سید عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمجمعہ کے دن اور بعض روایات کے مطابق جمعرات کے دن اپنی مبارک مونچھیں اور ناخن اقدس ترا شتے تھے۔ آپ ناخن مبارک کا ٹنے کی ابتدا دائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی سے فرماتے اور پھر دائیں ہاتھ کے بعد بائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی سے انگوٹھے تک ناخن تراشتے اور آخر میں دائیں ہاتھ کے انگوٹھے کا ناخن تراشتے۔
آپ مسواک اور کنگھی کبھی جدانہ فرماتے، اور سر اقدس میں جب تیل لگاتے تو داڑھی مبارک میں کنگھی فرماتے اور اپنا جمالِ بے مثال، آئینہ میں ملاحظہ فرماتے اور دعا فرماتے ،
’’اے اللہ !جیسے تو نے مجھے حسین تخلیق فرمایا ہے ایسے ہی میرے اخلاق اچھے بنا دے‘‘۔()
آپ کسی تاریک گھر میں اس وقت تک تشریف فرمانہ ہو تے جب تک اس میں چراغ نہ جلا دیا گیاہو۔ آپ سبزہ اور بہتا ہو اپانی دیکھنا پسند فرماتے تھے۔آپ سفر میں ہمیشہ سرمہ دانی، مسواک اور کنگھی ساتھ رکھا کر تے۔ آپ جب تیل لگاتے تو بائیں ہتھیلی پر تیل نکالتے اورپہلے بھنووں پر لگاتے پھر آنکھوں پر اوراس کے بعد سر میں لگاتے۔
بخاری ومسلم کی روایات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے خضاب لگانے کی نفی مذکور ہے جبکہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے اپنی ریش مبارک کو زعفران اور ورس سے خضاب کیا ہے۔ ()
امام نووی کہتے ہیں کہ آقائے دو جہاںصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمسے خضاب لگانا ثابت ہے مگر ایسا بہت کم ہوا ہے کیو نکہ آپ کی عادت مبارکہ خضاب نہ لگانے ہی کی ہے۔()
احناف اور شوا فع کے نزدیک سیاہ خضاب حرام ہے۔
آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمہر پیر اور جمعرات کو روزہ رکھنے کا اہتمام فرماتے تھے۔()
اُم المومنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نویں ذی الحجہ اور دس محرم کو روزہ رکھتے تھے اور ہر ماہ میں کم از کم تین دن روزہ رکھتے تھے۔()
اُم المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکبھی رات کی نماز (تہجد)نہیں چھوڑتے تھے، اگر طبیعت ناساز ہوتی تو بیٹھ کر پڑھ لیتے۔آپ اشراق کی دو رکعتیں بھی کبھی ترک نہ فرماتے تھے۔()
نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمہر فرض نماز کے بعد بلند آواز سے ذکرِ الٰہی فرماتے تھے۔()
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمجب لوگوں کو نماز پڑھاتے تو بہت مختصر نماز پڑھاتے اور جب تنہا نماز پڑھتے تو بہت طویل نماز ادا فرماتے۔
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ کو جب کو ئی رنج پیش آتا تو آپ نماز ادا فرماتے۔ نفل نمازیں گھر میں ادا کرناآپ کو محبوب تھا۔ آپ ہر نماز کے بعد تین بار استغفار پڑھ کرپھر دعا فرماتے۔آپ ماہ رمضان میں اس کثرت سے عبادت فرماتے کہ چہرۂ اقدس کا رنگ بدل جاتا،آپ آخری عشرے کی تمام راتیں جاگتے اور اعتکاف بھی فرماتے۔()
اگر آپ کے اصحاب میں سے کوئی بیمار ہوتا توآپ ہر تیسرے روز اس کی عیادت کے لیے تشریف لے جاتے۔ آپ ایک دوسرے کو ہدیہ دینے کی تلقین فرماتے کیو نکہ اس سے باہمی رابطہ اور محبت پیدا ہوتی ہے۔ آپ تحفہ قبول فرماتے اور اس کا بہتر بدلہ عنایت فرماتے۔آپ کاارشادِ گرامی ہے، تین چیزیں یعنی تکیہ، خوشبو اور دودھ جب دی جائیں تو انہیں لینے سے انکار نہیں کرنا چاہیے۔()
جب کوئی آپ کو کھانے کی دعوت دیتا اور آپ کے ساتھ کو ئی ایسا شخص بھی ہوتا جسے دعوت نہ دی گئی ہوتی تو آپ میزبان سے فرماتے، یہ شخص میرے ساتھ آگیا ہے اگر آپ اجازت دیں تو یہ کھانے میں شریک ہو ورنہ واپس چلا جائے۔ آپ تنہا کھانا تناول نہیں فرماتے تھے۔ آپ کو وہ دستر خوان زیادہ پسند تھا جس پر بہت سے لوگ مل کر کھا نا کھائیں۔
Page 80 of 120

