کا تفکر اس لیے تھا کہ آپ فنا ہو نے والی اور باقی رہنے والی چیزوں کی حقیقت سے آشنا تھے اور ان کے بارے میں سوچا کرتے تھے۔ آپ کا حلم صبر آمیز تھا اس لیے آپ کبھی بھی اپنی ذات کی خاطر غصہ نہ کرتے تھے۔

