Jamal e Mustafa

Total Pages: 120

Page 76 of 120
منقیٰ چہرے کے رنگ کو نکھارتا اور بلغم خارج کرتا ہے۔()
کدو عقل کو زیادہ کرتا ہے اور دماغ کو طاقت دیتا ہے۔()
آب زمزم جس مقصد کے لیے پیا جائے گا ،وہی فائدہ دے گا۔()
گو شت کو دانتو ں سے نوچ کر کھا نا چاہیے۔()
بے شک پشت کا گو شت بڑا اچھا ہو تا ہے۔()
میتھی سے شفا حاصل کیا کرو۔()
کھمبی آنکھو ں کے لیے شفا ہے۔()
گو شت کھانے سے سماعت میں اضافہ ہوتاہے۔()
عجوہ کھجور جنت سے ہے اور وہ جنون یاز ہر سے بھی شفا ہے۔()
اثمد سرمہ لگایا کرو کہ وہ بینائی زیادہ کرتا ہے اور پلکوں کے بال اگاتا ہے۔()
مکھی کے ایک پر میں زہر اور دوسرے میں شفا ہے اگر کھانے پینے کی چیز میں مکھی گر جائے تو اسے ڈبو کر نکال دو کیو نکہ وہ پہلے اُس پر کو گراتی ہے جس میں زہر ہے۔()
حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو جب کا نٹا چبھا یا پھنسی و غیرہ کا زخم ہوا ،آپ نے اس پر مہندی لگائی۔()
آپ نے آشوب چشم کے لیے کھجور سے پرہیز اور جو و چقندر کا کھانا مفید بتایا۔()
دھوپ سے گرم شدہ پانی کے استعمال کو برص کا سبب فرمایا۔()
نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے صفائی کو نصف ایمان قرار دیا۔()
کھانے پینے کی چیزوں کو ڈھانپ کر رکھنے کا حکم دیا۔()
آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے بارہا مسواک کرنے کی تاکید فرمائی۔()
آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے کبھی چھنے ہو ئے آٹے کی روٹی نہ کھائی۔()
آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کھیرا نمک کے ساتھ کھاتے تھے۔()
آپ تر کھجور کے ساتھ تر بوزو خربوزہ تناول فرماتے تھے۔()
آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے جو کا دلیہ کھانے کو دل کی تقویت کا باعث فرمایا۔()
گائے کے دودھ اور مکھن کو شفا اور دو ا،جبکہ اس کے گو شت (کی کثرت ) کو بیماری کا باعث فرمایا۔()
کھانے کی ابتدا اور اختتام نمکین چیزوں پر کرنے کو ستر (70)بیماریوں سے حفاظت قرار دیا۔()
آ پ کھانے کے فوراًبعد پانی نہ پیتے کیو نکہ یہ نظام ہضم کو متاثر کرتا ہے۔()
آقا کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ناشتہ جلدی کرنے کو بہتر قرار دیا۔نیز فرمایا، رات کا کھا نا ترک نہ کرو، کچھ نہیں تو مٹھی بھر کھجور ہی کھالیا کرو کیو نکہ رات کا کھانا چھوڑ دینے سے بڑھاپا جلدی آتاہے۔()
نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی مبارک تعلیمات میں سب سے زیادہ اہمیت کم کھانے کو دی گئی۔
فرمانِ نبوی ہے،’’کسی نے بھی پیٹ سے زیادہ برا بر تن کو ئی نہ بھرا۔ انسا ن کے لیے چند لقمے کا فی ہیں جو اس کی کمر کو سیدھا رکھیں پھر بھی اگر زیادہ ضرورت ہو تو تہائی پیٹ کھا نا، تہائی پیٹ پانی اور تہائی پیٹ سانس کے لیے رکھنا چاہیے‘‘۔()
آپ نے مر یضو ں کو زبر دستی کھلانے پلانے سے بھی منع فرمایا ہے چنانچہ ارشاد ِگرامی ہے، ’’تم زبردستی کرکے اپنے مریضوں کو کھا نے پینے پر مجبور نہ کیا کرو، اللہ تعالیٰ انہیں کھلاپلادیتا ہے‘‘۔()
16...اسلامی تفریحی مشاغل:
دینِ فطرت ، اسلام فرض و نفلی عبادات کے ساتھ ساتھ ان تفریحی مشاغل کی اجازت بھی دیتا ہے جن سے احکام الٰہی کی خلاف ورزی نہ ہوتی ہو، معاشرے میں کوئی خرابی نہ پھیلتی ہو اور نہ وہ اللہ تعالیٰ کی یاد سے غفلت کا باعث ہوں۔آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے قائم کردہ معاشرے میں مسلمانوں کے تفریحی مشاغل اوراس حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی سیرت مبارکہ کو پیش نظر رکھ کر ہم اپنے تفریحی مشاغل کی حدودکا تعین کرسکتے ہیں۔
رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے جن تفریحی مشاغل کو پسند فرمایا ہے وہ نہ صرف مسلمانوں کے لیے تفریح طبع کا باعث ہو تے بلکہ و ہ جسمانی طور پر طاقت میں اضافہ کا بھی ذریعہ ہو تے اور جہاد کے لیے عملی تربیت بھی ثابت ہوتے۔کم نصیبی سے آج جن چیزوں کو تفریح سمجھ لیا گیا ہے وہ نہ صرف بے حیائی اور گناہوں پر مشتمل ہیں بلکہ مسلمانوں کو جسمانی اور روحانی طور پر نا کارہ بنادیتے ہیں اور کھیل کے طور پر جن مشاغل کو اپنا یا گیا ہے، وہ معاشرتی ذمہ داریوں کے علاوہ بندے کو احکام الٰہی سے بھی غافل کردیتے ہیں۔
Share:
keyboard_arrow_up