آپ جب تک زمین کے قریب نہ ہو جاتے، اپنا کپڑا نہ ہٹاتے۔()
آپ نے برہنہ حالت میں باتیں کرنے سے منع فرمایا ہے۔()
آپ جب حالت جنابت میں ہوتے اور کچھ کھانا یا سونا چاہتے تو وضو فرما لیتے۔()
آپ بلاعذرِ شرعی، حالتِ جنابت میں رہنے کو سخت برا جانتے۔آپ کا ارشاد ہے، اُس گھر میں رحمت کے فرشتے نہیں آتے جہاں تصویر ، کتا یا ناپاک شخص ہو۔()
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آقاو مولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ چیز جھوٹ تھا۔ اگر کسی کے بارے میں آپ کو علم ہوجاتا کہ اس نے تھوڑی سی بھی غلط بیانی کی ہے تو آپ ناراض ہوتے اور اس سے اُس وقت تک گفتگو نہ فرماتے جب تک وہ توبہ نہ کرلیتا۔آپ کی عادت مبارکہ یہ تھی کہ کسی چیز سے نیک فال تولے لیتے مگر بری فال نہیں لیتے تھے۔()
نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمصحابہ کرام کی تربیت اور امت کی تعلیم کے لیے صحابہ کرام سے مشورہ فرماتے تھے۔ جب آپ خوش ہو تے تو چہرۂ انور چاند کی طرح چمکتا اور جب ناراض ہو تے تو ناراضگی کے آثار چہرۂ اقدس سے ظاہر ہو جاتے۔
جب آپ کو زیادہ جلال آتا تو آپ اپنی داڑھی مبارک کو زیادہ چھوتے اور جب آپ کو کو ئی خوشی کی بات معلوم ہوتی توسجدۂ شکر ادا فرماتے۔
جب بارش ہوتی تو حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اور صحابہ کرام اپنے مبارک سروں پر سے کپڑے ہٹا دیتے اور بارش کے قطروں کو سروں پر آنے دیتے۔ آپ فرماتے، ’’یہ بارش تازہ تازہ ہمارے پیارے رب تعالیٰ سے تعلق رکھنے والی اور بڑی برکت والی ہے‘‘۔()
حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکبھی آہستہ آواز سے تلاوت فرماتے اور کبھی بلند آواز سے، اور آپ ٹھہر ٹھہر کر یعنی واضح الفاظ میں تلاوت فرماتے تھے۔
سید ناابن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اتنی بلند آواز سے تلاوت فرماتے کہ حجرہ مبارک سے باہر صحن میں آواز سنی جاسکتی تھی البتہ ازواج مطہرات کے حجروں سے آگے آپ کی تلاوت کی آوا ز نہیں جاتی تھی۔ ()
آقا ومولیٰصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم تین رات دن سے کم وقت میں قرآن کریم ختم نہیں فرماتے تھے اور جب قرآن پاک ختم فرماتے توکھڑے ہو کر دعا مانگتے تھے۔()
آپ جب قرآن پاک ختم فرماتے تو تمام اہل وعیال کو جمع کرکے دعا فرماتے اورختم قرآن کے وقت قرآن حکیم کی ابتدائی پانچ آیات بھی تلاوت فرماتے۔()
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نماز چاشت ادا فرمانے کے بعد ازواج مطہرات کے حجروں میں تشریف لے جاتے اور گھریلو ضروریات کا اہتمام فرماتے اور گھر کے کاموں میں ان کی مدد فرماتے۔()
آقا کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم دوپہر کو قیلولہ فرماتے۔ آپ نماز عصر کے بعد ازواج مطہرات کے حجروں میں تھوڑی دیر تشریف فرماہوتے اور ان سے گفتگو فرماتے پھر جس زوجہ کی باری ہوتی وہیں تمام ازواج مطہرات جمع ہو جاتیں اور آپ ان سے بات چیت فرماتے۔ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمعشاء کے بعد دنیا وی گفتگو ناپسند فرماتے تھے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا ارشاد ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم عشاء کے بعد رات کے ابتدائی وقت میں استراحت فرماتے پھر نصف شب کے بعد نماز کے لیے قیام فرماتے اور تہجد ادا فرماتے۔ پھر شب کے آخر میں وتر پڑھتے، اس کے بعد بستر پر تشریف لے آتے، اگر رغبت ہوتی تو زوجہ مطہرہ کے پاس جاتے۔پھر صبح کی اذان کے فوراًبعد اگر ضرورت ہوتی تو غسل فرماتے ورنہ وضو کرکے نماز کے لیے تشریف لے جاتے۔()
Page 79 of 120

