16...اسلامی تفریحی مشاغل:
دینِ فطرت، اسلام فرض و نفلی عبادات کے ساتھ ساتھ ان تفریحی مشاغل کی اجازت بھی دیتا ہے جن سے احکام الٰہی کی خلاف ورزی نہ ہوتی ہو، معاشرے میں کوئی خرابی نہ پھیلتی ہو اور نہ وہ اللّٰہ تعالیٰ کی یاد سے غفلت کا باعث ہوں۔
آقا و مولیٰ ﷺ کے قائم کردہ معاشرے میں مسلمانوں کے تفریحی مشاغل اور اس حوالے سے نبی کریم ﷺ کی سیرت مبارکہ کو پیش نظر رکھ کر ہم اپنے تفریحی مشاغل کی حدود کا تعین کرسکتے ہیں۔
رحمتِ عالم ﷺ نے جن تفریحی مشاغل کو پسند فرمایا ہے وہ نہ صرف مسلمانوں کے لیے تفریح طبع کا باعث ہو تے بلکہ وہ جسمانی طور پر طاقت میں اضافہ کا بھی ذریعہ ہوتے اور جہاد کے لیے عملی تربیت بھی ثابت ہوتے۔ کم نصیبی سے آج جن چیزوں کو تفریح سمجھ لیا گیا ہے وہ نہ صرف بے حیائی اور گناہوں پر مشتمل ہیں بلکہ مسلمانوں کو جسمانی اور روحانی طور پر ناکارہ بنا دیتے ہیں اور کھیل کے طور پر جن مشاغل کو اپنایا گیا ہے، وہ معاشرتی ذمہ داریوں کے علاوہ بندے کو احکام الٰہی سے بھی غافل کر دیتے ہیں۔
نبی کریم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے،
ہر وہ چیز جس سے مرد کھیلے، باطل ہے۔ (ترمذی،ج 6،ص187، حدیث نمبر:1516)
اس حدیث پاک میں آقا ﷺ نے ان تمام مشاغل سے منع فرمایا ہے جو احکام الٰہی سے غافل کرتے ہوں یا ان سے کوئی جسمانی و روحانی فائدہ نہ ہوتا ہو۔
ایک اورحدیث شریف میں ارشاد ہوا،
طاقتور مومن اللّٰہ تعالیٰ کو کمزور مومن سے زیادہ محبوب ہے۔
(مشکوٰۃ، ج3، ص148،حدیث نمبر:5298)
حضور ﷺ کا رکانہ پہلوان کو تین بار کشتی میں پچھاڑ دینے کا واقعہ پہلے بیان کیا گیا،
اہل سیر نے لکھا ہے کہ حضور ﷺ لو گوں کو ورزش کا شوق دلایا کرتے تھے۔ حضور ﷺ لو گوں کو نشانہ بازی کی ترغیب دیا کرتے۔ ایک بار آپ نے نشانہ بازی کی مشق کے لیے دو فریق بنا دیے پھر فرمایا، تیر چلاؤ !میں فلاں فریق کی جانب ہوں۔ یہ سن کر دوسرا فریق تیر چلانے سے رک گیا اور عرض گذار ہوا، آقا! جب آپ ﷺ اس فریق کی طرف ہیں تو پھر ہم ان کے خلاف تیر کس طرح چلاسکتے ہیں؟ آپ نے فرمایا، ’’تیر چلاؤ! میں تم سب کے ساتھ ہوں۔
(بخاری،ج 10،ص30،حدیث نمبر:2684)
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ:
میں نے آقا ﷺ کو منبر پر یہ فرماتے سنا کہ کافروں سے لڑنے کے لیے تم اپنی قوت جس قدر مضبوط کرسکو، ضرور کرو۔ خبردار !قوت تیر اندازی میں ہے۔یہ بات آپ نے تین بار فرمائی۔
(مسلم،ج 3، ص1522، حدیث نمبرْ؛1917)
ایک اور جگہ ارشاد فرمایا،
تم تیرا ندازی ضرور سیکھو، یہ بہترین کھیل ہے۔ نبی کریم ﷺ بہترین شہ سوار تھے۔
بخاری میں ہے کہ:
رسول معظم ﷺ کے حکم سے گھوڑوں کی دوڑ کرائی جاتی تھی۔ آپ اونٹوں کو بھی دوڑاتے تھے۔
ایک اور روایت میں ہے کہ:
آپ کی اونٹنی ہمیشہ دوڑ میں سبقت لے جاتی تھی۔ ایک بار کسی بدو کا اونٹ آگے نکل گیا تو صحابہ کرام کو سخت صدمہ ہوا۔
آپ نے فرمایا،
اللّٰہ تعالیٰ کو زیبا ہے کہ جو چیز گردن اٹھائے، اُسے نیچادکھا دے۔
(مسلم ج3، ص1262،حدیث نمبر:1641)
ستر پوشی کے ساتھ پیرا کی اچھی ور زش بھی ہے اور کھیل بھی۔
سیدنا عمر رضی اللّٰہ عنہ کا ارشاد ہے کہ:
اپنی اولاد کو تیراکی اور تیراندازی سکھاؤ اور ان سے کہو کہ گھوڑے پر چھلانگ لگا کر سوار ہوا کریں۔ (کنز العمال،ج 4، ص467)
حضور ﷺ صبح سویرے اُٹھنے کی بے حد تلقین فرمایا کرتے تھے۔ آپ نیزہ بازی اور شمشیر زنی کو بھی پسند فرماتے، ایک مرتبہ عید کے دن آپ نے حبشیوں کو نیزہ بازی کے کرتب دکھانے کی اجازت عطا فرمائی۔ (بخاری،ج 16،ص190،حدیث نمبر:4791)
دوڑنا اور دوڑ میں ایک دوسرے کا مقابلہ کرنا بہترین کھیل بھی ہے اور جسم کے لیے مفید بھی، متعدد روایات سے ثابت ہے کہ بعض صحابہ کرام دوڑنے میں بہت تیز رفتار تھے اور دوڑنے میں ایک دوسرے سے مقابلہ کیا کرتے تھے۔
اس تمام گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ صرف ان تفریحی مشاغل کی اجازت دیا کرتے جن سے احکام الٰہی کی نفی بھی نہ ہوتی اور وہ جسمانی اور ذہنی طور پر فائدہ مند ہو تے نیز یہ کہ ان تمام مشاغل کے باوجود صحابہ کرام یادِ الٰہی سے غافل نہ ہوتے۔
حضرت بلال بن سعد رضی اللّٰہ عنہ کا ارشاد ہے کہ:
میں نے صحابہ کرام کو دوڑنے کا مقابلہ کرتے اور انہیں آپس میں ہنستے ہو ئے بھی دیکھا ہے لیکن جب رات ہوتی تو وہ راہب یعنی تارک الدنیا بن جاتے۔ (مشکوٰۃ، ج3، ص287، حدیث نمبر:5918)

