Jamal e Mustafa

Total Pages: 118

Page 76 of 118

منقیٰ چہرے کے رنگ کو نکھا رتا اور بلغم خارج کرتا ہے۔
(
کتاب الشفاء، ج2، ص39)

کدو عقل کو زیادہ کرتا ہے اور دماغ کو طاقت دیتا ہے۔

(کنز العمال، ج14، حدیث نمبر:40990)

آب زمزم جس مقصد کے لیے پیا جائے گا ،وہی فائدہ دے گا۔

(ابن ابی شیبہ، حدیث نمبر:24191)

گو شت کو دانتو ں سے نوچ کر کھانا چاہیے۔
(
بخاری، ج9،ص15، حدیث نمبر:2382)

بے شک پشت کا گو شت بڑا اچھا ہو تا ہے۔
(
بخاری، ج14، ص322، حدیث نمبر:4343)

میتھی سے شفا حاصل کیا کرو۔
(
الکامل،ج 1، ص188، معنا)

کھمبی آنکھوں کے لیے شفا ہے۔
(
سنن ابن ماجہ، ج10، ص259، حدیث نمبر:3445)

گو شت کھانے سے سماعت میں اضافہ ہوتاہے۔
(
مدارج النبوۃ، ج1، ص 458)

عجوہ کھجور جنت سے ہے اور وہ جنون یا زہر سے بھی شفا ہے۔
(
ابن ماجہ، ج10،ص260،حدیث نمبر:3446)

اثمد سرمہ لگایا کرو کہ وہ بینائی زیادہ کرتا ہے اور پلکوں کے بال اگاتا ہے۔ (شمائل ترمذی،ص63)

مکھی کے ایک پر میں زہر اور دوسرے میں شفا ہے اگر کھانے پینے کی چیز میں مکھی گر جائے تو اسے ڈبو کر نکال دو کیو نکہ وہ پہلے اُس پر کو گراتی ہے جس میں زہر ہے۔
(
بخاری، ج18، ص79، حدیث نمبر:5336)

حضور کو جب کانٹا چبھایا پھنسی وغیرہ کا زخم ہوا، آپ نے اس پر مہندی لگائی۔
(
ترمذی،ج7، ص378، حدیث نمبر:1773)

آپ نے آشوب چشم کے لیے کھجور سے پرہیز اور جو و چقندر کا کھانا مفید بتایا۔
(
ترمذی ، ج12، ص187، حدیث نمبر:3658)

دھوپ سے گرم شدہ پانی کے استعمال کو برص کا سبب فرمایا۔
(
سنن دارقطنی،ج 1، ص38، حدیث نمبر:2)

نبی کریم نے صفائی کو نصف ایمان قرار دیا۔
(
مسلم، ج2، ص3، حدیث نمبر:328)

کھانے پینے کی چیزوں کو ڈھانپ کر رکھنے کا حکم دیا۔
(
بخاری، ج11، ص83، حدیث نمبر:3058،  مسلم ،ج10، ص286، حدیث نمبر:3756)

آپ نے با رہا مسواک کرنے کی تاکید فرمائی۔
(
بخاری،ج 3، ص405، حدیث نمبر:838، مسلم، ج2، ص59، حدیث نمبر:370)

آپ نے کبھی چھنے ہوئے آٹے کی روٹی نہ کھائی۔
(
ترمذی،ج 8، ص367، حدیث نمبر:2287)

آپ کھیرا نمک کے ساتھ کھاتے تھے۔
(
وسائل الوصول، ص 180الشمائل الشریفۃ للسیوطی، ص 267)

آپ تر کھجور کے ساتھ تر بوزو خربوزہ تناول فرماتے تھے۔
(
سنن ابی داؤد، ج10، ص312، حدیث نمبر:3339)

آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے جو کا دلیہ کھانے کو دل کی تقویت کا باعث فرمایا۔
(
بخاری، ج17،ص32، حدیث نمبر:4997)

گائے کے دودھ اور مکھن کو شفا اور دوا،جبکہ اس کے گو شت (کی کثرت) کو بیماری کا باعث فرمایا۔
(
کنز العمال، ج10 ، ص30، حدیث نمبر:28209)

کھانے کی ابتدا اور اختتام نمکین چیزوں پر کرنے کو ستر (70) بیماریوں سے حفاظت قرار دیا۔
(
بہار شریعت، حصہ شانزدہم، ص381)

آپ کھانے کے فوراً بعد پانی نہ پیتے کیونکہ یہ نظام ہضم کو متاثر کرتا ہے۔ (مدارج النبوۃ، ج1، ص 466)

آقا کریم نے ناشتہ جلدی کرنے کو بہتر قرار دیا۔نیز فرمایا، رات کا کھانا ترک نہ کرو، کچھ نہیں تو مٹھی بھر کھجور ہی کھالیا کرو کیونکہ رات کا کھانا چھوڑ دینے سے بڑھاپا جلدی آتاہے۔
(
ابن ماجہ،ج 10، ص115، حدیث ن مبر:3346،  کنز العمال، ج10 ، ص46، حدیث نمبر:28290)

نبی کریم کی مبارک تعلیمات میں سب سے زیادہ اہمیت کم کھانے کو دی گئی۔

فرمانِ نبوی ہے،

’’کسی نے بھی پیٹ سے زیادہ برا برتن کوئی نہ بھرا۔ انسان کے لیے چند لقمے کافی ہیں جو اس کی کمر کو سیدھا رکھیں پھر بھی اگر زیادہ ضرورت ہو تو تہائی پیٹ کھانا، تہائی پیٹ پانی اور تہائی پیٹ سانس کے لیے رکھنا چاہیے‘‘۔ (ابن ماجہ،ج 4، ص28، حدیث نمبر:3349)

 

آپ نے مریضوں کو زبردستی کھلانے پلانے سے بھی منع فرمایا ہے چنانچہ ارشادِگرامی ہے،

’’تم زبردستی کر کے اپنے مریضوں کو کھانے پینے پر مجبور نہ کیا کرو، اللّٰہ تعالیٰ انہیں کھلا پلا دیتا ہے‘‘۔
(
ابن ماجہ،ج 10،ص245،حدیث نمبر:3435)

Share:
keyboard_arrow_up