Jamal e Mustafa

Total Pages: 118

Page 78 of 118

17...معمولات مبارکہ:

نبی کریم جب نماز فجر ادا فرما لیتے تو مدینہ طیبہ کے لونڈی غلام آپ کی خدمت اقدس میں پانی کے برتن لے آتے،آپ ان میں اپنادست مبارک ڈبو دیتے تاکہ وہ پانی برکت والا ہو جائے۔(مسلم، ج1، ص55، حدیث نمبر:27)

 

پھر آپ صحابہ کرام کی طرف متوجہ ہو کر دریافت فرماتے کہ کیا کسی نے کو ئی خواب دیکھا ہے، اگر کوئی خواب بیان کرتا تو اس کی تعبیر ارشاد فرماتے۔ (بخاری، ج4،ص280، حدیث نمبر:1054)

 

آقا یہ بھی دریافت فرماتے کہ:

کیا کو ئی بیمار ہے جس کی عیادت کی جائے یا کوئی جنازہ ہے جس کی نماز ادا کی جائے، اگر ایسا ہوتا تو ان امور کو ادا فرماتے۔ جب اپنے صحابہ سے ملتے تو سلام میں پہل فرماتے اور گرم جوشی سے دونوں ہا تھوں سے مصافحہ فرماتے اور جب تک دوسرا شخص خود ہاتھ نہ چھوڑتا آپ ہاتھ نہ چھڑاتے۔

بخاری و مسلم میں ہے کہ:

حضور بچو ں کے پاس سے گذرے تو آپ نے انہیں سلام کیا۔ آپ پیدل چلنے کو پسند فرماتے اور آپ نے گھوڑے، دراز گوش اور اونٹنی پر بھی سواری فرمائی ہے۔ آپ پیدل چلتے تو عموماً کوئی چھڑی یا عصا لے کر چلتے۔ (صحیح بخاری، ج19، ص269، حدیث نمبر:5778، مسلم، ج4، ص1805، حدیث نمبر:2310)

 

حضور ظاہری صفائی کا بے حد اہتمام فرماتے اور لوگوں کو بھی اس کی تلقین فرماتے۔ آپ لباس و جسم کی صفائی،مسواک کے ذریعے منہ اور دانتوں کی صفائی اور الجھے ہو ئے بالوں کی صورت میں کنگھی کرنے کی ترغیب دیتے تھے۔

آپ تمام کا موں میں آسانی کو اختیار فرما تے، جب کو ئی نیک کام شروع فرماتے تو اسے ہمیشہ کیا کرتے، آپ حاجت مندوں کی ضرورت پوری فرماتے۔

اور مسند احمد میں ہے کہ:

جب کو ئی آپ کی خدمت میں مستحقین کے لیے مال لا تا تو آپ اس کےلیے رحمت کی دعافرماتے۔ آپ کسی سائل کوانکار نہ فرماتے اگر دینے کو کچھ نہ ہو تا تو نرمی سے فرماتے کہ فلاں وقت لے جانا۔کسی سے ناراضگی کا اظہار فرماتے تو چہرۂ اقدس اس سے پھیر لیتے لیکن زبان سے کچھ نہ فرماتے اور جب خوش ہو تے تو نگاہ نیچی فرما لیتے۔

جب کو ئی آپ کے پاس آتا جس کا نام آپ کو پسند نہ ہوتا تو اس کا نام تبدیل فرما دیتے۔ جب کوئی آپ کے پاس حاضر ہو تا اور آپ اسے خوش دیکھتے تو اس کا ہاتھ اپنے دست اقدس میں لے لیتے تاکہ اُنسیت و محبت ہو جائے۔ (مسلم ، ج3، ص1686، حدیث نمبر:2139)

 

حضور ﷺ  کو جب چھینک آتی تو اپنے چہرۂ انور کو ہاتھ یا کپڑے سے ڈھانپ لیتے اور آواز کو پست فرماتے۔
(
سنن ابی داؤد،ج 13، ص218،حدیث نمبر:4374)

 

جب آپ کو چھینک آتی تو الحمدللّٰہ فرماتے۔ جب کسی کو چھینک آتی اور وہ الحمدللّٰہ کہتا تو آپ یرحمک اللّٰہ فرماتے۔
(
بخاری، ج19، ص229، حدیث نمبر:5756، مسلم، ج4، ص1704،حدیث نمبر:2162)

 

آپ جب کسی کے گھر تشریف لے جاتے تو دروازے کے سامنے نہ کھڑے ہوتے بلکہ دائیں یا بائیں کھڑے ہو تے اور گھر والوں کی اطلاع کے لیے فرماتے، السلام علیکم۔ (سنن ابی داؤد، ج13، ص398، حدیث نمبر:4512)

 

آقا و مولیٰ کا ارشادِ گرامی ہے کہ:

کسی شخص کو حلال نہیں کہ وہ دوسرے کے گھر میں بغیر اجازت کے دیکھے۔ (ترمذی،ج 9، ص340، حدیث نمبر:2632)

 

آپ کا یہ بھی ارشاد ہے کہ: جب کسی کو جمائی آئے تو اسے دور کرنے کی کو شش کرے۔(بخاری، ج11،ص66، حدیث نمبر:3046) اورمنہ پر ہاتھ بھی رکھنا چاہیے کیو نکہ شیطان منہ میں گھس جا تا ہے۔
(
مسلم، ج4، ص2293، حدیث نمبر:2995)

 

نبی کریم جب بیت الخلا میں داخل ہوتے تو فرما تے،

بِسْمِ اللّٰہِ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ ِبکَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ.

’’اللّٰہ تعالیٰ کا نام لے کر (داخل ہو تا ہوں)۔ اے اللّٰہ !میں خبیث جنوں اور جنیوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں‘‘۔

(بخاری، ج1، ص246،حدیث نمبر:139، ترمذی،ج1، ص10 ، حدیث نمبر:5)

 

آپ جب بیت الخلا سے باہر تشریف لاتے تو فرماتے،

غُفْرَانَکَ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَذْھَبَ عَنِّی الْاَذٰی وَعَافَانِیْ۔

’’الٰہی !تیری بخشش چاہتا ہوں۔ اللّٰہ تعالیٰ کا شکر ہے جس نے مجھ سے تکلیف دہ چیز دور کی اور مجھے آرام عطا کیا‘‘۔
(سنن ابن ماجہ،ج 1، ص356،حدیث نمبر:297، کنز العمال، ج7، ص44، حدیث نمبر:17869)

 

رحمت عالم ﷺ  نے رفع حاجت کے وقت قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کرنے اور دائیں ہاتھ سے استنجا کرنے سے منع فرمایا۔
(
مسلم، ج2،ص882،حدیث نمبر:1216)

Share:
keyboard_arrow_up