Jamal e Mustafa

Total Pages: 118

Page 75 of 118

15...طبِ نبوی :

نبی کریم کا ارشادِ گرامی ہے،

اللّٰہ تعالیٰ نے ہر بیماری کی دوا پیدا فرمائی ہے۔
(
سنن ابی  داؤد، ج4، ص10، حدیث نمبر: 3874)

لیکن کسی حرام شے میں شِفا نہیں رکھی۔ (بخاری، ج17، ص433،حدیث نمبر:5246)

 

یہ بھی ارشاد ہوا کہ

ہر مرض کا علاج ہے اس لیے دوا اختیار کرو مگر حرام چیز سے ہر گز علاج نہ کرو۔ (سنن ابی داؤد،ج 10، ص371، حدیث نمبر:3376)

 

جس طرح بھوک اور پیاس کو ختم کرنے کے لیے کھانا پینا توکل کے منافی نہیں، اسی طرح بیماری سے شفا کی دعا مانگنا اور علاج کرانا بھی توکل کے منافی نہیں۔

سرکارِ دوعالم نے روحانی علاج بھی ارشاد فرمائے جیسا کہ:

بخاری و مسلم میں حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا سے روایت ہے کہ رسولِ معظم نے نظر بد سے بچنے کے لیے ہمیں دعا تعویذ کرانے کا حکم دیا۔

اسی طرح رحمتِ عالم نے مختلف امراض کے لیے مختلف چیزوں کا فائدہ مند ہونا بھی بیان فرمایا۔

اختصار کو مدنظر رکھتے ہوئے یہاں صرف چند طبعی ادویہ کا ذکر کرتے ہیں جنہیں رحمتِ عالم نے جسمانی صحت کے لیے مفید فرمایا ہے۔

 

ایک شخص بارگاہ نبوی میں عرض گذار ہوا، یا رسول اللّٰہ !میرے بھائی کو دست آرہے ہیں۔

ارشاد فرمایا، اسے شہد پلاؤ۔ وہ پھر آیا اور عرض کی، دستوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔ ارشاد فرمایا، اسے شہد پلاؤ۔ وہ پھر آیا اور عرض کی کہ دست کا سلسلہ جاری ہے۔ آپ نے پھر اسے شہد پلانے کا حکم دیا۔ اس نے عرض کی، اس سے تو فائدہ نہیں ہو رہا۔ فرمایا، اللّٰہ تعالیٰ کا فرمان سچا ہے اور تیرے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے (اس میں سورۃالنحل کی اس آیت کی طرف اشارہ ہے جس میں شہد کو شفا فرمایا گیا ہے) اس نے پھر جا کر شہدپلایا تو وہ مریض شفا یاب ہوگیا۔
(
بخاری،ج 17، ص442، حدیث نمبر:5252، مسلم ، ج4، ص1736، حدیث نمبر:2217)

 

فرمانِ نبوی ہے کہ:

جو شخص ہر ماہ میں تین دن صبح کو شہد چاٹ لیا کرے اسے کوئی بڑی بیماری نہ ہوگی۔
(
ابن ماجہ،ج 10، ص311، حدیث نمبر:3482)

 

دوسری حدیث میں ہے،

دو شفا والی چیزیں اختیار کرو، ایک شہد اور دوسری قرآن کریم۔
(
ابن ماجہ،ج 10، ص256، حدیث نمبر:3443،)

 

رحمتِ عالم ﷺ  کے چند ارشاداتِ عالیہ ملاحظہ ہوں:

کالا دانہ یعنی کلونجی میں سوائے موت کے ہر بیماری کی شفا ہے۔ (بخاری،ج 17،ص448،حدیث نمبر:5255)

 

اگرکوئی شے موت کا بھی علاج ہوتی تو وہ سناء ہوتی۔
(
مشکوٰۃ، ج2، ص527، حدیث نمبر:4537)

کوئی ایسا دن نہیں گزرتا کہ جنت کے پانی کے قطرے کا سنی کے پودے پر نہ گرتے ہوں۔

 

عود ہندی(قسط شیریں )کو شفا کے لیے استعمال کرو کیونکہ اس میں سات شفائیں ہیں۔
(
ابن ماجہ،ج 10، ص282،حدیث نمبر:3459)

 

زیتون کا تیل کھایا کرو اور بدن پر بھی لگایا کرو کیو نکہ وہ مبارک درخت سے نکلتا ہے۔
(
ترمذی،ج 7، ص44، حدیث نمبر:1774)

 

انار کو اس کے گودے یعنی باریک چھلکے سمیت کھاؤ کہ یہ معدہ کو زندگی دیتا ہے۔ (نہایہ، ابن اثیر، ج2، ص1110)

 

پانی کو چوس کر پیو کہ یہ زود ہضم ہے اور بیماری سے بچاؤ ہے۔(مسندفردوس، ج1، ص275، حدیث نمبر:1070)

 

نہار منہ کھجور یں کھانے سے پیٹ کے کیڑے مرجاتے ہیں۔
(
جامع الصغیر،حدیث نمبر:6394)

Share:
keyboard_arrow_up