سید عالم ﷺ جمعہ کے دن اور بعض روایات کے مطابق جمعرات کے دن اپنی مبارک مونچھیں اور ناخن اقدس ترا شتے تھے۔ آپ ناخن مبارک کا ٹنے کی ابتدا دائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی سے فرماتے اور پھر دائیں ہاتھ کے بعد بائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی سے انگوٹھے تک ناخن تراشتے اور آخر میں دائیں ہاتھ کے انگوٹھے کا ناخن تراشتے۔
آپ مسواک اور کنگھی کبھی جدا نہ فرماتے، اور سر اقدس میں جب تیل لگاتے تو داڑھی مبارک میں کنگھی فرماتے اور اپنا جمالِ بے مثال، آئینہ میں ملاحظہ فرماتے اور دعا فرماتے،
’’اے اللّٰہ! جیسے تو نے مجھے حسین تخلیق فرمایا ہے ایسے ہی میرے اخلاق اچھے بنا دے‘‘۔ (مواہب الدنیہ،ج6،ص5)
آپ کسی تاریک گھر میں اس وقت تک تشریف فرما نہ ہوتے جب تک اس میں چراغ نہ جلا دیا گیا ہو۔ آپ سبزہ اور بہتا ہوا پانی دیکھنا پسند فرماتے تھے۔ آپ سفر میں ہمیشہ سرمہ دانی، مسواک اور کنگھی ساتھ رکھا کر تے۔ آپ جب تیل لگاتے تو بائیں ہتھیلی پر تیل نکالتے اور پہلے بھنووں پر لگاتے پھر آنکھوں پر اور اس کے بعد سر میں لگاتے۔
بخاری ومسلم کی روایات میں نبی کریم ﷺ کے خضاب لگانے کی نفی مذکور ہے جبکہ ابن عمر رضی اللّٰہ عنہما کی روایت میں ہے کہ:
حضور ﷺ نے اپنی ریش مبارک کو زعفران اور ورس سے خضاب کیا ہے۔
(بخاری، 18، ح254، حدیث نمبر:5445، مسلم،ج4، ص1821، حدیث نمبر:2341)
امام نووی کہتے ہیں کہ:
آقائے دو جہاں ﷺ سے خضاب لگانا ثابت ہے مگر ایسا بہت کم ہوا ہے کیو نکہ آپ کی عادت مبارکہ خضاب نہ لگانے ہی کی ہے۔
(شرح مسلم،ج 14،ص80)
احناف اور شوا فع کے نزدیک سیاہ خضاب حرام ہے۔
آقا و مولیٰ ﷺ ہر پیر اور جمعرات کو روزہ رکھنے کا اہتمام فرماتے تھے۔ (شمائل ترمذی،ص251)
اُم المومنین سیدہ حفصہ رضی اللّٰہ عنہا فرماتی ہیں کہ:
آقا ومولیٰ ﷺ نویں ذی الحجہ اور دس محرم کو روزہ رکھتے تھے اور ہر ماہ میں کم از کم تین دن روزہ رکھتے تھے۔
(مواہب اللدنیہ،ج 11، ص291)
اُم المومنین سیدہ عائشہ رضی اللّٰہ عنہا فرماتی ہیں کہ:
آقا و مولیٰ ﷺ کبھی رات کی نماز (تہجد)نہیں چھوڑتے تھے، اگر طبیعت نا ساز ہوتی تو بیٹھ کر پڑھ لیتے۔آپ اشراق کی دو رکعتیں بھی کبھی ترک نہ فرماتے تھے۔
(بخاری، ج3، ص345،حدیث نمبر:796،مسلم،ج 1،ص410،حدیث نمبر:583)
نبی کریم ﷺ ہر فرض نماز کے بعد بلند آواز سے ذکرِ الٰہی فرماتے تھے۔ (وسائل الوصول، ص 264)
حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ:
حضور ﷺ جب لوگوں کو نماز پڑھاتے تو بہت مختصر نماز پڑھاتے اور جب تنہا نماز پڑھتے تو بہت طویل نماز ادا فرماتے۔
حضرت حذیفہ رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ:
آپ کو جب کو ئی رنج پیش آتا تو آپ نماز ادا فرماتے۔ نفل نمازیں گھر میں ادا کرنا آپ کو محبوب تھا۔ آپ ہر نماز کے بعد تین بار استغفار پڑھ کر پھر دعا فرماتے۔ آپ ماہ رمضان میں اس کثرت سے عبادت فرماتے کہ چہرۂ اقدس کا رنگ بدل جاتا،آپ آخری عشرے کی تمام راتیں جاگتے اور اعتکاف بھی فرماتے۔
(مسند ابی عوانہ،ج 2،ص261،حدیث نمبر:3073)
اگر آپ کے اصحاب میں سے کوئی بیمار ہوتا تو آپ ہر تیسرے روز اس کی عیادت کے لیے تشریف لے جاتے۔
آپ ایک دوسرے کو ہدیہ دینے کی تلقین فرماتے کیونکہ اس سے باہمی رابطہ اور محبت پیدا ہوتی ہے۔ آپ تحفہ قبول فرماتے اور اس کا بہتر بدلہ عنایت فرماتے۔
آپ کاارشادِ گرامی ہے،
تین چیزیں یعنی تکیہ، خوشبو اور دودھ جب دی جائیں تو انہیں لینے سے انکار نہیں کرنا چاہیے۔
(ترمذی، ج9، ص475،حدیث نمبر:2714)
جب کوئی آپ کو کھانے کی دعوت دیتا اور آپ کے ساتھ کوئی ایسا شخص بھی ہوتا جسے دعوت نہ دی گئی ہوتی تو آپ میزبان سے فرماتے، یہ شخص میرے ساتھ آگیا ہے اگر آپ اجازت دیں تو یہ کھانے میں شریک ہو ورنہ واپس چلا جائے۔ آپ تنہا کھانا تناول نہیں فرماتے تھے۔ آپ کو وہ دستر خوان زیادہ پسند تھا جس پر بہت سے لوگ مل کر کھانا کھائیں۔

