نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکا ارشادِ گرامی ہے، ہر وہ چیز جس سے مرد کھیلے، باطل ہے۔()
اس حدیث پاک میں آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے ان تمام مشاغل سے منع فرمایاہے جو احکام الٰہی سے غافل کرتے ہوں یاان سے کوئی جسمانی وروحانی فائدہ نہ ہوتا ہو۔ایک اورحدیث شریف میں ارشاد ہوا، طاقتو رمومن اللہ تعالیٰ کو کمزور مومن سے زیادہ محبوب ہے۔()
حضورصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکا رکانہ پہلوان کو تین بارکشتی میں پچھاڑ دینے کا واقعہ پہلے بیان کیا گیا ، اہل سیر نے لکھا ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلملو گوں کو ورزش کا شوق دلایا کرتے تھے۔
حضورصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلملو گوں کو نشانہ بازی کی ترغیب دیا کرتے۔ ایک بار آپ نے نشانہ بازی کی مشق کے لیے دو فریق بنادیے پھر فرمایا، تیر چلاؤ !میں فلاں فریق کی جانب ہوں۔
یہ سن کردوسرا فریق تیر چلانے سے رک گیا اور عرض گذار ہوا، آقا! جب آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اس فریق کی طرف ہیں تو پھر ہم ان کے خلاف تیر کس طرح چلاسکتے ہیں؟
آپ نے فرمایا،’’تیر چلاؤ!میں تم سب کے ساتھ ہوں۔()
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو منبر پر یہ فرماتے سنا کہ کافروں سے لڑنے کے لیے تم اپنی قوت جس قدر مضبوط کر سکو، ضرور کرو۔ خبردار !قوت تیراندازی میں ہے۔یہ بات آپ نے تین بار فرمائی۔()
ایک اور جگہ ارشاد فرمایا، تم تیرا ندازی ضرور سیکھو، یہ بہترین کھیل ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمبہترین شہسوار تھے۔بخاری میں ہے کہ رسول معظم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے حکم سے گھوڑوں کی دوڑکرائی جاتی تھی۔ آپ اونٹوں کو بھی دوڑاتے تھے۔
ایک اور روایت میں ہے کہ آپ کی اونٹنی ہمیشہ دوڑ میں سبقت لے جاتی تھی۔ ایک بارکسی بدو کا اونٹ آگے نکل گیاتو صحابہ کرام کو سخت صدمہ ہوا۔آپ نے فرمایا، اللہ تعالیٰ کو زیبا ہے کہ جو چیز گردن اٹھائے، اُسے نیچادکھا دے۔()
ستر پوشی کے ساتھ پیرا کی اچھی ورزش بھی ہے اورکھیل بھی۔ سیدنا عمررضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ اپنی اولاد کو پیرا کی اور تیر اندازی سکھا ؤاوران سے کہو کہ گھوڑے پر چھلانگ لگا کر سوار ہوا کریں۔()
حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم صبح سویرے اُٹھنے کی بے حد تلقین فرمایا کرتے تھے۔ آپ نیزہ بازی اور شمشیر زنی کو بھی پسند فرماتے، ایک مرتبہ عید کے دن آپ نے حبشیوں کو نیزہ بازی کے کرتب دکھانے کی اجازت عطا فرمائی۔()
دوڑنا اور دوڑمیں ایک دوسرے کا مقابلہ کرنا بہترین کھیل بھی ہے اور جسم کے لیے مفید بھی، متعد دروایات سے ثابت ہے کہ بعض صحابہ کرام دوڑنے میں بہت تیز رفتار تھے اور دوڑنے میں ایک دوسرے سے مقابلہ کیا کرتے تھے۔
اس تمام گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمصرف ان تفریحی مشاغل کی اجازت دیا کرتے جن سے احکام الٰہی کی نفی بھی نہ ہوتی اور وہ جسمانی اور ذہنی طور پر فائدہ مند ہو تے نیز یہ کہ ان تمام مشاغل کے باوجود صحابہ کرام یادِ الٰہی سے غافل نہ ہوتے۔
حضرت بلال بن سعدرضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ میں نے صحابہ کرام کو دوڑنے کا مقابلہ کرتے اور انہیں آپس میں ہنستے ہو ئے بھی دیکھا ہے لیکن جب رات ہوتی تو وہ راہب یعنی تارک الدنیا بن جاتے۔()
17...معمو لات مبارکہ:
نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمجب نماز فجر ادا فرمالیتے تو مدینہ طیبہ کے لونڈی غلام آپ کی خدمت اقدس میں پانی کے برتن لے آتے ، آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ان میں اپنادست مبارک ڈبو دیتے تاکہ وہ پانی برکت والا ہو جائے۔()
Page 77 of 120

