Jamal e Mustafa

Total Pages: 118

Page 79 of 118

آپ جب تک زمین کے قریب نہ ہو جاتے، اپنا کپڑا نہ ہٹاتے۔
(
سنن ابی داؤد، ص1، ص20،حدیث نمبر:13)

آپ نے برہنہ حالت میں باتیں کرنے سے منع فرمایا ہے۔
(
سنن ابی داؤد، ص1، ص22،حدیث نمبر:14)

آپ جب حالت جنابت میں ہوتے اور کچھ کھانا یا سونا چاہتے تو وضو فرما لیتے۔ (بخاری،ج 1، ص476،حدیث نمبر:277)

 

آپ بلاعذرِ شرعی، حالتِ جنابت میں رہنے کو سخت برا جانتے۔آپ کا ارشاد ہے، اُس گھر میں رحمت کے فرشتے نہیں آتے جہاں تصویر ، کتا یا ناپاک شخص ہو۔ (سنن ابی داؤد،ج 11، ص202، حدیث نمبر:3623)

 

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ عنہا فرماتی ہیں کہ:

آقا و مولیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ چیز جھوٹ تھا۔ اگر کسی کے بارے میں آپ کو علم ہوجاتا کہ اس نے تھوڑی سی بھی غلط بیانی کی ہے تو آپ ناراض ہوتے اور اس سے اُس وقت تک گفتگو نہ فرماتے جب تک وہ توبہ نہ کرلیتا۔آپ کی عادت مبارکہ یہ تھی کہ کسی چیز سے نیک فال تو لے لیتے مگر بری فال نہیں لیتے تھے۔ (وسائل الوصول الیٰ شمائل الرسول)

 

نبی کریم صحابہ کرام کی تربیت اور امت کی تعلیم کے لیے صحابہ کرام سے مشورہ فرماتے تھے۔ جب آپ خوش ہوتے تو چہرۂ انور چاند کی طرح چمکتا اور جب ناراض ہو تے تو ناراضگی کے آثار چہرۂ اقدس سے ظاہر ہو جاتے۔ جب آپ کو زیادہ جلال آتا تو آپ اپنی داڑھی مبارک کو زیادہ چھوتے اور جب آپ کو کوئی خوشی کی بات معلوم ہوتی توسجدۂ شکر ادا فرماتے۔

جب بارش ہوتی تو حضور اور صحابہ کرام اپنے مبارک سروں پر سے کپڑے ہٹا دیتے اور بارش کے قطروں کو سروں پر آنے دیتے۔ آپ فرماتے، ’’یہ بارش تازہ تازہ ہمارے پیارے رب تعالیٰ سے تعلق رکھنے والی اور بڑی برکت والی ہے‘‘۔ (سنن ابی داؤد،ج 13،ص298،حدیث نمبر:4436)

 

حضور کبھی آہستہ آواز سے تلاوت فرماتے اور کبھی بلند آواز سے، اور آپ ٹھہر ٹھہر کر یعنی واضح الفاظ میں تلاوت فرماتے تھے۔

 

سیدنا ابن عباس رضی اللّٰہ عنہما فرماتے ہیں کہ:

آقا و مولیٰ اتنی بلند آواز سے تلاوت فرماتے کہ حجرہ مبارک سے باہر صحن میں آواز سنی جا سکتی تھی البتہ ازواج مطہرات کے حُجروں سے آگے آپ کی تلاوت کی آواز نہیں جاتی تھی۔
(
مسند احمد،ج1، ص154، حدیث نمبر:150)

 

آقا و مولیٰ تین رات دن سے کم وقت میں قرآن کریم ختم نہیں فرماتے تھے اور جب قرآن پاک ختم فرماتے تو کھڑے ہوکر دعا مانگتے تھے۔ (سنن دارمی،ج 2، ص560،حدیث نمبر:3474)

 

آپ جب قرآن پاک ختم فرماتے تو تمام اہل وعیال کو جمع کر کےدعا فرماتے اور ختم قرآن کے وقت قرآن حکیم کی ابتدائی پانچ آیات بھی تلاوت فرماتے۔ (کنز العمال،ج 2، ص349،حدیث نمبر:4219،معنا)

 

حضور نبی کریم  نماز چاشت ادا فرمانے کے بعد ازواج مطہرات کے حجروں میں تشریف لے جاتے اور گھریلو ضروریات کا اہتمام فرماتے اور گھر کے کاموں میں ان کی مدد فرماتے۔
(
بخاری، ج4، ص169،حدیث نمبر:991)

 

آقا کریم ﷺ   دوپہر کو قیلولہ فرماتے۔ آپ نماز عصر کے بعد ازواج مطہرات کے حجروں میں تھوڑی دیر تشریف فرما ہوتے اور ان سے گفتگو فرماتے پھر جس زوجہ کی باری ہوتی وہیں تمام ازواج مطہرات جمع ہوجاتیں اور آپ ان سے بات چیت فرماتے۔حضور ﷺ   عشاء کے بعد دنیاوی گفتگو ناپسند فرماتے تھے۔

حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا کا ارشاد ہے کہ:

حضور ﷺ   عشاء کے بعد رات کے ابتدائی وقت میں استراحت فرماتے پھر نصف شب کے بعد نماز کے لیے قیام فرماتے اور تہجد ادا فرماتے۔ پھر شب کے آخر میں وتر پڑھتے، اس کے بعد بستر پر تشریف لے آتے، اگر رغبت ہوتی تو زوجہ مطہرہ کے پاس جاتے۔پھر صبح کی اذان کے فوراً بعد اگر ضرورت ہوتی تو غسل فرماتے ورنہ وضو کرکے نماز کے لیے تشریف لے جاتے۔ (شمائل ترمذی،ص223)

Share:
keyboard_arrow_up