پھر آپ صحابہ کرام کی طرف متو جہ ہو کر دریافت فرماتے کہ کیا کسی نے کو ئی خواب دیکھا ہے، اگر کو ئی خواب بیان کرتا تو اس کی تعبیر ارشاد فرماتے۔()
آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمیہ بھی دریا فت فرماتے کہ کیا کو ئی بیمار ہے جس کی عیادت کی جائے یا کوئی جنازہ ہے جس کی نماز ادا کی جائے، اگر ایسا ہو تا تو ان امورکو ادا فرماتے۔ جب اپنے صحابہ سے ملتے تو سلام میں پہل فرماتے اور گر مجوشی سے دونوں ہا تھوں سے مصافحہ فرماتے اورجب تک دوسرا شخص خود ہا تھ نہ چھوڑتا آپ ہاتھ نہ چھڑاتے۔
بخاری و مسلم میں ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم بچو ں کے پاس سے گذرے تو آپ نے انہیں سلام کیا۔ آپ پیدل چلنے کو پسند فرماتے اور آپ نے گھوڑے، دراز گوش اور اونٹنی پر بھی سوار ی فرمائی ہے۔ آپ پیدل چلتے تو عمو ماً کو ئی چھڑی یا عصا لے کر چلتے۔()
حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ظاہری صفائی کا بے حد اہتمام فرماتے اور لو گوں کو بھی اس کی تلقین فرماتے۔ آپ لباس و جسم کی صفائی ، مسواک کے ذریعے منہ اور دانتوں کی صفائی اور الجھے ہو ئے بالوں کی صورت میں کنگھی کرنے کی ترغیب دیتے تھے۔ آپ تمام کا موں میں آسانی کو اختیار فرما تے، جب کو ئی نیک کام شروع فرماتے تو اسے ہمیشہ کیا کرتے، آپ حاجت مندوں کی ضرورت پوری فرماتے۔ اور مسند احمد میں ہے کہ جب کو ئی آپ کی خدمت میں مستحقین کے لیے مال لا تا تو آپ اس کے لیے رحمت کی دعا فرماتے۔
آپ کسی سائل کو انکار نہ فرماتے، اگر دینے کو کچھ نہ ہو تا تو نرمی سے فرماتے کہ فلاں وقت لے جانا۔کسی سے ناراضگی کا اظہار فرماتے تو چہرۂ اقدس اس سے پھیر لیتے لیکن زبان سے کچھ نہ فرماتے اور جب خوش ہو تے تو نگاہ نیچی فرمالیتے۔
جب کو ئی آپ کے پاس آتا جس کا نام آپ کو پسند نہ ہوتا تو اس کا نام تبدیل فرما دیتے۔ جب کوئی آپ کے پاس حاضر ہو تا اور آپ اسے خوش دیکھتے تو اس کا ہاتھ اپنے دست اقدس میں لے لیتے تاکہ اُنسیت و محبت ہو جائے۔()
حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو جب چھینک آتی تو اپنے چہرۂ انور کوہا تھ یا کپڑے سے ڈھانپ لیتے اور آواز کو پست فرما تے۔()
جب آپ کو چھینک آتی تو الحمد للہ فرماتے۔جب کسی کو چھینک آتی اور وہ الحمد للہ کہتا توآپ یر حمک اللہ فرماتے۔()
آپ جب کسی کے گھر تشریف لے جا تے تو دروازے کے سامنے نہ کھڑے ہوتے بلکہ دائیں یا بائیں کھڑے ہو تے اور گھر والوں کی اطلاع کے لیے فرماتے، السلام علیکم۔()
آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکا ارشادِ گرامی ہے کہ کسی شخص کو حلال نہیں کہ وہ دوسرے کے گھر میں بغیر اجازت کے دیکھے۔()
آپ کا یہ بھی ارشاد ہے کہ جب کسی کو جمائی آئے تو اسے دور کرنے کی کو شش کرے۔()اورمنہ پر ہاتھ بھی رکھنا چاہیے کیو نکہ شیطان منہ میں گھس جا تا ہے۔()
نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمجب بیت الخلا میں داخل ہوتے تو فرما تے،
بِسْمِ اللّٰہِ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ ِبکَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ.
’’اللہ تعالیٰ کا نام لے کر (داخل ہو تا ہوں)۔ اے اللہ !میں خبیث جنوں اور جنیوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں‘‘۔()
آپ جب بیت الخلا سے باہر تشریف لاتے تو فرماتے،
غُفْرَانَکَ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَذْھَبَ عَنِّی الْاَذٰی وَعَافَانِیْ۔
’’الٰہی !تیری بخشش چاہتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے جس نے مجھ سے تکلیف دہ چیزدورکی اور مجھے آرام عطا کیا‘‘۔()
رحمت عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے رفع حاجت کے وقت قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کرنے اور دائیں ہاتھ سے استنجا کرنے سے منع فرمایا۔()
Page 78 of 120

